نٹھاری قتل کیس میں مجرم سریندر کولی اور منندر سنگھ پنڈھیر کو پھانسی کی سزا

غازی آباد۔ اترپردیش میں غازی آباد کی خصوصی مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) عدالت نے ایک 20 سالہ لڑکی کی عصمت دری اور قتل کے معاملے میں منندر سنگھ پنڈھیر اور سریندر کولی کو آج پھانسی کی سزا سنائی۔

Jul 24, 2017 02:44 PM IST | Updated on: Jul 24, 2017 02:44 PM IST

غازی آباد۔ اترپردیش میں غازی آباد کی خصوصی مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) عدالت نے ایک 20 سالہ لڑکی کی عصمت دری اور قتل کے معاملے میں منندر سنگھ پنڈھیر اور سریندر کولی کو آج پھانسی کی سزا سنائی۔ عدالت نے دونوں کو لڑکی کے اغوا، آبروریزی، قتل اور مجرمانہ سازش کا مجرم قرار دیا ۔ یہ واردات 29 دسمبر 2006 کا ہے۔ دونوں ہی قصوروار لمبے عرصے تک سرخیوں میں چھائے رہنے والی نٹھاری واردات کے کلیدی ملزم ہيں۔ یہ معاملہ نٹھاری واردات سے متعلق آٹھواں معاملہ ہے۔

بتا دیں کہ 31 اکتوبر 2006 کو ایک لڑکی اچانک غائب ہو گئی تھی۔ اس کے بعد پورے نٹھاری معاملے کا انکشاف ہوا تھا، جس میں جیوتی، پشپا وشواس، نندا دیوی، پائل، رچنا، ہرش، کو. نشا، رمپا هلدھر، ستیندر، ديپالی، آرتی، پائل، پنکی سرکار، انجلی، سونی، شیخ رضا خان اور بینا کا قتل کیا گیا تھا۔ ابتدائی جانچ میں پتہ چلا تھا کہ 20 جون، 2005 کو 8 سال کی ایک بچی جیوتی کے نٹھاری علاقے سے غائب ہونے کے بعد سے بچیوں-لڑکیوں کے غائب ہونے کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا۔ معاملے کی سنجیدگی کو دیکھتے ہوئے پولیس کی مختلف ٹیموں نے قومی دارالحکومت خطہ سمیت ملک کے کئی علاقوں میں سرچ آپریشن چلایا۔ لیکن کوئی سراغ نہیں ملا۔

نٹھاری قتل کیس میں مجرم سریندر کولی اور منندر سنگھ پنڈھیر کو پھانسی کی سزا

سات مئی 2006 کو 21 سال کی لڑکی پائل جب غائب ہوئی تو پولیس کو اہم سراغ اس کے موبائل سے ملا۔ پولیس نے اس نمبر کی کال ڈٹیل نکلوائی۔ اس کے بعد جب اس میں سے ایک نمبر پر کال کیا گیا تو اس کا نام مونندر سنگھ پنڈھیر کا تھا۔ اس کے بعد جب سختی سے پوچھ گچھ ہوئی تو پتہ چلا کہ کئی لڑکیوں اور بچیوں کے ساتھ ریپ کے بعد انہیں مار کر پنڈھیر کے گھر میں دفن کر دیا گیا تھا۔

Loading...

Loading...

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز