نوٹ بندی پرحکومت کوگھیرنے کی حکمت عملی، آٹھ نومبر کو ’یوم سیاہ‘ کے طورپر منانے کا فیصلہ

Oct 24, 2017 05:33 PM IST | Updated on: Oct 24, 2017 05:33 PM IST

نئی دہلی۔  گجرات اور ہماچل پردیش اسمبلی انتخابات سے قبل حکومت کو گھیرنے کی حکمت عملی کے تحت متحدہ اپوزیشن پارٹیوں نے نوٹ بندي کے اعلان کے ایک سال مکمل ہونے کے موقع پر آٹھ نومبر کو ملک بھر میں 'یوم سیاہ ' منانےکا فیصلہ کیا ہے۔ راجیہ سبھا میں حزب اختلاف کے لیڈر غلام نبی آزاد نے ترنمول کانگریس کے ممبرپارلیمنٹ ڈیریک او برائن اور جنتا دل یونائیٹیڈ کے باغی لیڈر شرد یادو کے ساتھ آج یہاں مشترکہ پریس کانفرنس میں بتایا کہ کانگریس صدر سونیا گاندھی کی صدارت میں تشکیل شدہ 18 اپوزیشن پارٹیوں کی کو آرڈینیشن کمیٹی کی کل یہاں ہوئی پہلی میٹنگ میں یہ فیصلہ کیا گیا۔ اجلاس کے بعد 12 ان دیگر جماعتوں سے بھی بات چیت کی گئی جن کے نمائندے اس چھ رکنی کمیٹی میں نہیں ہیں۔

مسٹر آزاد نے کہا کہ نوٹ بندي کی مخالفت کرنے کے لئے تمام اپوزیشن پارٹیاں اپنے اپنے طریقے سے پروگرام بنائیں گی اور اپنی اپنی سطح پر اس کا اعلان کریں گی۔ اس دوران دھرنا -مظاہرہ، جلوس اور عوامی بیداری جیسے پروگرام منعقد کئے جائیں گے اور نوٹ بندي کے سلسلے میں نئے حقائق سے عوام کو روشناس کرایا جائے گا۔

نوٹ بندی پرحکومت کوگھیرنے کی حکمت عملی، آٹھ نومبر کو ’یوم سیاہ‘ کے طورپر منانے کا فیصلہ

راجیہ سبھا میں حزب اختلاف کے لیڈر غلام نبی آزاد نے ترنمول کانگریس کے ممبرپارلیمنٹ ڈیریک او برائن اور جنتا دل یونائیٹیڈ کے باغی لیڈر شرد یادو کے ساتھ آج یہاں مشترکہ پریس کانفرنس میں بتایا کہ کانگریس صدر سونیا گاندھی کی صدارت میں تشکیل شدہ 18 اپوزیشن پارٹیوں کی کو آرڈینیشن کمیٹی کی کل یہاں ہوئی پہلی میٹنگ میں یہ فیصلہ کیا گیا۔

مسٹر برائن نے نوٹ بندی کو جدید ہندوستان کا سب سے بڑا گھوٹالہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی پارٹی سربراہ ممتا بنرجی نے اسے لے کر کئی سوال اٹھائے لیکن آج تک ان کا جواب نہیں ملا۔ ترنمول رہنما نے کہا کہ پارلیمنٹ کے آئندہ سرمائی اجلاس سے پہلے کوآرڈینیشن کمیٹی کی ایک بار پھر میٹنگ ہوگی۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز