فاروق عبداللہ کا پھر متنازع بیان ، کہا : پاک مقبوضہ کشمیر ہندوستان میں کسی کے باپ کی جاگیر نہیں

اپنے حالیہ بیان پر چوطرفہ تنقید کا نشانہ بننے والے نیشنل کانفرنس صدر و رکن پارلیمان ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا ہے کہ ’پاکستان زیر قبضہ کشمیر‘ ہندوستان میں کسی کے باپ کی جاگیر نہیں ہے۔

Nov 15, 2017 08:37 PM IST | Updated on: Nov 15, 2017 08:37 PM IST

سری نگر: اپنے حالیہ بیان پر چوطرفہ تنقید کا نشانہ بننے والے نیشنل کانفرنس صدر و رکن پارلیمان ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا ہے کہ ’پاکستان زیر قبضہ کشمیر‘ ہندوستان میں کسی کے باپ کی جاگیر نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرحد کے اس پار پاکستان نے کوئی چوڑیاں نہیں پہن رکھی ہیں۔ فاروق عبداللہ نے ان باتوں کا اظہار بدھ کے روز شمالی کشمیر کے سرحدی علاقہ اوڑی میں ایک عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا ’وہ جب بم مارتے ہیں تو یہاں کی عوام مرتی ہے، یہاں کا فوجی مرتا ہے۔ یہاں سے بم مارے جاتے ہیں تو وہاں بھی ہماری عوام مرتی ہے، فوجی مرتے ہیں۔ کب تک یہ طوفان چلتا رہے گا۔ کب تک بے گناہوں کا خون بہتا رہے گا۔ اور ہم کہتے رہیں گے کہ وہ (پاکستان زیر قبضہ کشمیر) ہمارا حصہ ہے۔ وہ ان (ہندوستانی سیاستدانوں) کے باپ کا حصہ نہیں ہے۔ 70 سال ہوگئے۔ وہ پاکستان ہے اور یہ ہندوستان ہے۔ ستر سال سے یہ اسے حاصل نہیں کرپائے۔ آج کہتے ہیں کہ یہ ہمارا حصہ ہے۔ ہم بھی تو کہتے ہیں کہ ذرا واپس لاؤ۔ ہم بھی دیکھتے ہیں۔ وہ بھی کوئی کمزور نہیں ہیں۔ وہ چوڑیاں پہنے ہوئے نہیں ہیں۔ ان کے پاس بھی ایٹم بم ہیں‘۔ فاروق عبداللہ کو ایسے ہی ایک بیان کی وجہ سے حال ہی میں چوطرفہ تنقید کا نشانہ بننا پڑا تھا۔

مسٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ 11 نومبر کو یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر نوائے صبح کمپلیکس میں پارٹی کے اجلاسوں کے موقع پر نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ کشمیر کی آزادی کا مطالبہ کرنا صحیح نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کشمیر ایک لینڈ لاکڈ (چاروں طرف سے خشکی سے گھرا ہوا) خطہ ہے اور اس کے تینوں پڑوسی چین، پاکستان اور ہندوستان ایٹم بم رکھتے ہیں۔ اور کشمیریوں کے پاس اللہ کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ وہ(فاروق عبداللہ) پوری دنیا سے کہنا چاہتے ہیں کہ کشمیر کا جو حصہ پاکستان کے پاس ہے، وہ پاکستان کا ہے۔ جو حصہ ہندوستان کے پاس ہے، وہ حصہ ہندوستان کا ہے۔

فاروق عبداللہ کا پھر متنازع بیان ، کہا : پاک مقبوضہ کشمیر ہندوستان میں کسی کے باپ کی جاگیر نہیں

فاروق عبداللہ نے کہا تھا کہ مسئلہ کشمیر کا حل کشمیر کے دونوں حصوں کو اٹانومی دینے میں پنہاں ہے۔ نیشنل کانفرنس صدر نے اوڑی کے عوامی اجتماع میں وزیر اعظم ہند نریندر مودی کو 15اگست کے دن لال قلعے پر کی گئی تقریر ، جس میں انہوں نے کشمیریوں کو گلے لگانے کی بات کہی تھی، پر عملدرآمد کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ وقت آگیا ہے کہ 1953ء کے بعد جموں وکشمیر پر غیر آئینی اور غیر جمہوری طور لگائے گئے قوانین منسوخ کئے جائیں اور ساتھ ہی ریاست کی اندرونی خودمختاری مکمل طور پر بحال کی جائے تاکہ ریاست کے لوگوں کا اعتماد اور بھروسہ بحال ہوسکے۔

انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر کے تینوں خطوں کے عوام ہی اس سرزمین کے اصلی مالک ہیں اور کوئی بھی طاقت ان کی تقدیر نہیں بدل سکتی، اس قوم نے کئی ادوار دیکھے ہیں اور بہت کچھ سہا ہے ،لیکن یہ قوم کبھی بھی پست نہیں ہوئی،یہ قوم اپنے آئینی اور جمہوری حقوق حاصل کرکے ہی دم لے گی۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ نریندر مودی نے اپنی تقریر میں کہا تھا کہ ’گلے لگانے سے ہی بات بنے گی ‘، انہیں اپنی اس بات پر عملدرآمد شروع کرکے مسئلہ کشمیر کے دائمی حل کے لئے پہل کرنی چاہئے۔ مسئلے کشمیر کے لٹکے رہنے سے نہ پاکستان خوشحال رہ سکتا ہے اور نہ ہی ہندوستان ترقی کرسکتا ہے، اس لئے دونوں پڑوسیوں کو آگے آکر خطے میں دیر پا اور دائمی امن کے لئے اپنا اپنا رول نبھانا چاہئے۔

فاروق عبداللہ نے کہا کہ ہندوستان اور پاکستان کو ایک نہ ایک دن بات چیت کرنی ہی ہے اور کسی بھی صورت مسئلہ کشمیر کا حل ڈھونڈنا ہے، اسی لئے دانشمندی اسی میں ہے کہ مزید وقت ضائع نہ کیا جائے۔انہوں نے ریاستی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہاکہ جموں و کشمیر میں جی ایس ٹی کا اطلاق عمل میں لاکر پی ڈی پی والوں نے اپنی کرسی تو بچا لی لیکن ریاست کو اقتصادی بدحالی کی نذر کرنے کے ساتھ ساتھ مالی خودمختاری بھی سرینڈر کردی۔ اس قانون کے خلاف نیشنل کانفرنس سمیت تمام اپوزیشن جماعتوں، سول سوسائٹی اور دیگر تجارتی و کاروباری انجمنوں کی زور دار مخالفت کے باوجود قلم دوات جماعت نے اپنے ناگپوری آقاؤں کو خوش کرنے کے لئے آر ایس ایس کے ڈکٹیشن پر من و عن عمل کیا ۔

جی ایس ٹی کا اطلاق جموں وکشمیر کے اقتصاد پر ایک اور کاری ضرب ثابت ہوا ہے ، جس کی پیشگوئی نیشنل کانفرنس نے یہ قانون لاگوہونے سے قبل ہی کی تھی لیکن پی ڈی پی والوں نے اپنی کرسی بچانے کے لئے بہت زیادہ عجلت سے کام لیا۔ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ وقت نے ایک بار پھر نیشنل کانفرنس اور اس کے موقف کو صحیح ثابت کردیا ہے، جی ایس ٹی کا اطلاق سے نہ صرف ملک بلکہ ریاست کی اقتصادیات کو بہت بڑا دھچکا لگایا ہے، آج ملک کے بڑے بڑے ماہر اقتصادیات اور حکمران بھاجپا کے لیڈران بھی اس قانون کے اطلاق کو ایک ناکامی قرار دے رہے ہیں۔ اور کسی حد تک مرکزی حکومت کو بھی اپنی غلطی کا احساس ہوگیا ہے ، اس لئے بہت سی چیزوں پر جی ایس ٹی کی شرح کم کی جارہی ہے۔لیکن اس قانون کے اطلاق سے جموں وکشمیر کی مالی خودمختاری پر جو شب خون مارا گیا اُس کی برپائی کرنا مشکل ہے، پی ڈی پی کی سربراہی والی حکومت نے ریاست کے تمام ٹیکس معاملات جی ایس ٹی کونسل کے سپرد کردیئے۔

ہندوستان اور پاکستان سے سرحدوں پر فوری جنگ بندی کی اپیل کرتے ہوئے ڈاکٹر فاروق عبداللہ کہاکہ ان دونوں ممالک کے آپسی رنجشوں میں آر پار کشمیری پس رہے ہیں۔ انہوں نے دونوں ممالک کی قیادت سے اپیل کی کہ وہ ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی اور دھمکیاں دینے کی روش ترک کرے اور سرحدوں پر امن کو پنپنے کا موقعہ فراہم کریں تاکہ آر پار سرحدی آبادی امن، چین اور سکون کی زندگی بسر کرسکیں۔ اس موقع پر پارٹی کے جنرل سکریٹری علی محمد ساگر، سینئر لیڈران چودھری محمد رمضان، محمد شفیع اوڑی، محمد اکبر لون، جاوید احمد ڈار، غلام حسن راہی، جگدیش سنگھ آزاد اور ضلع صدر خواتین ووننگ نیلوفر مسعودکے علاوہ کئی عہدیداران بھی تھے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز