ہند - چین کے درمیان زمینی کشیدگی یا تصادم کی کوئی صورتحال نہیں، سفارتی سطح پر گفتگو جاری : جے شنکر

Jul 18, 2017 10:23 PM IST | Updated on: Jul 18, 2017 10:25 PM IST

نئی دہلی: خارجہ سکریٹری ایس جے شنكر نے پارلیمنٹ کی خارجہ امور کی مجلس قائمہ کو سكم- بھوٹان سرحد پر ڈوكالم علاقے میں ہند اور چین کی فوج کے درمیان تعطل کے سلسلے میں آج بتایا کہ دونوں ممالک کے درمیان زمینی سطح پر کشیدگی یا تصادم کی کوئی صورت حال نہیں ہے اور اس معاملے پر سفارتی سطح پر بات چیت کر رہے ہیں۔ ڈاکٹر جے شنكر نے یہاں کانگریس کے ایم پی اور سابق وزیر مملکت امور خارجہ ششی تھرور کی صدارت والی کمیٹی کےدو گھنٹے سے زیادہ چلنے والے اجلاس میں چین - ہندوستان تعطل کے ہر پہلو پر ممبران پارلیمنٹ کے تجسس کا تفصیلی جواب دیا۔

میٹنگ میں شامل ہوئے 20 ارکان میں کانگریس نائب صدر راہل گاندھی بھی شامل تھے۔ میٹنگ میں شامل ایک رکن پارلیمنٹ کے مطابق مسٹر گاندھی نے کئی اہم سوال پوچھے اور وہ خارجہ سکریٹری کے جواب سے مطمئن نظر آئے۔ میٹنگ کے بعد مسٹر تھرور نے نامہ نگاروں سے کہا کہ میٹنگ میں بہت تفصیلی بات چیت ہوئی۔ ارکان کے ہر سوال کا تسلی بخش جواب ملا۔ مجموعی طور پر اجلاس بہت بامعنی اور مفید رہا۔

ہند - چین کے درمیان زمینی کشیدگی یا تصادم کی کوئی صورتحال نہیں، سفارتی سطح پر گفتگو جاری : جے شنکر

میٹنگ میں شامل ایک اور ممبر پارلیمنٹ نے کہا کہ خارجہ سکریٹری نے بتایا کہ چین کی جانب سے 1962 کے بعد سے ایسے واقعات کئی بار ہوئے ہیں لیکن اس بار چین نے اپنے میڈیا کے ذریعے اس پر بہت جارحانہ رخ اختیار کیا ہے۔ اگرچہ زمین پر کشیدگی اور فوجی تصادم کے حالات نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا میں جو دکھایا جا رہا ہے، وہ صحیح نہیں ہے۔

ممبر پارلیمنٹ نے بتایا کہ مسٹر گاندھی نے خارجہ سکریٹری سے جموں کشمیر کی صورت حال اور روس، ایران، ترکی کے طور پر پرانے دوست ممالک کے رویہ کے بارے میں بھی سوال پوچھے۔ دارجلنگ علاقے میں گورکھا تحریک کے سلسلے میں چین کے کردار کے سلسلے میں بھی سوال کئے گئے۔بھوٹان اور ہندوستان کے تعلقات اور بھوٹان اور چین کے درمیان تعلقات کو لے کر بھی سوال پوچھے گئے۔ ممبر پارلیمنٹ نے کہا کہ خارجہ سکریٹری نے قابل اطمینان جواب دیئے اور کہا کہ حکومت چین کے ساتھ سفارتی رابطے میں ہے اور امید ہے کہ اس تعطل کو سفارتی ذریعے سے دور کر لیا جائے گا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز