دفعہ 35 اے منسوخ ہوئی تو ریاستی دفاتر میں مقامی زبانیں سمجھنے والے لوگ نہیں ملیں گے: عمر

Aug 14, 2017 03:28 PM IST | Updated on: Aug 14, 2017 03:29 PM IST

جموں۔  نیشنل کانفرنس کے کارگذار صدر عمر عبداللہ نے آئین ہند کی دفعہ 35 اے کی منسوخی سے جموں وکشمیر پر پڑنے والے منفی اثرات سے لوگوں کو آگاہ کرنے کی مہم شروع  کرتے ہوئے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) پر اہلیان جموں کو غلط پروپیگنڈے کے ذریعے بیوقوف بنانے کا الزام عائد کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دفعہ 35 اے منسوخ کی گئی تو ریاست کے دفاتر میں صرف دوسری ریاستوں سے تعلق رکھنے والے ملازمین نظر آئیں گے اور دفاتر میں ریاست میں بولی جانے والی زبانوں کو سمجھنے والے لوگ نہیں ملیں گے۔  مسٹر عبداللہ جو کہ ریاست کے سابق وزیر اعلیٰ بھی ہیں، نے پیر کے روز جموں میں واقع پارٹی ہیڈکوارٹر شیر کشمیر بھون میں دفعہ 35 اے سے متعلق آگاہی پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کہا ’فرض کیجئے کہ بی جے پی والے اپنے اس مشن میں کامیاب ہوجاتے ہیں اور سپریم کورٹ کے ذریعے دفعہ 35 اے اٹھایا جاتا ہے ۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ ہمارے جو سٹیٹ سبجیکٹ قوانین ہیں ، وہ ختم ہوجائیں گے۔ ختم ہونے کے بعد مہاراجہ ہری سنگھ نے جن چار چیزوں پر روک لگائی تھی تو وہ روک ختم ہوگی۔ باہر سے لوگ آکر یہاں زمین خریدنا شروع کردیں گے۔ باہر سے لوگ آکر یہاں سرکاری ملازمت کریں گے۔ باہر سے لوگ آکر یہاں اپنے بچوں کے لئے اسکالر شپ حاصل کریں گے‘۔

انہوں نے کہا ’اگر یہ قانون اٹھا تو ایک دن ایسا آئے گا جب آپ کے سرکاری دفتروں میں آپ کی زبان سمجھنے والا کوئی بیٹھا نہیں ہوگا۔ ڈوگری، پہاڑی، گوجری، کشمیری، لداخی ، بلتی اور شینا انہیں سمجھ نہیں آئے گی۔ وہ ایسی ایسی زبانوں میں آپ سے بات کررہے ہوں گے کہ نہ آپ کو اُن کی بات سمجھ میں آئے گی اور نہ اُن کو آپ کی بات‘۔ عمر عبداللہ نے الزام لگایا کہ بی جے پی دفعہ 35 اے کو لیکر غلط پروپیگنڈہ کررہی ہے۔ انہوں نے کہا ’خدا را اِن کے جھانسے میں مت آئیں۔ اِن کے پروپیگنڈہ سے متاثر مت ہوجائیں کہ دفعہ 35 اے کے اٹھنے سے چار چاند لگیں گے۔ دفعہ 35 اے کے اٹھنے سے اس ریاست کا جتنا نقصان ہوگا شاید کسی دوسرے قانون کے لگنے سے اتنا نقصان ہوگا۔ بہت ضروری ہے یہ سمجھنا ۔ اس لئے میں حیران ہوں اُن لوگوں پر جو کہتے ہیں کہ ہم اس ریاست کو بچانے کے لئے ہیں۔ آج کا پروگرام اس لئے رکھا گیا تھا تاکہ آپ دفعہ 35 اے کو پوری طرح سے سمجھ کر یہاں سے جائیں۔ اس قانون کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی نیشنل کانفرنس قطعی اجازت نہیں دے گی‘۔ انہوں نے کہا ’خون بہانے کے حق میں ہم کبھی نہیں رہے ہیں۔ نہ آپ کا خون بہنا چاہیے اور نہ کسی اور کا۔ ارادوں کی جنگ ہو، سوچ کی لڑائی ہو۔ ان کے جھوٹ کا مقابلہ کرنے کے لئے ہم حقیقت اور سچ کا استعمال کریں گے‘۔

دفعہ 35 اے منسوخ ہوئی تو ریاستی دفاتر میں مقامی زبانیں سمجھنے والے لوگ نہیں ملیں گے: عمر

عمر عبداللہ : فائل فوٹو

آگاہی پروگرام میں خطاب کے بعد مسٹر عبداللہ نے نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ اگر وزیراعظم نریندر مودی نے واقعی ریاستی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کو دفعہ 35 اے بچانے کی یقین دہانی کرائی ہے تو مرکز کو فوراً سے پیشتر سپریم کورٹ میں جوابی حلف نامہ دائر کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا ’اگر وزیر اعظم کی طرف سے یقین دہانی کرائی گئی ہے تو اس یقین دہانی کو عملی جامہ پہنانے کے لئے مرکزی حکومت کو اپنے آپ کو اس کیس کے ساتھ جوڑنا ہوگا۔ جو فی الحال مرکزی حکومت نے نہیں کیا ہے۔ اگر یہ بات صحیح ہے کہ وزیر اعظم نے محترمہ مفتی کو یقین دہانی کرائی کہ دفعہ 35 اے کے ساتھ کوئی چھیڑ چھاڑ نہیں ہوگی ۔ ابھی تک جوابی حلف نامہ صرف ریاستی حکومت کی طرف سے پیش کیا گیا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ وزیر اعظم کی یقین دہانی کو ایک حقیقت میں تبدیل کیا جائے اور دفعہ 35 اے کو بچانے کے لئے مرکزی حکومت بھی جوابی حلف نامہ دائر کریں‘۔ نیشنل کانفرنس کارگذار صدر نے دعویٰ کیا کہ ریاست میں سٹیٹ سبجیکٹ قانون آخری ڈوگرہ مہاراجہ ہری سنگھ کے دور میں جموں اور کشمیر کے ہندوؤں کی زمین اور نوکریاں بچانے کے لئے بنایا گیا تھا۔ انہوں نے کہا ’کشمیر تک پہنچنے کے لئے باہر سے آنے والے لوگوں کو جموں سے گذرنا ہوگا۔ میں نے اپنی تقریر میں یہ بات کہی کہ کوئی آسمانی راستے سے آکر کشمیر میں زمین خریدنا شروع نہیں کرے گا۔ جس وقت یہ قانون لایا گیا اُس وقت کشمیری اپنی زمینوں کے مالک نہیں تھے۔ نوکریاں بھی کشمیریوں کے پاس نہیں تھیں۔ مہاراجہ نے یہ قانون جموں اور کشمیر کے ہندوؤں کی زمین اور نوکریاں بچانے کے لئے لایا تھا۔ اور جاگیرداروں کی زمینوں کو بچانے کے لئے لایا تھا‘۔

مسٹر عبداللہ نے حریت کانفرنس سے مخاطب ہوکر کہا کہ انہیں ہر ایک معاملے میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا ’حریت کانفرنس آئین ہند کو نہیں مانتی ہے۔ ان کا اس میں کوئی دخل نہیں ہونا چاہیے۔ آپ آئین کو نہیں مانتے ۔ ایک دفعہ کے ساتھ چھیڑ چھاڑ ہورہی ہے تو آپ کو اس سے کیا لینا دینا۔ یا تو کہئے کہ آپ آئین ہند کو مانتے ہیں۔ بدقسمتی سے ایسے معاملات میں ٹانگ اڑانا حریت کانفرنس کی عادت بن گئی ہے۔ انہوں نے جی ایس ٹی کے معاملے میں مداخلت کی جبکہ اُن کا اس کے ساتھ کوئی لینا دینا نہیں تھا‘۔ واضح رہے کہ سال 2014 میں ’وی دی سٹیزنس‘نامی ایک این جی او نے سپریم کورٹ میں ایک رٹ پٹیشن دائر کی جس میں دفعہ 35A کو چیلنج کیا گیا ۔ گذشتہ ہفتے پٹیشن پر سماعت کے دوران اٹارنی جنرل کے کے وینوگوپال نے عدالت میں دفعہ35 اے کے موضوع کو حساس قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت اس پر وسیع بحث چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس معاملے میں حلف نامہ پیش نہیں کرنا چاہتے۔ اس کے بعد سپریم کورٹ نے دفعہ 35 اے کا معاملہ سہ رکنی بینچکو منتقل کرتے ہوئے اس کے خلاف دائر کی گئی پٹیشن کو چھ ہفتوں کے اندر نپٹانے کا حکم جاری کردیا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز