علما کی مسلمانوں سے عید الاضحی کی نماز کے بعد گلے نہ ملنے اپیل ، پڑھیں کیا ہے وجہ ؟ 

Sep 01, 2017 09:40 PM IST | Updated on: Sep 01, 2017 09:41 PM IST

لکھنو : اترپردیش میں بڑے پیمانے پر سوائن فلو پھیلنے کے بعد علما نے عید الاضحی کے موقع پر مسلمانوں سے گلے نہیں ملنے کی اپیل کی ہے۔ خیال رہے کہ اترپردیش کے 75 میں سے 66 اضلاع میں سوائن فلو کے مریض ملے ہیں۔ مسلم پرسنل لا بورڈ کے ممبر مولانا خالد رشیدفرنگی محلی نے اپیل جاری کی ہے کہ عید الاضحی کی نماز کے بعد گلے نہ ملیں بلکہ سلام کرکے ایک دوسرے کو مبارکباد دیں، کیونکہ گلے ملنے سے سوائن فلو کا خطرہ ہے۔ معروف عالم دیں مولانا کلب جواد نے بھی لوگوں سے اپیل کی ہے کہ گلے ملتے وقت ماسک کا اہتمام کریں ۔

این ڈی ٹی وی کی خبر کے مطابق مولانا خالد رشید فرنگی محلی نے کہا ہے کہ اترپردیش کی 20 فیصد آبادی مسلم ہے ، ان میں زیادہ تر لوگ عید کی نماز ادا کرتے ہوئے اور ایک دوسرے سے گلے ملتے ہیں ۔ چونکہ ہاتھ ملانے یا گلے ملنے سے سوائن فلو کے انفیکشن کا خطرہ ہے ، اس لئے نماز کے بعد گلے ملنے کی بجائے صرف سلام کریں اور مبارکباد دیں۔ خدا بھی اپنے بندوں کی حفاظت چاہتا ہے ۔ اگر کوئی تہوار سوائن فلو پھیلنے کی وجہ بن جائے تو یہ شرم کی بات ہے۔

علما کی مسلمانوں سے عید الاضحی کی نماز کے بعد گلے نہ ملنے اپیل ، پڑھیں کیا ہے وجہ ؟ 

علامتی تصویر

معروف شیعہ عالم دیں مولانا کلب جوادکا کہنا ہے کہ عید کی تو پہچان ہی گلے ملنے سے ہے اور یہ موقع گلے مل کر گلے شکوے دور کرنا کا بھی ہے ۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ انسانوں کی جان بہت قیمتی ہے ، اس لئے ماسک پہن کر گلے ملیں گے ، تو زیادہ اچھا ہے۔

خیال رہے کہ اترپردیش کے 75 اضلاع میں سے 66 اضلاع میں یعنی ریاست کے تقریبا 88 فیصد علاقوں میں سوائن فلو کے مریض ملے ہیں ، لیکن سوائن فلو کے کل 2725 مریضوں میں 1622 صرف لکھنو میں ہیں۔ اب تک 12 افراد کی موت ہوگئی ہے۔ عید کی سب سے بڑی نماز بھی لکھنو میں ہی ادا کی جاتی ہے ، اس لئے علما نے مسلمانوں سے یہ اپیل کی ہے کہ گلے ملنے سے حتی الامکان گریز کریں یا پھر ماسک کا اہتمام کریں ۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز