این ٹی پی سی بوائیلر حادثہ : ایڈیشنل جنرل منیجر سنجیو شرما کی بھی موت ، مہلوکین کی تعداد 33 ہوئی

Nov 03, 2017 01:39 PM IST | Updated on: Nov 03, 2017 01:39 PM IST

لکھنؤ: اترپردیش میں رائے بریلی کے اونچاهار میں این ٹی پی سی کے ایک پلانٹ میں ہوئے حادثے میںشدید طور پرجھلس جانے والے ایڈیشنل جنرل منیجر سنجیو شرما سمیت 33 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ 50 سے زائد لوگوں کاالگ الگ ہسپتالوں میں علاج جاری ہے۔سرکاری ذرائع کے مطابق سات افراد کو کل دیر رات سول ہسپتال سے ایئر ایمبولینس کے ذریعہ دہلی کےصفدرگنج ہسپتال بھیجا گیا ہے جبکہ پانچ دیگر لوگوں کو دہلی بھیجے جانے پر غور کیا جا رہا ہے۔ این ٹی پی سی کے ایڈیشنل جنرل منیجر سنجیو شرما نے کل رات یہاں زخموں کی تاب نہ لاکردم توڑ دیا۔

این ٹی پی سی کے فنانس ڈائریکٹر کلمنی وشوال نے آج بتایا کہ حادثے میں جھلس جانے والے لوگوں کا بہترعلاج کیا جائے یہ پہلی ترجیح ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سول ہسپتال سے دیر رات سات مزید لوگوں کو ایئر ایمبولنس سے دہلی کے صفدر گنج ہسپتال بھیجا گیا ہے اور اب چار پانچ لوگوں کو وہاں بھیجنے پر غور کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حادثے سے متاثر ملازمین کےاہل خانہ کو ہر ممکن مدد دی جائے گی۔

این ٹی پی سی بوائیلر حادثہ : ایڈیشنل جنرل منیجر سنجیو شرما کی بھی موت ، مہلوکین کی تعداد 33 ہوئی

سول ہسپتال لکھنؤ کے چیف میڈیکل آفیسر ڈاکٹر اے کے سنگھ نے بتایا کہ حادثے کے بعد شدید طور سے جھلسے ہوئے کل 30افراد یہاں آئے تھے جن میں سے ایک کی حالت بہت زیادہ خراب تھی۔ علاج کے دوران پانچ لوگوں کی موت ہوگئی ۔گزشتہ رات ایئر ایمبولینس سے سات افراد دہلی بھیجے گئے ہیں۔ دو لوگوں کو لوہیا ہسپتال بھیجاگیا ہے۔ فی الوقت یہاں 15 افرادکا علاج کیا جا رہا ہے اور دہلی بھیجنے کے لئے پانچ افراد پر غور کیا جا رہا ہے۔

غور طلب ہے کہ گذشتہ یکم نومبر کو رائے بریلی کے اونچاهار این ٹی پی سی پلانٹ کی ایک یونٹ میں ہوئے بھیانک حادثے میںجھلس جانے والے تین افسران پربھات شریواستو، سهدیو ساہو، مشري رام اور گنوپ بھوئیا کو ایئر ایمبولینس سے دہلی بھیجا گیا تھا۔ضلع انتظامیہ نے افسران کو لے جا رہے ایمبولینسوں کو ہموار راستہ دینے کے لیے گرین کاریڈور بنایا تھا۔ سپس ہسپتال سے ہوائی اڈے تک راستے پر سبز کوریڈور میں کسی دیگر گاڑیوں کو گزرنے کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔زخمی ہونے والے ایڈیشنل جنرل منیجر سنجیو شرما نے گزشتہ رات علاج کے دوران دم توڑدیا۔ اب بھی رائے بریلی، الہ آباد اورلکھنؤ کے مختلف ہسپتالوں میں زخمیوں کا علاج چل رہا هے۔زخمیوں میں متعدد افراد سو فیصد تک جھلس گئے ہیں، جن کی حالت انتہائی نازک ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز