نتن گڈکری ایران میں روحانی کی حلف برداری تقریب میں شرکت کریں گے

ایک سوال کے جواب میں مسٹر گڈ کری نے بتا یا کہ ہند ایران تعلقات زبان، تہذیب اور معاشرت کے اعتبار سے اگرچہ تاریخی حیثیت کے حامل ہیں لیکن اس رشتے کو پچھلے سال وزیر اعظم نریندر مودی کے دورے نے نئی جہتوں سے آشنا کیا ۔

Aug 05, 2017 12:01 PM IST | Updated on: Aug 05, 2017 12:01 PM IST

نئی دہلی۔ ہند۔ ایران تعلقات کو مہمیز لگانے میں چابہار بندر گاہ گیم چینجر ثابت ہونے جا رہی ہے۔ نقل و حمل کے مرکزی وزیر نتن گڈ کری نے ایران میں صدر حسن روحانی کے دوسرے صدارتی عہد کی حلف بردای کی تقریب میں ہندستان کی نمائندگی کے لئے روانہ ہونے قبل آج یہ مژدہ سنایا۔ اپنی رہائش گاہ پر اخباری نمائندوں سے اپنے اس دوروزہ دورے پربات چیت میں انہوں نے کہا کہ یہ بندرگاہ 12 سر ا18 ماہ کے اندر کام کرنا شروع کردے گی۔ اس دورے میں وہ اس کی مشنری خریداری کا عمل پورا کریں گے جس پر کوئی 400 کروڑ روپے کی لاگت آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ بندرگاہ نہ صرف ایران اور افغانستان کےساتھ تجارت کی راہ ہموار کر دے گی بلکہ اس کے ساتھ ہی ریل اور سڑک رابطے کا دائرہ روس تک وسیع ہونے جارہا ہے جو اقتصادی محاذ پر ہندستان اور متعلقہ ملکوں کے لئے گیم چینجر ثابت ہوگا۔

چابہار حکمت عملی کے اعتبار سے اس لئے زیادہ اہم ہے کہ وہ ایران سے افغانستان تک رسائی کو محفوظ بنا سکتا ہے۔ چاروں طرف سے بری سرحدوں سے گھرے افغانستان تک ہندستان کی براہ پاکستان رسائی کبھی آسان نہیں رہی کیونکہ پاکستان کے ساتھ کشیدہ تعلقات ہمیشہ اس راہ میں حائل رہے۔

نتن گڈکری ایران میں روحانی کی حلف برداری تقریب میں شرکت کریں گے

نتن گڈکری: فائل فوٹو

ایک سوال کے جواب میں مسٹر گڈ کری نے بتا یا کہ ہند ایران تعلقات زبان، تہذیب اور معاشرت کے اعتبار سے اگرچہ تاریخی حیثیت کے حامل ہیں لیکن اس رشتے کو پچھلے سال وزیر اعظم نریندر مودی کے دورے نے نئی جہتوں سے آشنا کیا ۔ اسی دورے میں ہندستان اور ایران نے ایک سہ فریقی راہداری معاہدہ کیا جس کی رو سے سمندری جہاز کے ذریعہ چابہار بندرگارہ تک اشیا کی ترسیل کا دائرہ بذریعہ ریل ایران افغان سرحد پر زاہدان تک وسیع کیا جائے گا۔وہاں سے سڑک رابطہ ٹرکوں کے ذریعہ اندرون افغانستان تک اشیاکی ترسیل کو ممکن بنائے گا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز