جب تین طلاق کا معاملہ کورٹ میں ہے تو قانون کی بات کہاں سے آگئی ، پڑھیں مودی حکومت کے موقف پر علما کا کیا ہے کہنا ؟

May 15, 2017 08:12 PM IST | Updated on: May 15, 2017 08:12 PM IST

نئی دہلی : تین طلاق کے معاملہ پر سپریم کورٹ میں مرکزی حکومت نے آج اپنا موقف رکھا ہے۔ سماعت کے دوران اٹارنی جنرل کی جانب سے کہا گیا کہ حکومت تین طلاق پر قانون لانا چاہتی ہے۔ حکومت کے اس فیصلے پر مسلمانوں نے اعتراض کیا ہے ۔

ان کا کہنا ہے کہ جب یہ معاملہ سپریم کورٹ میں ابھی زیر سماعت ہے تو ابھی اس سلسلہ میں قانون بنانے کا کیا مطلب ہے ۔ نیوز 18 ہندی ڈاٹ کام نے کچھ مسلم سے بات چیت کرکے ان کی رائے جاننے کی کوشش کی ۔

جب تین طلاق کا معاملہ کورٹ میں ہے تو قانون کی بات کہاں سے آگئی ، پڑھیں مودی حکومت کے موقف پر علما کا کیا ہے کہنا ؟

مفتی حسن منصور، دارالعلوم ندوۃ العلماء، لکھنو

پہلے تو حکومت نے کہا تھا کہ تین طلاق پر سپریم کورٹ جو فیصلہ کر ے گا وہ ہی قابل قبول ہوگا اور اب اگر حکومت کہہ رہی ہے کہ ہم قانون لائیں گے ، تو یہ تو غلط ہے۔ پہلے انہیں کورٹ کے فیصلہ کا انتظار کرنا چاہئے، ویسے تو وہ حکومت ہے جو چاہے کر سکتی ہے۔

مفتی محمد سلیم نوری، مرکزاہل سنت بریلي

اصل میں حکومت کو عدالت میں اپنا مقصد پورا ہوتا ہوا نہیں نظر آ رہا ہے۔ حکومت کا مقصد صرف شرعی قوانین سے چھیڑ چھاڑ کرنا ہے۔ اپنے اسی مقصد کو پورا کرنے کے لئے حکومت قانون لانے کی بات کر رہی ہے، لیکن ہم اس قانون کو بھی چیلنج کریں گے۔

مفتی احسان ، دارالعلوم، دیوبند

تین طلاق کو حکومت شاید مذاق سمجھ رہی ہے، یہ شریعت سے وابستہ معاملہ ہے، بہتر ہو گا حکومت سپریم کورٹ کو اس معاملہ میں سماعت پوری کر لینے دے،جب آپ قانون کی بات کرتے ہیں تو پھر قانونی طور پر ہی اس پر بات چیت بھی ہونے دیں، ورنہ تو حکومت کی اپنی من مرضی ہے۔

شائستہ عنبر، آل انڈیا مسلم خواتین پرسنل لاء بورڈ

مرکزی حکومت کی بات کریں تو وہ مکمل طور پر تین طلاق کے معاملہ میں سیاست کر رہی ہے۔ جب معاملہ کورٹ میں ہے ، تو قانون بنانے کی بات کرنا بے معنی ہے۔ حکومت کورٹ میں اپنے اعتماد کو بنا کر رکھےاور اگر قانون لانا ہی ہے تو قرآن کی روشنی میں مسلم میرج ایکٹ بنایا جائے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز