گورکھپور میں بچوں کی اموات کا معاملہ: کانگریس نے مانگا سی ایم یوگی کا استعفی

Aug 12, 2017 12:43 PM IST | Updated on: Aug 12, 2017 02:50 PM IST

گورکھپور۔  وزیراعلی یوگی آدتیہ ناتھ کے پارلیمانی حلقہ گورکھپور میں واقع بابا راگھوداس میڈیکل کالج میں ہونے والی بچوں کی اموات کا ٹھیکرا ریاستی حکومت پر پھوڑتے ہوئے کانگریس جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا میں اپوزیشن لیڈر غلام نبی آزاد نے وزیر اعلی سے استعفی کا مطالبہ کیا ۔ مسٹر غلام نبی آزاد نے میڈیکل کالج و اسپتال کا دورہ کرنے کے بعد کہا کہ اس واقعہ سے ملک مجروح ہوا ہے۔ حکومت کی مبینہ لاپرواہی کی وجہ سے بچوں کے خاندانوں کو دکھ پہنچا ہے۔ اس پر اتر پردیش کے وزیر اعلی، وزیر صحت اور محکمہ صحت کے سکریٹری کو فورا استعفی دینا چاہئے۔ پارٹی کے ریاستی صدر راج ببر کے ساتھ گورکھپور آنے والے کانگریس لیڈر نے کہا کہ یہ حکومت کی ذمہ داری ہے، اپنی ذمہ داری سے وہ پیچھے نہیں ہٹ سکتی۔ اس میں ڈاکٹروں کی کوئی غلطی نظر نہیں آتی۔ مرکز میں وزیر رہتے ہوئے انہوں نے اس میڈیکل کالج و اسپتال کی مدد کی تھی۔ ان کا دعوی تھا کہ اتر پردیش کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کے حلقہ گورکھپور کے میڈیکل کالج میں 2 دن میں 26 بچوں سمیت 63 مریضوں کی موت ہو گئی۔ اس کی وجہ ادائیگی رکنے سے آکسیجن دینے والی کمپنی کی طرف سے سپلائی بند کرنا بتائی جا رہی ہے۔

مسٹرغلام نبی آزاد نے کہا کہ مقامی اخبارات میں آکسیجن کی کمی اور دیگر خامیوں کے سلسلے میں مسلسل خبریں چھپ رہی تھیں  لیکن حکومت نے اس پر کوئی توجہ ہی نہیں دی ۔ ان کا دعوی تھا کہ انہیں پختہ معلومات ہے کہ اسپتال میں ایک ماہ سے آکسیجن کی کمی تھی۔

گورکھپور میں بچوں کی اموات کا معاملہ: کانگریس نے مانگا سی ایم یوگی کا استعفی

انہوں نے کہا کہ ریاست میں جنگل راج ہو گیا ہے۔ پانچ دنوں میں 60 مریضوں کی موت ہوئی۔ موت کے بعد بچوں کے خاندان کو جلدی میں گھر پہنچا دیا گیا تاکہ وہ کسی سے مل نہ سکیں۔ انہوں نے ارکان پارلیمنٹ کی ٹیم سے پورے معاملے کی جانچ کرانے کا بھی مطالبہ کیا۔ ادھر، ذرائع کا دعوی ہے کہ میڈیکل کالج چھ ماہ میں 69 لاکھ روپے کا آکسیجن بقایہ پر لے چکا ہے۔ آکسیجن فراہم کرنے والی کمپنی کا کہنا ہے کہ کئی بار خط بھیجنے کے بعد بھی ادا ئیگی نہیں کی گئی۔ تین دن پہلے آکسیجن ٹینک میں پریشر گھٹنے لگا تھا ۔

دوسری طرف ریاست کے نائب وزیر اعلی کیشو پرساد موریہ اور ریاستی حکومت کے ترجمان اور وزیر صحت سد ھارتھ ناتھ سنگھ نے اپوزیشن پر اس معاملے کو لے کر سیاست کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے معاملات میں سیاست نہیں کی جانی چاہئے۔ مسٹر موریہ نے کہا کہ اپوزیشن کا بیان سیاست پر مبنی ہے۔ یوگی حکومت عوام کی بھلائی میں دن رات مصروف ہے۔ معاملہ حساس ہے۔ قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی ہوگی۔ مسٹرغلام نبی آزاد نے وزیر اعلی سے مردہ بچوں کے والدین سے اور ریاست کے عوام سے معافی مانگنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ تین دن پہلے ہی وزیر اعلی نے میڈیکل کالج کا دورہ کیا تھا، لیکن انہیں یہاں کی دشواريو ں کے بارے میں نہیں بتایا گیا۔ ان سب کے بعد، اس کے لیے کون ذمہ دار ہے؟ کارروائی کب ہوگی؟ جن بچوں کی جان چلی گئی ہے انہیں کیا واپس لایا جا سکتا ہے؟

واضح رہے کہ میڈیکل کالج میں گزشتہ سات اگست سے 60 لوگوں کی موت ہونے سے گورکھپور سے لکھنؤ تک ہنگامہ مچا ہوا ہے۔ کیس کی تحقیقات کا حکم دیا گیا ہے اور لکھنؤ سے طبی ڈائریکٹر جنرل ڈا کٹر کے کے گپتا کو گورکھپور بھیجا گیا ہے۔ ڈا کٹر کے کے گپتا نے " یو این آئی " کو بتایا کہ وہ اپنی رپورٹ جلد سے جلد حکومت کو دیں گے۔ گورکھپور کے ضلع مجسٹریٹ نے کل 24 گھنٹے میں 30 بچوں کی موت کی تصدیق کی تھی، جبکہ کمشنر انل کمار کے مطابق گزشتہ سات اگست سے کل تک 60 مریضوں کی موت ہوئی ہے۔ ضلع مجسٹریٹ نے بتایا کہ میڈیکل کالج کے نوزائیدہ وارڈ میں 17، دماغی بخار وارڈ میں پانچ اور جنرل وارڈ میں آٹھ بچوں کی موت ہوئی تھی۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز