شراب بندی : مظاہرہ کرنے والی 433 خواتین جیل میں بند ، اپوزیشن کا الزام ، اعظم خان کو بولنے نہیں دیا گیا

May 17, 2017 06:20 PM IST | Updated on: May 17, 2017 06:27 PM IST

لکھنؤ: اترپردیش اسمبلی کے سابق اسپیکر سکھ دیو راج بھر نے شراب بندی کے سلسلے میں 433 خواتین کو جیل میں بند ہونے کی بات کہہ کر آج ایوان میں اراکین کو حیران کردیا۔ وقفہ صفر میں ضابطہ کا سوال اٹھاتے ہوئے بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی ) کے سینئر لیڈر مسٹر راج بھر نے کہاکہ گزشتہ دنوں شراب کی دکانوں پر مظاہرہ کرنے والی عورتوں کو جیل میں بند کردیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں ریاست بھر میں 161 مقدمے درج کئے گئے۔ جس کام کیلئے عورتوں کو شاباشی ملنی چاہئے تھی، اس میں ان کے خلاف رپورٹ درج ہوئے اور انہیں جیل بھیجا گیا۔

مسٹر راج بھر نے کہاکہ پسماندہ بستیوں میں شراب کی دکانیں بڑے پیمانے پر کھُل رہی ہیں۔ عورتوں نے جب مخالفت کی تو پولیس نے لاٹھی چارج کیا۔ 70 سے 80 سال کی عورتوں کو بھی جیل میں بند کردیا گیا ہے۔ کچھ عورتوں کے ساتھ ان کے دو ڈھائی سال کے بچے بھی جیل میں ہیں۔ پولیس ان عورتوں کے خلاف فرد جرم عائد کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔

شراب بندی : مظاہرہ کرنے والی 433 خواتین جیل میں بند ، اپوزیشن کا الزام ، اعظم خان کو بولنے نہیں دیا گیا

file photo

اسمبلی کے سابق اسپیکر کا کہنا تھا کہ جس کام کیلئے عورتوں کو انعام دیا جانا چاہئے تھا، اس کیلئے انہیں فرد جرم تک کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے حکومت سے انسانی بنیاد پر فیصلہ کرنے کی درخواست کی۔ انہوں نے کہاکہ عورتوں کو جیل سے رہا کرنے کے ساتھ ہی ان کے خلاف سارے معاملے واپس لے لئے جانے چاہئیں۔ تاہم پارلیمانی امور کے وزیر سریش کھنہ نے کہاکہ یہ کہنا درست نہیں ہے کہ آج 433 عورتیں جیل کے اندر بند ہیں۔

اس سلسلے میں ایس پی لیڈر اعظم خان بھی کچھ بولنا چاہتے تھے لیکن مسٹر کھنہ نے انہیں یہ کہہ کر ٹوک دیاکہ ضابطہ 300 کے تحت سوال اٹھانے والے رکن کے علاوہ دوسرے ممبر کس طرح بول سکتے ہیں۔ مسٹر خان کے بولنے کی ضد کی وجہ سے حکمراں بھارتیہ جنتا پارٹی اور اہم اپوزیشن پارٹی کے اراکین اپنی اپنی سیٹوں پر کھڑے ہو کر ہنگامہ کرنے لگے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز