گوپال کرشن گاندھی نائب صدر کے عہدے کے لئے اپوزیشن کے امیدوار،میٹنگ میں جے ڈی یو بھی شامل

Jul 11, 2017 01:41 PM IST | Updated on: Jul 11, 2017 01:43 PM IST

نئی دہلی۔ مغربی بنگال کے سابق گورنر گوپال کرشن گاندھی نائب صدر کے عہدے کے لئے اپوزیشن کے امیدوار ہوں گے۔ یہ فیصلہ آج یہاں کانگریس صدر سونیا گادھي کی صدارت میں 18 اپوزیشن جماعتوں کے اجلاس میں کیا گیا۔ محترمہ گاندھی نے میٹنگ کے بعد ان اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں کی موجودگی میں صحافیوں کو بتایا کہ مسٹر گوپال کرشن گاندھی کو امیدوار بنانے کا فیصلہ متفقہ طور پر کیا گیا ہے۔

اجلاس میں جنتا دل یونائیٹیڈ کے لیڈر شرد یادو بھی موجود تھے۔ جے ڈی یو نے صدر کے انتخابات میں اپوزیشن جماعتوں کی امیدوار میرا کمار کو حمایت نہیں دی ہے۔ اجلاس میں سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ، کانگریس نائب صدر راہل گاندھی، بہوجن سماج پارٹی کے ستيش چندر مشرا، مارکسی کمیونسٹ پارٹی کے سیتا رام یچوری، سماج وادی پارٹی کے نریش اگروال سمیت درجنوں لیڈران شامل تھے۔

گوپال کرشن گاندھی نائب صدر کے عہدے کے لئے اپوزیشن کے امیدوار،میٹنگ میں جے ڈی یو بھی شامل

مغربی بنگال کے سابق گورنر گوپال کرشن گاندھی، فائل فوٹو ( گیٹی امیجیز)۔

اپوزیشن پارٹیوں کی میٹنگ میں جے ڈی یو بھی شامل

نائب صدر جمہوریہ کے انتخابات کے لئے امیدوار کے نام پر غور وخوض کرنے کےلئے اپوزیشن پارٹیوں کی آج یہاں ہوئی میٹنگ میں جنتا دل یونائیٹیڈ (جے ڈی یو) نے بھی حصہ لیا۔ جےڈی یو نے صدر جمہوریہ کے انتخابات میں اپوزیشن پارٹیوں کی امیدوار میرا کمار کو حمایت نہیں دی ہے۔اس کے پیش نظر میٹنگ میں اس کے شامل ہونے کو اہم مانا جارہا ہے۔ نائب صدر جمہوریہ کے عہدے کے لئے پرچہ نامزدگی داخل کرنے کا عمل چار جولائی سے شروع ہوچکا ہے اور 18 جولائی تک جاری رہےگا۔ الیکشن پانچ اگست کو ہوگا۔

میٹنگ میں امرناتھ یاترا کے ہلاک شدگان کو خراج عقیدت

وہیں، نائب صدر کے عہدے کے انتخاب کے لیے امیدوار طے کرنے کیلئے اپوزیشن جماعتوں کے اجلاس میں جموں و کشمیر میں دہشت گردانہ حملے میں ہلاک کئے گئے

امرناتھ یاتریوں کو آج یہاں خراج عقیدت پیش کیا گیا۔ کانگریس صدر سونیا گاندھی کی طرف سے بلائی گئی اس میٹنگ کے آغاز میں ہی امرناتھ یاتریوں پر اننت ناگ میں گزشتہ شب ہونے والے دہشت گردانہ حملے کا ذکر کیا گیا اور کچھ دیر خاموشی اختیار کرکے مہلوکین کو خراج عقیدت پیش کیا گیا۔ دہشت گردانہ حملے میں گجرات کے سات یاتری ہلاک اور 12 زخمی ہوئے تھے۔ اجلاس میں 18 اپوزیشن جماعتوں کے لیڈران موجود تھے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز