پی ڈی پی اور بی جے پی میں آج بھی ملی بھگت ، دفعہ 35 اے کی رپورٹ سپریم کورٹ میں نہیں کرائی گئی داخل : عمرعبداللہ

جموں وکشمیر حکومت کی طرف سے آج تک دفعہ 35 اے سے متعلق تفصیلی رپورٹ سپریم کورٹ میں داخل نہیں کی گئی ہے

Aug 09, 2018 06:31 PM IST | Updated on: Aug 09, 2018 06:31 PM IST

بڈگام : نیشنل کانفرنس کے نائب صدر اور سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا کہ سابقہ اتحادی جماعتوں پی ڈی پی اور بی جے پی کے درمیان آج بھی ملی بھگت ہے۔ انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر حکومت کی طرف سے آج تک دفعہ 35 اے سے متعلق تفصیلی رپورٹ سپریم کورٹ میں داخل نہیں کی گئی ہے اور 60 صفحات پر مشتمل مذکورہ تفصیلی رپورٹ آج بھی سول سکریٹریٹ میں لاء سکریٹری کے میز پر ایک سال سے پڑی ہوئی ہے۔جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ دفعہ 35 اے کے خاتمہ کے لئے پی ڈی پی اور بی جے پی میں برابر اشتراک تھا اور پی ڈی پی والے باہری دنیا کو زبانی جمع خرچ سے گمراہ کررہے تھے ، جبکہ عملی طور پر اس قانون کے دفاع کیلئے برائے نام اقدامات اُٹھائے جارہے تھے۔

انہوں نے کہا کہ پی ڈی پی حکومت کا فرض بنتا تھا کہ وہ اس تفصیلی جواب کو سپریم کورٹ میں داخل کرتی ، لیکن ان کو کرسی پیاری تھی اور اس جماعت کے لیڈران بی جے پی کو ناراض کرنے کی غلطی نہیں کرنا چاہتے تھے۔

پی ڈی پی اور بی جے پی میں آج بھی ملی بھگت ، دفعہ 35 اے کی رپورٹ سپریم کورٹ میں نہیں کرائی گئی داخل : عمرعبداللہ

محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ: تصویر، یو این آئی۔

عمر عبداللہ نے ان باتوں کا اظہار جمعرات کو یہاں پارٹی ضلع دفتر مجاہد منزل میں حلقہ انتخاب چاڈورہ کے پارٹی عہدیداران اور کارکنان کے ایک روزہ کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقعے پر پارٹی جنرل سکریٹری علی محمد ساگر، صوبائی صدر ناصر اسلم وانی، سینئر لیڈر عبدالرحیم راتھر، ترجمانِ اعلیٰ آغا سید روح اللہ مہدی ، وسطی زون صدر علی محمد ڈار(ایم ایل سی) ، پارٹی لیڈران تنویر صادق اور منظور احمد وانی بھی موجود تھے۔

Loading...

Loading...

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز