جموں و کشمیر : امرناتھ یاتریوں پر حملہ کا ایک اور زخمی دم توڑ گیا ، مہلوکین کی تعداد 8 ہوئی

Jul 16, 2017 12:02 PM IST | Updated on: Jul 16, 2017 12:02 PM IST

سری نگر: جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ میں 10 جولائی کو امرناتھ یاتریوں کی گاڑی پر جنگجویانہ حملے میں زخمی ایک اور خاتون دم توڑ گئی ہے۔ اس کے ساتھ یاتریوں پر ہوئے ہلاکت خیز حملے میں جاں بحق ہونے والے یاتریوں کی تعداد بڑھ کر 8 ہوگئی ہے۔ مہلوکین میں 6 خواتین شامل ہیں۔

سرکاری ذرائع نے یو این آئی کو بتایا کہ 47 سالہ للتا بین جو 10 جولائی کو اننت ناگ حملے میں زخمی ہوئی تھی، اتوار کی علی الصبح یہاں شیر کشمیر انسٹی چیوٹ آف میڈیکل سائنسز میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئی۔ انہوں نے بتایا کہ للتا بین گجرات کی رہنے والی تھی اور اس کی لاش کو بعدازاں اسکے آبائی ریاست روانہ کردیا جائے گا۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ شیر کشمیر انسٹی چیوٹ میں گجرات سے ہی تعلق رکھنے والی ایک اور خاتون یاتری زیر علاج ہے، تاہم اس کی حالت خطرے سے باہر ہے۔

جموں و کشمیر : امرناتھ یاتریوں پر حملہ کا ایک اور زخمی دم توڑ گیا ، مہلوکین کی تعداد 8 ہوئی

انہوں نے بتایا ’بیشتر زخمیوں کو ائرلفٹ کرکے گجرات اور مہاراشٹر منتقل کیا گیا تھا‘۔ خیال رہے کہ ضلع اننت ناگ کے بٹنگو میں 10 جولائی کی رات جنگجوؤں اور سیکورٹی فورسز کے مابین فائرنگ کے تبادلے کے دوران ایک یاتری بس کے کراس فائرنگ کی زد میں آنے سے 7 امرناتھ یاتری موقعے پر ہی ہلاک جبکہ کم از کم ڈیڑھ درجن دیگر زخمی ہوگئے۔ مہلوکین میں سے 6 یاتریوں کا تعلق گجرات سے تھا۔ جموں وکشمیر پولیس نے یاتریوں پر ہوئے ہلاکت خیز حملے کی تحقیقات کے لئے چھ رکنی خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی ہے۔

انسپکٹر جنرل آف پولیس کشمیر زون منیر احمد خان کے مطابق ایک چھ رکنی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی گئی ہے جو یاتریوں پر ہوئے حملے کی تحقیقات کرے گی۔ اُن کا کہنا ہے ’تشکیل دی گئی ٹیم تمام پہلوؤں بشمول جنگجو وہاں (قومی شاہراہ تک) کیسے پہنچے؟ انہیں ٹرانسپورٹ سہولیت کس نے فراہم کی؟ اُن کے پاس ہتھیار کہاں سے آئے؟ اُن کو فرار ہونے میں کس نے مدد کی اور کیا سیکورٹی میں کسی قسم کی کوتائی ہوئی ہے، کی تحقیقات کرے گی‘۔ چھ رکنی خصوصی تحقیقاتی ٹیم کی قیادت ڈپٹی انسپکٹر جنرل جنوبی کشمیر ایس پی پانی کریں گے۔

ٹیم کے دیگر اراکین میں سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس اننت ناگ الطاف احمد خان، ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کی رینک کا ایک افسر اور دیگر تین پولیس افسران شامل ہیں۔ آئی جی پی منیر خان کا کہنا ہے کہ یاتریوں پر حملہ جنگجو تنظیم لشکر طیبہ نے انجام دیا ہے۔ انہوں نے گذشتہ روز یہاں میڈیا سے بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ حملہ پاکستانی لشکر جنگجو اسماعیل کے کہنے پر انجام دیا گیا۔انہوں نے کہا تھا کہ یاتریوں کی گاڑی پر حملے میں پانچ سے چھ جنگجو ملوث ہیں۔ تاہم جنگجو تنظیم (لشکر طیبہ) نے اس حملے میں ملوث ہونے سے انکار کیا ہے۔ کراس فائرنگ کی زد میں آنے والی بس امرناتھ یاترا کے بال تل بیس کیمپ سے جموں کی طرف جارہی تھی۔

پولیس نے ایک بیان میں حملے کی تفصیلات فراہم کرتے ہوئے کہا تھا ’جنگجوؤں نے ابتدائی طور پر بٹنگو میں پولیس کے ایک بلٹ پروف بنکر پر فائرنگ کی۔ پولیس اہلکاروں نے بھی جوابی فائرنگ کی۔ ابتدائی فائرنگ میں کسی کے زخمی ہونے کی کوئی اطلاع نہیں تھی۔ اس کے بعد جنگجوؤں نے کھنہ بل میں ایک پولیس ناکے پر فائرنگ کی۔ پولیس اہلکاروں نے جوابی فائرنگ کی۔

سیاحوں (یاتریوں) کی ایک بس فائرنگ کی زد میں آگئی اور نتیجتاً 18 سیاح زخمی ہوگئے۔ ان میں سے 7 سیاح زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔ فائرنگ کی زد میں آنے والی بس بال تل سے جموں جارہی تھی اور قافلے میں شامل نہیں تھی‘۔ وادی میں تمام لوگوں بشمول علیحدگی پسند قائدین نے یاتریوں پر ہوئے حملے کی بھرپور مذمت کی۔ مختلف سول سوسائٹی گروپوں نے یاتریوں کی ہلاکت کے خلاف شدید احتجاج کیا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز