قبروں کی کھدائی کے معاملہ میں تیستا سیتلواڈ کو سپریم کورٹ سے نہیں ملی راحت ، مقدمہ کا کرنا پڑے گا سامنا

Jul 10, 2017 09:50 PM IST | Updated on: Jul 10, 2017 09:50 PM IST

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے گجرات کے پنڈرواڑا قبر کی کھدائی معاملے میں سماجی کارکن تیستا سیتلواڈ کو راحت دینے سے آج انکار کر دیا۔ تیستا اور ان کے شوہر جاوید آنند کے خلاف الزام ہے کہ انہوں نے 2002 کے گجرات فسادات میں مدفون لاشوں کو غیر قانونی طریقے سے کھدائی کرکے نکالا تھا۔ جسٹس ارون مشرا اور جسٹس امیتابھ رائے کی بنچ نے سیتلواڈ جوڑے سے مقدمہ کا سامنا کرنے کیلئے کہا۔ نچلی عدالت میں تیستا اور ان کے شوہر کے خلاف مقدمہ چل رہا ہے۔

کورٹ نے تیستا کی جانب سے سینئر وکیل کپل سبل سے پوچھا کہ جب چارج شیٹ نچلی عدالت میں ہے تو درخواست گزار نچلی عدالت کے سامنے اپنا موقف کیوں نہیں رکھنا چاہتے؟ عدالت نے گجرات ہائی کورٹ کے خلاف سیتلواڈ جوڑے کی اپیل مسترد کرتے ہوئے کہا کہ درخواست گزار کو نچلی عدالت کے سامنے اپنا موقف رکھنے کی چھوٹ دی جاتی ہے۔

قبروں کی کھدائی کے معاملہ میں تیستا سیتلواڈ کو سپریم کورٹ سے نہیں ملی راحت ، مقدمہ کا کرنا پڑے گا سامنا

گجرات حکومت نے اپنے حلف نامے میں لکھا ہے کہ اس معاملے میں سیتلواڈ کے خلاف کی جانے والی انکوائری درست ہے۔ حلف نامہ میں کہا گیا ہے کہ انہوں نے بغیر اجازت کے پنڈرواڑا اور خان پور تعلقہ کے ارد گرد کے دیہات میں قبروں سے 28 لاشیں باہر نکالی تھیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس کیس کے دیگر ملزمان نے اپنے بے گناہ ہونے کی بات کہتے ہوئے دعوی کیا تھا انہیں سیتلواڑ نے اس کے لیے اکسایا تھا۔ لاش کی کھدائی کے لئے کسی کو اكسانا تعزیری سرگرمیوں کے زمرے میں آتا ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز