بنگلہ دیش میں مظلوم روہنگیا مسلمانوں کے لئے جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے ایک ہزار شیلٹر ہوم قائم

نئی دہلی۔ میانمار کے مظلوم انسانوں کے لیے جمعیۃ علماء ہند نے کوتو پالنگ کوکس بازار( بنگلہ دیش) میں ایک ہزار شیلٹر ہوم قائم کیے ہیں جہاں بے گھر خاندان رہ رہے ہیں۔

Nov 27, 2017 08:38 PM IST | Updated on: Nov 27, 2017 08:38 PM IST

نئی دہلی۔  میانمار کے مظلوم انسانوں کے لیے جمعیۃ علماء ہند نے کوتو پالنگ کوکس بازار( بنگلہ دیش) میں ایک ہزار شیلٹر ہوم قائم کیے ہیں جہاں بے گھر خاندان رہ رہے ہیں۔ یہ بات جمعیتہ کی جاری کردہ ایک پریس ریلیز میں کہی گئی ہے۔ ریلیز کے مطابق صرف موتو چھورا کیمپ میں جمعیۃ نے 160ہوم شیلٹرہوم بنائے ہیں۔جمعےۃ ریلیف ٹیم کے اہل کار مولانا مکنون احمد ابن مولانا فرید ا لدین مسعود نے بتایا کہ کھلا میدان ہونے کی وجہ سے لوگ سردیوں میں ٹھٹھر رہے ہیں، یہاں تقریبا آٹھ لاکھ افراد پناہ لیے ہوئے ہیں، بہت ہی برا حال ہے ،اس لیے ہم مزید شیلٹر ہوم بنانے کی تیاری کررہے ہیں ۔

واضح ہوکہ جمعیۃ علماء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا محمود مدنی کی سربراہی میں تنظیم کے ایک وفد نے ۲۷؍ستمبر کو کوکس بازار کا دورہ کیا تھا جس کے بعد باضابطہ طور سے جمعیۃ نے مقامی تنظیم اصلاح المسلمین پریشد بنگلہ دیش ودیگر کے اشتراک سے ریلیف آپریشن شروع کیا جو تاحال جاری ہے۔ جمعیۃ علماء ریلیف کمیٹی نے مشترکہ طور سے اب تک ڈھائی کروڑ مالیت کی فوڈ کٹس تقسیم کی ہیں ، وسیع پیمانے پر پہننے کے کیڑے اور بچوں کے کھانے اور برتن بھی تقسیم کیے گئے ہیں ،علاوہ ازیں پانچ سو ٹوائیلٹ اورواشر روم، ایک سو دس ٹیوب ویل اور پندرہ ڈیپ ٹیوب ویل نصب کیے گئے ہیں ۔

بنگلہ دیش میں مظلوم روہنگیا مسلمانوں کے لئے جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے ایک ہزار شیلٹر ہوم قائم

راحت رسانی کے علاوہ دینی و تعلیمی میدان میں بھی جمعیۃ نے وہاں پیش رفت کی ہے ، اب تک45مساجد تعمیر ہوئی ہیں۔ 20مکاتب ، پانچ حفظ کے مدارس اور چھ اسکول قائم کیے گئے ہیں جہاں بچے بڑی تعداد میں یتیم اور تنہا آئے ہوئے بچے داخل ہو رہے ہیں۔

راحت رسانی کے علاوہ دینی و تعلیمی میدان میں بھی جمعیۃ نے وہاں پیش رفت کی ہے ، اب تک45مساجد تعمیر ہوئی ہیں۔ 20مکاتب ، پانچ حفظ کے مدارس اور چھ اسکول قائم کیے گئے ہیں جہاں بچے بڑی تعداد میں یتیم اور تنہا آئے ہوئے بچے داخل ہو رہے ہیں۔کو کس بازار میں جمعیۃ کی طرف سے دو ہفتے تک رہ کر ریلیف کام کرنے والے مولانا حکیم الدین قاسمی اور مولانا قاری احمد عبداللہ نے بتایا کہ ’’میانمار میں قتل عام کے بدترین حادثے سے نہ صرف بستیاں اجڑی ہیں بلکہ سیکڑوں مدارس اور تعلیمی ادارے تباہ و بربادہوگئے، بے شمار طلباء شہید کردیے گئے ، جو بچ کر آئے ہیں ، ان کی تعلیم کا بندوبست بہت ہی ضروری کا م تھا ، اس لیے جمعیۃ اس میدان میں بھی بڑا کام کررہی ہے۔

Loading...

Loading...

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز