چدمبرم نے یوپی میں بی جے پی کی انتخابی کارکردگی کو' بھاری جیت' بتانے پر اٹھایا سوال

مسٹر چدمبرم نے ٹویٹ کیا کہ بی جے پی نے اتر پردیش میں کامیابی حاصل کی ہے اور اس کے لئے وہ مبارکباد کی مستحق ہے لیکن کیا پارٹی کا کل سیٹوں میں سے صرف 28 فیصد پر کامیابی حاصل کرنا بھاری جیت ہے؟

Dec 02, 2017 07:18 PM IST | Updated on: Dec 02, 2017 07:18 PM IST

نئی دہلی۔ کانگریس کے سینئر لیڈر اور سابق مرکزی وزیر پی چدمبرم نے اتر پردیش کے بلدیاتی اداروں کے انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی کارکردگی کو 'سویپ' یعنی 'بھاری جیت' بتائے جانے پر سوال اٹھاتے ہوئے آج کہا کہ اگر 28 فیصد عہدوں پر کامیابی حاصل کرنا 'سویپ' ہے ، تو آکسفورڈ اور ویب اسٹار جیسی ڈکشنریوں کو اس لفظ کی تعریف بدل دینی چاہئے۔ مسٹر چدمبرم نے ٹویٹ کیا کہ بی جے پی نے اتر پردیش میں کامیابی حاصل کی ہے اور اس کے لئے وہ مبارکباد کی مستحق ہے لیکن کیا پارٹی کا کل سیٹوں میں سے صرف 28 فیصد پر کامیابی حاصل کرنا بھاری جیت ہے؟

انہوں نے جی ڈی پی کے 5.7 فیصد سے بڑھ کر 6.3 فیصد تک پہنچنے کے لیے جی ڈی پی میں 'سرج' یعنی 'بڑی اچھال'بتائے جانے پر بھی حیرانی ظاہر کی۔ انہوں نے کہا کہ جب حکومت نےشرح معیشت کو دہائی کے ہندسے تک پہنچانے کا وعدہ کیا تھا تو ایسے وقت میں جی ڈی پی کے اس اضافہ کو 'بڑی اچھال' کس طرح کہا جا سکتا ہے؟۔

چدمبرم نے یوپی میں بی جے پی کی انتخابی کارکردگی کو' بھاری جیت' بتانے پر اٹھایا سوال

کانگریس کے سینئر لیڈر اور سابق مرکزی وزیر پی چدمبرم: فائل فوٹو۔

سابق وزیر خزانہ نے کہا کہ میڈیا کے ذریعہ مقامی اداروں میں بی جے پی کی کامیابی کو 'بھاری جیت' اور جی ڈی پی میں اضافہ کو 'بڑا اچھال' بتائے جانے کے بعد آکسفورڈ اور ویبسٹر کو 'سویپ' اور 'سرج' الفاظ کے معنی بدل دینا چاہئے۔ خیال رہے کہ بلدیاتی انتخابات میں مجموعی طور پر آزاد امیدواروں کو سب سے زیادہ کامیابی ملی، ان کے بعد بی جے پی سب سے آگے رہی ہے جبکہ ایس پی اور بی ایس پی کا مقام اس کے بعد ہے۔ میئر کے کل 16 عہدوں میں سے بی جے پی نے زبردست کامیابی حاصل کرکے 14 پر قبضہ کیا ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز