سونیا کی طلب کردہ اپوزیشن پارٹیوں کی میٹنگ سے این سی پی غیر حاضر ، جے ڈی یو لیڈر علی انور کی شرکت

Aug 11, 2017 08:54 PM IST | Updated on: Aug 11, 2017 09:05 PM IST

نئی دہلی: جنتا دل یو کے بعد اب نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) نے اپوزیشن پارٹیوں کی یکجہتی کو دھچکا دیا ہے۔ کانگریس صدر سونیا گاندھی کی طرف سے آج یہاں طلب کی گئی اپوزیشن پارٹیوں کی میٹنگ میں این سی پی شامل نہیں ہوئی۔ اپوزیشن پارٹیوں کے اتحاد کو مستحکم کرنے کی حکمت عملی پر غورو خوض کرنے کے لئے طلب کی گئی اس میٹنگ میں جنتا دل (یو) کے راجیہ سبھا ممبر پارلیمنٹ علی انور نے حصہ لیا لیکن پارٹی صدر نتیش کمار نے اس کے لئے انھیں اختیار نہیں دیا تھا ۔ وہ جنتادل یو کے سابق صدر شرد یادو کے ساتھ پارٹی کے بہار میں عظیم اتحاد سے الگ ہونے کی مخالفت کر رہے ہیں۔

بتایا جاتا ہے کہ این سی پی گجرات میں راجیہ سبھا انتخابات پر کانگریس کی طرف سے آ رہے ان بیانات سے ناراض ہے کہ ان کی پارٹی نے اس میں مسٹر احمد پٹیل کو حمایت نہیں دی۔ این سی پی کا کہنا ہے کہ اس نے اپنے اراکین اسمبلی کو کانگریس امیدوار کی حمایت کرنے کے لئے وہپ جاری کیا تھا۔

سونیا کی طلب کردہ اپوزیشن پارٹیوں کی میٹنگ سے این سی پی غیر حاضر ، جے ڈی یو لیڈر علی انور کی شرکت

میٹنگ میں ترنمول کانگریس کی سربراہ اور مغربی بنگال کی وزیر اعلی ممتا بنرجی، سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ، راجیہ سبھا میں حزب اختلاف کے رہنما غلام نبی آزاد، ڈی ایم کے کے تری روچی شیوا، اور مارکسی کمیونسٹ پارٹی کے سیتا رام یچوری نے شرکت کی۔ ان کے علاوہ ہندستان کی کمیونسٹ پارٹی کے ڈی راجہ، بہوجن سماج پارٹی کے ستیش چندر مشرا، راشٹریہ جنتا دل کے جے پرکاش نارائن یادو، سماج وادی پارٹی کے نریش اگروال، نیشنل کانفرنس کے عمر عبداللہ، آئی یو ایم ایل کے محمد بشیر اور ریولوشنری سوشلسٹ پارٹی کے این کے پریم چندرن وغیرہ میٹنگ میں شامل ہوئے۔ مسٹر جے پرکاش نارائن یادو نے بتایا کہ انہوں نے میٹنگ میں آر جے ڈی کی جانب سے 27 اگست کو پٹنہ میں منعقد کی جا رہی 'دیش بچاؤ، بی جے پی بگاؤ' ریلی میں شرکت کے لئے سبھی رہنماؤں کو مدعو کیا ہے ۔

مسٹر یچوری نے کہا کہ انہوں نے بی جے پی اور وزیر اعظم نریندر مودی کی پالیسیوں کے خلاف ملک بھر میں سیاسی ماحول بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ بائیں بازوکی پارٹیاں اس کے لئے عوام کے بیچ جائیں گی ۔ اس بارے میں پوچھے جانے پر کہ کیا ان کی پارٹی آر جے ڈی کی 27 اگست کی ریلی میں شامل ہوگی ، انہوں نے کہا کہ اس بارے میں پارٹی کی جلد ہی ہونے والی میٹنگ میں غور کیا جائے گا۔

صدر جمہوریہ اور نائب صدر جمہوریہ کے انتخابات میں اپوزیشن پارٹیوں کی یکجہتی سامنے آئی تھی لیکن اس کے بعد جنتا دل یو کے بہار میں عظیم اتحاد سے ناطہ توڈكر بی جے پی کے ساتھ حکومت بنانے سے اسے جھٹکا لگا تھا۔ آج کی میٹنگ میں این سی پی کا شامل نہیں ہونا بھی اپوزیشن کی یکجہتی کے لئے ایک اور بڑا دھچکا مانا جا رہا ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز