کشمیر میں محرم کے ماتمی جلوسوں پر کوئی پابندی نہیں : جموں وکشمیر حکومت

Sep 27, 2017 11:12 PM IST | Updated on: Sep 27, 2017 11:12 PM IST

سری نگر: جموں وکشمیر حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ وادی کشمیر میں محرم کے ماتمی جلوسوں پر کوئی پابندی عائد نہیں ہے۔ ایک سرکاری ترجمان نے بدھ کی شام یہاں جاری ایک بیان میں کہا ’حکومت نے وضاحت کی ہے کہ کشمیر میں محرم کے جلوسوں پر کسی بھی قسم کی پابندی عائد نہیں ہے جیسا کہ سری نگر سے شائع ہونے والے ایک انگریزی روز نامہ میں آج گمراہ کن رپورٹ شائع ہوئی ہے‘۔ مذکورہ میڈیا رپورٹ پر اپنے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے صوبائی کمشنر کشمیر بصیر خان نے کہا کہ حکومت نے پہلے ہی مختلف سطحوں پر یہ واضح کیا ہے کہ محرم کے روایتی جلوسوں کو روایات کے تحت نکالنے کی اجازت دی گئی ہے جس کے لئے انتظامیہ نے مطلوبہ انتظامات بھی کر رکھے ہیں۔

صوبائی کمشنر نے کہا کہ محرم کے لئے انتظامات کا اعلیٰ سطح پر جائزہ لیا گیا جہاں اشیاء ضروریہ کی دستیابی بشمول پینے کے پانی، بلا خلل بجلی، آگ سے بچاؤ کی خدمات، سٹریٹ لائٹنگ، راشن، ٹریفک کے انتظام، بالن کی فراہمی اور شیعہ آبادی والے علاقوں کے ارد گردسیکورٹی انتظامات کا مفصل جائزہ لے کر منصوبہ بندی کی گئی ۔ حکومتی بیان کے برعکس وادی کی گرمائی دارالحکومت سری نگر کے گروبازار اور آبی گذر (تاریخی لال چوک) علاقوں سے برآمد ہونے والے 8 ویں اور 10 ویں محرم الحرام کے تاریخی ماتمی جلوسوں پر ریاست میں ملی ٹنسی کے آغاز یعنی 1989 سے پابندی عائد ہے۔

کشمیر میں محرم کے ماتمی جلوسوں پر کوئی پابندی نہیں : جموں وکشمیر حکومت

اِن دو تاریخی ماتمی جلوسوں پر 1989 میں اُس وقت کے ریاستی گورنر جگ موہن نے پابندی عائد کردی تھی۔ اگرچہ پابندی کے خلاف جموں وکشمیر اتحادالمسلمین نے 2008 میں جموں وکشمیر ہائی کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا تھاتاہم کوئی مثبت نتیجہ برآمد نہیں ہوا۔ کشمیری شیعہ مسلمانوں کا کہنا ہے کہ محرم جلوسوں پر عائد پابندی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ ’عالمی منشور اور ہندوستانی آئین کے تحت مختلف مذاہب کے ماننے والے لوگوں کو مذہبی معاملات بجا لانے ، مذہبی تقریبات کا انعقاد کرنے اور مذہبی جلوس نکالنے کا حق حاصل ہے مگر کشمیر میں انتظامیہ حالات کو بنیاد بناکر دو تاریخی محرم جلوسوں پر پابندی لگائی ہوئی ہے‘۔

جموں وکشمیر اتحاد المسلمین کے سرپرست اعلیٰ اور حریت کانفرنس کے سابق چیئرمین مولانا محمد عباس انصاری کا کہنا ہے کہ 8اور10محرم کے جلوسوں پر گزشتہ 28سال سے لگاتار پابندی جاری ہے اور بار بار کے صدائے احتجاج بلند کرنے کے باوجود وقت کے حکمران ان جلوسوں پر سے پابندی ہٹانے میں لیت و لعل سے کام لے رہے ہیں اور محض امن و قانون کا بہانہ بنا کر ان پابندیوں کو بلا وجہ طول دیا جا رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ان تاریخی جلوسوں پر پابندی ہماری مذہبی آزادی کا گلا گھونٹنے کے مترادف ہے اور وقت آگیا ہے کہ مسلمانان کشمیر سرکاری سطح پر روا رکھی جا رہی ان زیادتیوں کے خلاف پر امن احتجاج بلند کریں۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز