مدارس اسلامیہ کو نوٹس مذہبی آزادی کی صریحاً خلاف ورزی : مولانا ارشد مدنی ، حکومت کو جواب دینے کیلئے وکلا کی ٹیم تیار

Oct 16, 2017 11:55 PM IST | Updated on: Oct 16, 2017 11:55 PM IST

نئی دہلی: ملک کی بیشتر ریاستوں بالخصوص اتر پردیش میں واقع مدارس اسلامیہ کو’بیسک شکشا ادھیکاریوں ‘کے ذریعے مختلف معاملات میں جاری کردہ نوٹس آئین ہند میں اقلیتوں کو دی گئی مذہبی آزادی کی صریحاً خلاف ورزی ہے ، جو نا قابل برداشت ہے ۔مدارس اسلامیہ ان نوٹسوں کے جال میں نہ پھنسیں اور ان کا صحیح جواب داخل کر یں ، اس کے لئے جمعیۃ علما ہند نے ماہر اور تجربہ کار وکلاء کی ایک ٹیم بھی تیار کر دی ہے۔ جمعیۃ نے مدارس اسلامیہ کے تحفظ کے لئے ’مدارس ایسوسی ایشن ‘ کے قیام کی تجویز بھی منظور کی ہے ،ورکنگ کمیٹی نے جمعیۃلیگل سیل کا دفتردہلی میں بھی قائم کرنے کی منظوری دی ہے اس کا اعلان مولانا سید ارشدمدنی نے جمعیۃعلماء ہند کی قومی مجلس عاملہ کے اختتام کے بعد کیا ۔ اس موقع پر روہنگیامسلم پناہ گزینوں کی امداد،جد و جہد آزادی میں مدارس کا رول ، آسام میں لاکھوں مسلمانوں پر غیر ملکی شہریت کی لٹکتی تلوار سمیت کئی اہم ایشوز پر تبادلہ خیال کیا گیا اور تجاویز پیش کی گئیں

میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے مولانا سید ارشد مدنی نے کہا کہ ملک کی آزادی کی جد و جہد میں مدارس اسلامیہ کا ناقابل فراموش کردار رہا ہے ۔آزادی کے بعد ملک کے آئین میںہر مذہب کے پیروکاروں کو اپنے مذہبی رسم و رواج ادا کرنے کی مکمل آزادی دی گئی ہے ۔ جس کے تحت مسلم نوجوان نسل کی بقا اور انہیں دینی تعلیم سے مالا مال کرنے کی غرض سے مدارس مسلسل اپنا فرض ادا کرتے آ رہے ہیں ۔مدارس اسلامیہ کے تحت ایک ایسا نظام قائم کیا گیا ہے جس میں حکومت کے تعاون سے در گذر کرتے ہوئے آزادانہ طور پر قوم اورمذہب کا تحفظ کیا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے نفرت کا بازار گرم کرنے والوں کوجو آزادی دی ہے یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ آج یو پی میں بیسک شکشا ادھیکاری بغیر کسی اختیار کے مدارس کو خوف زدہ کرنے کے علاوہ نوٹس جاری کر کے انہیں بند کر ادینے کی دھمکیاں دے رہے ہیں ۔ مولانا مدنی نے کہا کہ ریاستی حکومت کے افسران کی یہ کارروائی آئین ہند میں دی گئی مذہبی آزادی کی صریحاً خلاف ورزی ہے ۔انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ایسے کسی بھی مدرسہ کو جو کسی مدارس بورڈ سے وابستہ نہیں ہے اور،جو حکومت سے کوئی مالی تعاون حاصل نہیں کرتا ، اسے کوئی نوٹس جاری نہیں کیاجا سکتا۔نوٹس اسی مدرسہ کوبھیجا جا سکتا ہے جو سرکار سے منظور شدہ اور کسی مدارس بورڈ سے منسلک ہو اور اس سے مالی و دیگر مراعات حاصل کر رہا ہو ۔ مولانا مدنی نے کہا کہ اگر کسی مدرسہ کو نوٹس ملتا ہے تو وہ خوف زدہ نہ ہو اور تعلیمی سلسلہ برقرار رکھے اور نوٹس کا قانونی طور سے جواب دیا جائے۔مدارس اسلامیہ ان نوٹسوں کے جال میں نہ پھنسیں اور ان کا صحیح جواب داخل کر سکیں ، اس کے لئے جمعیۃ علما ہند نے ماہر اور تجربہ کار وکلاء کی ایک ٹیم بھی تیار کر دی ہے۔ جس نے مدارس کو جواب کا وہ مسودہ فراہم کرایا ہے جو جواب کی شکل میں حکومت کو دینا ہے۔واضح ہو کہ سپریم کورٹ میں 11ججوں کی ایک ڈویزن مقدمہ نمبر 537اور 481 میں وضاحت کر دی تھی کہ آئین کے آرٹیکل 30(1)کے تحت مدارس چونکہ اقلیتی تعلیمی ادارے ہیں اس لئے ان پر مدرسہ ایکٹ 2012کے تحت کارروائی نہیں کی جا سکتی۔ جمعیۃ نے مدارس اسلامیہ کے تحفظ کے لئے ایک ’مدارس ایسوسی ایشن ‘ کے قیام کی تجویز بھی پاس کی ہے، جومستقبل میں مدارس کی صورتحال پر نظر رکھے گی اور جہاں ضروری ہوا جمعیۃ علماء ہند قانونی چارہ جوئی کرے گی۔مولانا مدنی نے مرکز اور ریاستی حکومت کو انتباہ دیا کہ وہ اپنے افسران کو تاکید کریں کہ وہ مدارس کے لئے بلا وجہ پریشانیاں پیدا نہ کریں ۔

مدارس اسلامیہ کو نوٹس مذہبی آزادی کی صریحاً خلاف ورزی : مولانا ارشد مدنی ، حکومت کو جواب دینے کیلئے وکلا کی ٹیم تیار

مولانا ارشد مدنی، فائل فوٹو

روہنگیائی پناہ گزینوں کے تعلق سے حکومت کی پالیسی پر بھی اظہار تشویش کیا گیا۔تجویزمیں کہا گیا کہ روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی اور عسکری تشدد پوری دنیا کے سامنے عیاں ہے۔اس کی وجہ سے اب تک لاکھوں کی تعداد میں بوڑھے، بچے اور خواتین میانمارچھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں اور ان گنت لوگوں کا بہیمانہ قتل کر دیا گیا ۔بہت بڑی تعداد میں روہنگیائی مسلمانوں نے بنگلہ دیش میں داخل ہو کر پناہ لی ہے ۔مولانا مدنی نے کہاکہ افسوس کی بات ہے کہ ان حالات پر عالمی برادری کا جو رد عمل سامنے آنا چاہئے تھا وہ نہیں آیا، البتہ بنگلہ دیش حکومت نے اس معاملہ میں وسیع النظری کا ثبوت دیا اور روہنگیائی پناہ گزینوں کی انسانی طور پر ہر ممکن امداد کا بیڑا اٹھایا۔ اس کے لئے بنگلہ دیش حکومت کی ستائش کی جانی چاہئے۔انہوں نے کہا کہ جمعیۃ علما ہند عالمی برادری سے اپیل کرتی ہے کہ وہ روہنگیائی مسلمانوں کے تئیں بیداری اور انسانیت نوازی کا ثبوت دے۔میانمار کے پناہ گزینوں کے تعلق سے حکومت ہند کی پالیسی انہیں موت کے منہ میں دھکیلنے کے مترادف اور ہندوستان کی قدیمی تاریخی روایات کیخلاف ہے۔جمعیۃ علما ہند نے اپنی تجویز میں حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ روہنگیائی مسلمانوں کو انسانیت کی بنیاد پر ہندوستان میں رہنے کی اجازت دے۔میٹنگ کے دوران آسام میں جاری غیر ملکی شہریت معاملہ پربھی غور و فکر کیا گیا ۔ یہ معاملہ اس وقت سپریم کورٹ میں زیر غور ہے اور جمعیۃ علما ہند بھی اس میں ایک فریق ہے۔اس تعلق سے صدر جمعیۃ مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ کشمیر کے بعد مسلمانوں کی سب سے بڑی آبادی آسام میں ہی ہے ، اس لئے وہاں ہمیشہ سے فرقہ پرست قوتیں مسلمانوں کی آبادی کوکم کرنے کے لئے سازشیں کرتی رہی ہیں ۔اسی کا نتیجہ ہے کہ آج لاکھوں خواتین کے سر پر غیر ملکی شہریت کی تلوار لٹک رہی ہے ۔

میٹنگ میں بابری مسجد مقدمہ کے تعلق سے ہوئے غور وخوض میں بتایا گیا کہ جمعیۃ علما ہند اس معاملہ میں شروع سے ہی فریق ہے اور پوری قوت کے ساتھ قانونی جنگ جاری رکھے ہوئے ہے ۔ اس کے علاوہ ورکنگ کمیٹی کے سامنے بہار سیلاب سے ہوئی تباہ کاری اور متاثرین کی امداد کے تعلق سے ایک سروے رپورٹ پیش کی گئی ۔ سروے رپورٹ مولانا اسجد مدنی نے تیار کی ہے ۔ سروے کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا کہ جمعیۃ علما ہندبہار سیلاب زدگان میں خواتین بالخصوص بیوائوں کو پختہ مکانات مہیا کرائے گی۔رپورٹ میں سیلاب سے ہوئے نقصان کا جائزہ بھی پیش کیا گیا۔مجلس عاملہ کی میٹنگ میں جن شخصیات نے شرکت کی ان میں مولانا سید ارشدمدنی ، صدرجمعیۃعلماء ہند ، مولانا عبدالعلیم فاروقی ناظم عمومی جمعیۃعلماء ہند ، مولانا حبیب الرحمن قاسمی ، مولانا محمد مستقیم احسن اعظمی صدرجمعیۃعلماء مہاراشٹرا ، مفتی محمد غیاث الدین قاسمی صدرجمعیۃعلماء آندھرا پردیش ، حسن احمد قادری ناظم اعلیٰ جمعیۃعلماء بہار ، حاجی سلامت اللہ دہلی ، مولاناعبدالہادی قاسمی ناظم اعلیٰ جمعیۃعلماء یوپی ، مولانا سید اشہد رشیدی صدرجمعیۃعلماء اترپردیش ، مولانا عبدالرشید قاسمی ناطم اعلیٰ جمعیۃعلماء آسام ،مولانا عبدالناصر قاسمی صدرجمعیۃعلماء بنارس ،مولانا فضل الرحمن قاسمی ممبئی ، مولانا سید اسجد مدنی دیوبند، مفتی محمد اسماعیل قاسمی مالیگاؤں، ان کے علاوہ جناب گلزاراحمد اعظمی سکریٹری قانونی امدادکمیٹی جمعیۃعلماء مہاراشٹرا، جناب مولانا بدراحمد مجیبی پھلواری شریف پٹنہ، مفتی اشفاق احمد سرائے میر اعظم گڑھ ، قاری شمس الدین ناظم عمومی مغربی بنگال، مفتی حبیب الرحمن قاسمی راجستھان ، مولانا محمد خالد قاسمی صدرجمعیۃعلماء ہریانہ پنجاب، مولانا محمد مسلم قاسمی صدرجمعیۃعلماء صوبہ دہلی ، مولانا عبدالقیوم قاسمی مالیگاؤں، مفتی محمد شمیم الحسینی بنارس،مفتی ضیاء اللہ قاسمی ناظم اعلیٰ جمعیۃعلماء مدھیہ پردیش، مولانا محمد عمر قاسمی صدرجمعیۃعلماء سنت کبیر نگر، بطورمدعوخصوصی شریک ہوئے ۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز