تاریخی کتابوں میں کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی، نئی تعلیمی پالیسی کے بعد ہی نیا نصاب ہوگا تیار : این سی ای آر ٹی

Sep 14, 2017 05:07 PM IST | Updated on: Sep 14, 2017 05:07 PM IST

نئی دہلی: قومی تعلیمی تحقیقی اور تربیتی کونسل (این سی ای آرٹی) تاریخ کی کتابوں میں کسی طرح کی تبدیلی نہیں کرنے جا رہی ہے اور نئی تعلیمی پالیسی بننے کے بعد ہی وہ نصاب تیار کرے گی جس کی بنیاد پر ہی کتابوں میں کوئی تبدیلی کی جائے گی۔ این سی ای آر ٹی کے ڈائریکٹررشی کیش سینا پتی نے یہ بھی واضح کیا کہ این سی ای آر ٹی کی کل 182 کتابوں کا جائزہ لینے کے دوران موصول شدہ تجاویز اور اعداد و شمار اور تازہ ترین معلومات کے بنیاد پر 1334 تبدیلی کئے جانے ہیں لیکن وہ سب کی سب غلطیاں نہیں ہیں جیسا کہ گزشتہ دنوں اخبارات میں شائع ہواہے۔

یہ پوچھے جانے پر کہ آر ایس ایس سے منسلک ماہرتعلیم و لیڈر دینا ناتھ بترا نے این سی ای آر ٹی کی کتابوں میں پڑھائی جانے والی تاریخ پر اعتراض کیا تھا اور اس میں تبدیلی کئے جانے کی تجویز بھی پیش کی تھی جس پرکافی تنازعہ بھی ہوا تھا، توکیا اس تعلق سے بھی کسی طرح کی تبدیلی کی جا رہا ہے، مسٹر سیناپتی نے کہا کہ مسٹر بترا کا کوئی خط ہمیں موصول نہیں ہواہے، لہذا ان کی کوئی تجویز بھی موصول نہیں ہوئی ہے۔ انہوں نے واضح لفظوں میں کہا کہ تاریخی کتابوں میں کوئی تبدیلی نہیں کی جا رہی ہے۔

تاریخی کتابوں میں کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی، نئی تعلیمی پالیسی کے بعد ہی نیا نصاب ہوگا تیار : این سی ای آر ٹی

علامتی تصویر

یہ پوچھے جانے پر کہ کیا این سی ای آر ٹی کے کام کاج پر آر ایس ایس یا حکومت کی طرف سے کوئی دباؤ کام کرتا ہے یا کسی طرح کی کوئی مداخلت ہے تو انہوں نے کہا کہ اس طرح کا کوئی دباؤ ان پر کبھی نہیں آیا۔ ہم آزادانہ طور پر کام کر رہے ہیں۔ لہذا، کتابوں سے کسی طرح کامواد نہیں ہٹا یا گیا ہے۔ یہ پوچھے جانے پر کہ ان کتابوں کا جائزہ لینے کے بعد نئی کتابیں کب تک شائع ہوجائیں گی، انہوں نے کہا کہ اگلے سال نئے اکیڈمک سیشن سے یہ کتابیں تیار ہو جائیں گی۔

انہوں نے بتایا کہ این آر سی ٹی کو 920 تجاویز آن لائن موصول ہوئی ہیں اور ان میں سے بھی اصل تجاویزتو 221 ہی تھیں دیگر 345 حقائق اور اعداد و شمار کو اپ ڈیٹ کرنے سے متعلق ہیں۔ مثلا اب نئے صدر رام ناتھ كووند ہو گئے تو اب کتابوں میں سے سابق صدر پرنب مکرجی کا نام ہٹ جائے گا۔ نئی مردم شماری کے مطابق متعدد اعداد و شمار بھی بدل جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ کتابوں میں غلطیاں بھی بہت معمولی ہیں اور وہ زیادہ سے زیادہ پرنٹنگ کی خامیاں ہیں جنہیں بھی درست کیا جا رہا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ نئی تعلیمی پالیسی بننے کے بعد ہی نئی نصاب تیار کی جائے گی اور اس کی بنیاد پر ہی نئی کتابیں پھر سے تیار ہوں گی، تو اب ان کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ کتابوں میں کس طرح کی تبدیلیاں ہوں گی۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز