اسمبلی انتخابات سے قبل عام بجٹ پر اعتراض ، اپوزیشن نے الیکشن کمیشن کا کھٹکھٹایا دروازہ

Jan 04, 2017 05:57 PM IST | Updated on: Jan 04, 2017 05:57 PM IST

نئی دہلی: اترپردیش ، اتراکھنڈ اور پنجاب سمیت پانچ ریاستوں ے اسمبلی انتخابات کی تاریخوں کا اعلان ہونے کے بعد 18۔ 2017 کا عام بجٹ یکم فروری کو پیش کئے جانے کے سلسلے میں اعتراض کیا جانے لگا ہے۔ الیکشن کمیشن نے آج ہی اتر پردیش ، پنجاب ، اتراکھنڈ ، منی پور اور گوا اسمبلی انتخابات کے پروگرام کا اعلان کیا ہے اور اس کے ساتھ ہی ان ریاستوں میں انتخابی ضابطہ عمل نافذ ہوگیا ہے۔ کمیشن نے کہا ہے کہ ریاستوں کے لئے مرکزی حکومت منصوبوں پر بھی ضابطہ اخلاق نافذ رہے گا۔ ان ریاستوں میں چار فروری سے 8 مارچ تک ووٹ ڈالے جائیں گے اور 11 مارچ کو ووٹوں ی گنتی ہوگی۔

مودی حکومت نے یکم فروری کو عام بجٹ پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سال الگ سے ریل بجٹ پیش نہیں کیا جائے گا اور وہ عام بجٹ کا ہی حصہ ہوگا۔ کانگریس سمیت 16 اپوزیشن پارٹیوں نے صدر جمہوریہ اور الیکشن کمیشن کو خط لکھا ہے کہ مودی حکومت عام بجٹ میں کچھ اعلانات کرکے پانچ ریاستوں میں اسمبلی انتخابات میں فائدہ اٹھانے کی کوشش کرسکتی ہے۔

اسمبلی انتخابات سے قبل عام بجٹ پر اعتراض ، اپوزیشن نے الیکشن کمیشن کا کھٹکھٹایا دروازہ

چیف الیکشن کمیشن نسیم الدین زیدی نے انتخابات کی تاریخوں کا اعلان کرنے کے بعد ایک سوال کے جواب میں اس با ت کا اعتراف کیا کہ کچھ سیاسی پارٹیوں سے انہیں پارلیمنٹ کے بجٹ اجلاس کے سلسلے میں میمورنڈم ملے ہیں۔ مسٹر زیدی نے بتایا کہ ان کا جائزہ لینے کے بعد کمیشن اس معاملے پر کوئی فیصلہ کرے گا۔ سیاسی پارٹیوں کی دلیل ہے کہ حکومت بجٹ میں ووٹروں کو لبھانے کے لئے پرکشش وعدے کرسکتی ہے اور ان کا فائدہ اٹھانے کے لئے تشہیر بھی کرسکتی ہے۔

عام آدمی پارٹی (آپ) نے بھی یکم فروری کو بجٹ پیش کرنے کے مسئلے پر سوال اٹھائے ہیں۔ ’’آپ‘‘ کے لیڈر آشوتوش نے ٹویٹ کرکے کہا ہے کہ گوا اور پنجاب اسمبلی انتخابات کے لئے چارفروری کو ووٹنگ ہوگی جب کہ مرکز کا یکم فروری کو عام بجٹ پیش کرنے کا ارادہ ہے۔ ان دونوں ریاستوں میں عام بجٹ پیش کرنے کے محض تین دن بعد ووٹنگ کرانا غلط ہوگا۔ ’’آپ‘‘ کے لیڈر نے الیکشن کمیشن کے اس معاملے پر نوٹس لینے اور مناسب ہدایت جاری کرنے کی درخواست کی ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز