تو کیا ہماری جیب میں پڑے 500 اور 2000 روپے کے نوٹ دو الگ الگ سائز کے ہیں؟

Aug 08, 2017 04:45 PM IST | Updated on: Aug 08, 2017 04:45 PM IST

نئی دہلی۔ کانگریس نے وزیر اعظم نریندر مودی سے نوٹ بندی کے بعد چھاپے گئے 500اور 2000 روپے کے نئے نوٹوں میں گڑبڑی پر وضاحت دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ کانگریس کے سینئر لیڈر کپل سبل نے یہاں خصوصی پریس کانفرنس میں کہا کہ نوٹ بندی کے بعد 500 اور 2000 روپے کے جو نوٹ چھاپے گئے ہیں ان میں گڑبڑی ہے۔ پانچ سو روپے کے تین طرح کے نوٹ بازار میں چل رہے ہیں اور دو ہزار روپے کے نوٹوں میں بھی کافی فرق ہے۔ یہاں تک کہ ایک بنڈل میں ایک ہی قیمت کے سلسلہ وار رکھے گئے دو نوٹوں کے ڈیزائن ، رنگ اور سائز میں بھی فرق ہے۔ اس سے پریشانی ہورہی ہے اور ملک کی مالی صورت حال پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ اس لئے وزیر اعظم کو وضاحت کرنی چاہئے۔

انہوں نے کہا کہ ریزرو بینک کے مطابق 500 روپے کے نوٹ کی لمبائی 150ملی میٹر اور چوڑائی 66ملی میٹر ہے لیکن بازار میں 155۔153 اور 151 ملی میٹر کے پانچ سو روپے کے نوٹ موجود ہیں۔ ان کے سائز کے علاوہ ڈیزائن اور فیچرس میں بھی فر ق ہے۔ اشوک چکر کی جگہ پر بھی فرق ہے اور نوٹ کے رنگ میں بھی فرق ہے۔ اسی طرح کے فرق دو ہزار روپے کے نوٹوں پر بھی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پہلے اس طرح کا فرق نوٹوں میں کبھی دیکھنے میں نہیں آیا۔ یہاں تک کہ سو روپے کے نوٹوں میں بھی کسی طرح کا فرق نہیں ہے۔

تو کیا ہماری جیب میں پڑے 500 اور 2000 روپے کے نوٹ دو الگ الگ سائز کے ہیں؟

کانگریس کے سینئر لیڈر کپل سبل نے یہاں خصوصی پریس کانفرنس میں کہا کہ نوٹ بندی کے بعد 500 اور 2000 روپے کے جو نوٹ چھاپے گئے ہیں ان میں گڑبڑی ہے۔

مسٹر سبل نے کہا کہ ایک نوٹ ریزرو بینک آف انڈیا چھاپ کر جاری کررہا ہے تو دوسرا نوٹ کون چھاپ رہا ہے۔ کس پرنٹنگ پریس میں یہ نوٹ چھپ رہے ہیں اور کس کے حکم پر چھاپے جا رہے ہیں۔ یہ نوٹ ملک میں ہی چھپ رہے ہیں یا بیرون ملک چھپ رہے ہیں۔ بازار میں ایک ہی قیمت کے دو طرح کے نوٹ آنے کے بعد لوگوں میں گومگو کی کیفیت ہے اور اس کے بارے میں حکومت کو جواب دینا چاہئے۔

کانگریس رہنما نے ایک ہی قیمت کے دو طرح کے نوٹوں کی چھپائی کو مجرمانہ لاپرواہی قرار دیا اور کہا کہ اس سے کئی طرح کے سوالات پیدا ہورہے ہیں۔ ایک ہی قیمت کے نوٹوں میں بھاری فرق کی وجہ کی سچائی سامنے لانی چاہئے اور ملک کے عوام کو معلوم ہونا چاہئے کہ بازار میں جو نوٹ چل رہے ہیں وہ ملک کے معاشی نظام کے لئے خطرناک نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک ہی قیمت کے نوٹوں میں فرق نہ ہو یہ ذمہ داری حکومت کی ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ اگر دونوں طرح کے نوٹ درست ہیں اور انہیں ریزرو بینک کی اجازت سے شائع کیا گیا ہے تو پھر حکومت کو بتانا چاہئے کہ یہ بات ملک کے عوام سے کیوں چھپائی گئی تھی۔ انہوں نے بینکوں پر بھی سوال اٹھائے اور کہا کہ بینک الگ الگ سائز اور فیچر کے نوٹ کیوں چلا رہے ہیں۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز