سری نگر میں اپوزیشن جماعتوں کا اجلاس ، دفعہ 35 اے کی دفاع کو موت و حیات کا سوال قرار دیا

Aug 25, 2017 08:01 PM IST | Updated on: Aug 25, 2017 08:01 PM IST

سری نگر: نیشنل کانفرنس کے صدر و رکن پارلیمنٹ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ آخری ڈوگرہ حکمران مہاراجہ ہری سنگھ نے جموں و کشمیر کا ہندوستان کے ساتھ مشروط الحاق کیا ہے اور مرکزی سرکار کے ساتھ ساتھ ملک کے سرکردہ سیاسی لیڈران کو اس مشروط الحاق کا احترام کرکے ریاست کی خصوصی پوزیشن کی مکمل بحالی کے لئے آگے آنا چاہیے اور ساتھ ہی ریاست کی پہچان کے خلاف ہورہی سازشوں کا توڑ بھی کرنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ اور اسمبلی میں ریاست کی خصوصی پوزیشن کے ساتھ چھیڑ چھاڑ ممکن نہیں ہے اس لئے دشمنوں نے عدالت کا راستہ اختیار کیاہے۔ فاروق عبداللہ نے ان باتوں کا اظہار جمعہ کو یہاں اپنی رہائش گاہ پر ریاست کے تینوں خطوں سے تعلق رکھنے والی اپوزیشن جماعتوں کے لیڈروں کے ایک غیرمعمولی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ یہ اجلاس دفعہ 35 اے پر ریاست بھر میں رائے عامہ کو منظم کرنے کے لئے اپوزیشن کی جانب سے شروع کردہ مہم کے سلسلے میں بلایا گیا تھا۔

سری نگر میں اپوزیشن جماعتوں کا اجلاس ، دفعہ 35 اے کی دفاع کو موت و حیات کا سوال قرار دیا

نیشنل کانفرنس صدر نے اپنے خطاب میں کہا کہ مرکزی سرکار کو سپریم کورٹ میں دفعہ 35 اے کے خلاف دائر مفاد عامہ عرضی کے خلاف بروقت تحریری جواب دینا چاہیے تھا لیکن ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت اس کیس کو سماعت کے لئے منظور کروایا گیا۔انہوں نے کہا کہ اس کیس کی سماعت اب ہمارے لئے موت و حیات کا سوال بن کر رہ گیا ہے، اس دفعہ کے خلاف فیصلہ سے ہماری پہچان اور وجود مکمل طور پر ختم ہوجائے گا اور یہ سلسلہ جموں اور لداخ سے شروع ہوگا۔

نیشنل کانفرنس کے ایک ترجمان نے بتایا کہ میٹنگ میں پارٹی کے کارگذار صدر عمر عبداللہ کے علاوہ ریاستی کانگریس کے صدر جی اے میر، سینئر سیاسی لیڈران محمد یوسف تاریگامی، حکیم محمد یاسین، غلام حسن میر، جی ایم سروری،تاج محی الدین، شام لعل شرما، عبدالرحمان ٹکرو جبکہ نیشنل کانفرنس کے جنرل سکریٹری علی محمد ساگر، سینئر لیڈران عبدالرحیم راتھر، محمد شفیع اوڑی، میاں الطاف احمد، چودھری محمد رمضان، ناصر اسلم وانی ،دیوندر سنگھ رانا ، قمر علی آخون، ٹی نمگیاں،فیروز احمد خان اور کئی سرکردہ لیڈران نے شرکت کی۔

انہوں نے بتایا کہ اجلاس میں ریاست کو دفعہ35اے کی صورت میں درپیش چیلنج کے بارے میں سیر حاصل بحث کی گئی اور اس دفعہ کا سیاسی اور قانونی طور پر دفاع کرنے کے لائحہ پر بھی تبادلہ خیالات کیا گیا۔ ترجمان کے مطابق اجلاس کے شرکا نے یک زبان ہوکر اس دفعہ کے خلاف ہورہی سازشوں کی پُرزور الفاظ میں مذمت کی اور کہا کہ اس دفعہ کے خاتمے سے ریاست کی پہچان اور شناخت بھی ختم ہوجائے گی۔ فاروق عبداللہ نے کہا ’سٹیٹ سبجیکٹ قانون صرف کشمیر یا کشمیریوں کے لئے ہی نہیں بلکہ جموں اور لداخ کے بھی اُتنا ہی اہم ہے۔ اگر خدا نخوستہ اس قانون کو ختم کیا گیا تو سب سے پہلے جموں اور لداخ ہی متاثر ہوں گے۔ اس لئے ضروری ہے ریاست کے تینوں خطوں کے لوگ بلا لحاظ مذہب و ملت، رنگ و نسل متحد ہوکر مشترکہ طور پر ریاست کی انفرادیت اور پہچان کا دفاع کریں‘۔

انہوں نے کہا کہ دفعہ 35 اے کے دفاع کی لڑائی صرف مسلمانوں یا کشمیریوں کی جنگ نہیں، یہ دفعہ کشمیریوں کے مفادات کے لئے جتنی اہم ہے اُس سے زیادہ اہم لداخیوں اور جموں کے رہنے والے لوگوں کے لئے ہے۔ فاروق عبداللہ نے کہا ’ دفعہ 35 اے مسلمانوں کے لئے جتنی ضروری ہے اُتنی ہی اہمیت کی حامل یہاں رہنے والے ہندؤں، سکھوں، بودھوں اور عیسائیوں کے لئے بھی ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ دفعہ 35 اے آئین ہند میں جموں وکشمیر کی شناخت کی ضامن ہے اور یہ دفعہ فرقہ پرستوں کو روز اول سے ہی کھٹکتی آئی ہے۔ انہوں نے اجلاس کے شرکا کو تاکید کی کہ وہ اپنے اپنے علاقوں میں جاکر اپنی اپنی جماعتوں کے عہدیداروں اور ورکروں کے ذریعے دفعہ 35 اے کی اہمیت اور افادیت کو اجاگر کرنے کے علاوہ اس دفعہ کے نہ رہنے سے ہم پر پڑنے والے منفی اثرات کے بارے میں بھی آگہی پھیلائیں۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز