ہندوستان میں بزرگ خواتین سب سے زیادہ پریشان حال : اقوام متحدہ کی رپورٹ

Jun 20, 2017 02:05 AM IST | Updated on: Jun 20, 2017 02:05 AM IST

نئی دہلی : اقوام متحدہ کے پاپولیشن فنڈ کے مطابق سال 2030 تک ملک کی کل آبادی میں 60 سال کے بزرگ کی تعداد 12.5 فیصد ہو جائے گی اور مردوں کے مقابلے خواتین بزرگ کی حالت زیادہ خراب ہوگی۔ سماجی انصاف اورتفویض اختیارات کے وزیر تھاور چند گہلوت کی موجودگی میں آج یہاں ’كيرنگ ایلڈرس‘ کے عنوان سے جاری اس رپورٹ کے مطابق مردوں کے مقابلے میں خواتین کی زندگی متوقع زیادہ ہونے کی وجہ سے انہیں کئی طرح کے اقتصادی اور سماجی بحرانوں سے گزرنا پڑتا ہے۔ خاص طور سے شوہر کی موت کے بعد ایسی خواتین کئی طرح کے مصائب کا شکار هوتي ہیں۔ اقتصادی عدم تحفظ کا بڑا سبب بنتا ہے۔ ایک سروے کے مطابق ایسی 10 فیصد خواتین اکیلے رہنے كو مجبور ہیں۔ رپورٹ کے مطابق 2050 تک بزرگوں کی تعداد 20 فیصد ہو جائے گی۔

رپورٹ میں بوڑھوں کی سماجی اور اقتصادی مسائل اور ان كے وجوہات کا ذکر کرتے ہوئے اسے ختم کرنے کے لئے حکومت اور شہری تنظیموں سے مؤثر پالیسیاں بنانے کی درخواست کی گئی ہے۔ اس موقع پر مسٹر گہلوت نے عمر کے ساتھ آنے والی بیماریوں سے برسرپیکار بزرگوں کی مدد کے لئے’قومی ويوشري یوجنا‘ شروع کرنے کی تیاریوں کی اطلاع دی۔ اقوام متحدہ کے پاپولیشن فنڈ ہندوستانی یونٹ کے ڈائریکٹر ڈيوگو پاليشيو نے عام عوام، سول سوسائٹی اور حکومت سے بزرگوں کی مدد کے لئے ہاتھ بڑھانے کی درخواست کی۔

ہندوستان میں بزرگ خواتین سب سے زیادہ پریشان حال : اقوام متحدہ کی رپورٹ

علامتی تصویر

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز