علاحدگی پسندوں کی احتجاج کی کال ، کشمیر میں سیکورٹی وجوہات کی بنا پر ریل خدمات معطل

Jul 21, 2017 12:57 PM IST | Updated on: Jul 21, 2017 12:57 PM IST

سری نگر : وادی کشمیر میں ریل خدمات جمعہ کو ایک بار پھر معطل کردی گئیں۔ یہ خدمات علیحدگی پسند قیادت سید علی گیلانی، میرواعظ مولوی عمر فاروق اور محمد یاسین ملک کی جانب سے جمعہ کو دی گئی ہڑتال کی کال، بعد نماز جمعہ احتجاجی مظاہرے کرنے اور سری نگر کے ہائی سیکورٹی زون سونہ وار میں واقع آستانہ عالیہ سعید صاحب (رح) کی مسجد شریف میں اجتماعی طور نماز جمعہ کی ادائیگی کے بعد اس کے روبرو واقع اقوام متحدہ فوجی مبصرین دفتر کے سامنے احتجاجی دھرنا دینے کی اپیل کے پیش نظر معطل کی گئی ہیں۔

ریلوے کے ایک عہدیدار کے مطابق ہم نے سیکورٹی وجوہات کی بناء پر آج (جمعہ کو) تمام ٹرینوں کی آمدورفت معطل کردی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وسطی کشمیر کے بڈگام اور شمالی کشمیر کے بارہمولہ کے درمیان چلنے والی تمام ٹرینوں کو معطل کیا گیا ہے‘۔ مذکورہ عہدیدار نے بتایا کہ اسی طرح گرمائی دارالحکومت سری نگر اور جموں خطہ کے بانہال کے درمیان براستہ جنوبی کشمیر تمام ٹرینیں منسوخ کی گئی ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ ریل خدمات کی معطلی کا اقدام پولیس اور سول انتظامیہ کی جانب سے جاری ایڈوائزری پر عمل کے طور پر لیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پولیس و سول انتظامیہ کی جانب سے گرین سگنل ملنے کے بعد ریل خدمات کو بحال کردیا جائے گا۔

علاحدگی پسندوں کی احتجاج کی کال ، کشمیر میں سیکورٹی وجوہات کی بنا پر ریل خدمات معطل

file photo

وادی میں گذشتہ تین ہفتوں کے دوران یہ چوتھی دفعہ ہے کہ جب ریل خدمات کو سیکورٹی وجوہات کی بناء پر معطل کیا گیا۔ گذشتہ ماہ (جون) میں ریل خدمات کو مختلف وجوہات بالخصوص سیکورٹی وجوہات کی بناء پر کم از کم چار مرتبہ معطل کیا گیا تھا۔ ریلوے حکام کا کہنا ہے کہ ماضی میں تشدد کے واقعات کے دوران وادی میں ریلوے املاک کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا گیا ۔ وادی میں گذشتہ برس جولائی میں حزب المجاہدین کمانڈر برہان مظفر وانی کی ہلاکت کے بعد شدید احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر ریل خدمات کو کم از کم چار مہینوں تک معطل رکھا گیا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز