کشمیر میں آرٹیکل 35 اے کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی ، تو وہ ہو گا جو کبھی نہیں ہوا: عمر عبداللہ

Aug 07, 2017 06:06 PM IST | Updated on: Aug 07, 2017 06:06 PM IST

سری نگر : کشمیر میں آرٹیکل 35 اے کو لے کر معاملہ گرم ہوتا ہوا نظر آرہا ہے۔ اس مسئلے پر تنازع کے درمیان پیر کو نیشنل کانفرنس سبھی اپوزیشن پارٹیوں کے ساتھ بات چیت کیلئے ایک میٹنگ کر رہی ہے، جس کی صدارت فاروق عبداللہ کریں گے ۔ میٹنگ کا مقصد ریاست کے اسپیشل اسٹیٹس سے کسی طرح کی چھیڑ چھاڑ پر مشترکہ طور پر آواز اٹھانا ہے۔

اس دوران نیشنل کانفرنس کے رہنما عمر عبداللہ نے مرکزی حکومت کو اس معاملہ میں وارننگ بھی دی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ کشمیر میں آرٹیکل 35 اے کے ساتھ چھیڑچھاڑ کی گئی تو کشمیر میں وہ ہو گا جو کبھی نہیں ہوا۔

کشمیر میں آرٹیکل 35 اے کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی ، تو وہ ہو گا جو کبھی نہیں ہوا: عمر عبداللہ

خیال رہے کہ گزشتہ ماہ مودی حکومت کی جانب سے سپریم کورٹ میں اس مسئلہ پر موقف پیش کیا گیا تھا، جس کی سخت مخالفت کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ ہندوستانی یونین میں کسی بھی ریاست کے انضمام اور ریاست کو اسپیشل اسٹیٹس دیا جانا، ایک ہی سکے کے دو پہلو ہیں ۔ اگر آرٹیکل 35 اے پر بڑے پیمانے پر بحث ہوتی ہے تو اس کے ہر قانونی پہلوؤں پر بحث ہونی چاہئے۔ اس کے تحت کشمیر کے الحاق پر بھی بحث کی جانی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کے اسپیشل اسٹیٹس سے چھیڑ چھاڑ کی صورت میں مکمل اپوزیشن متحد ہے اور ہم سب ایک ساتھ اس کے خلاف آواز اٹھائیں گے۔

عمر عبد اللہ نے کہا کہ ہندوستانی آئین میں کشمیر کے خصوصی اسٹیٹس کو باقاعدہ رکھا گیا ہے۔ اسے کسی بھی حال میں چھیڑا یا تبدیل نہیں کیا جا سکتا ہے۔ یہ بھروسے اور اعتماد کی قانونی دفعہ ہے۔

امرناتھ میں جو دیکھا وہ کچھ بھی نہیں تھا

عمر عبد اللہ نے دھمکی بھرے لہجے میں کہا کہ 'امرناتھ کی زمین کو لے کر تنازع میں جو بھی ملک نے دیکھا وہ کچھ نہیں تھا۔ اگر آرٹیکل 35 اے سے چھیڑ چھاڑ کی گئی تو وہ ہو گا جو پہلے کبھی نہیں ہوا ہوگا۔ ' انہوں نے مرکزی حکومت کو وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ آپ کے پاس اگرچہ جموں اور کشمیر کی سمت تبدیل کرنے کی صلاحیت ہو ، لیکن یہ ٹھیک قدم نہیں ہوگا۔ آرٹیکل 35 اے جموں و کشمیر ریاست کو آئین کی طرف سے دی گئی خاص طاقت ہے ، جس کے تحت ریاست میں مستقل رہائش کی تعریف کی گئی ہے۔

کیا ہے آرٹیکل 35 اے

آرٹیکل 35 اے کے تحت آئین میں یہ طاقت جموں و کشمیر کی اسمبلی کو دی گئی ہے۔ اس کے تحت وہ اپنی بنیاد پر 'مستقل شہری کی تعریف طے کرے ۔ ساتھ ہی ساتھ انہیں مختلف حقوق بھی دئے جاسکتے ہیں ۔ دفعہ 370 جموں و کشمیر کو کچھ خصوصی حقوق دیتا ہے۔ 1954 کے ایک حکم کے بعد آرٹیکل 35 اے کو آئین میں شامل کر دیا گیا تھا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز