پی چدمبرم نے وادی کے موجودہ حالات کو بتایا انتہائی سنگین ، کہا : ہم کشمیر کو کھونے کے دہانے پر ہیں

Apr 16, 2017 03:22 PM IST | Updated on: Apr 16, 2017 03:31 PM IST

نئی دہلی: کانگریس کے سینئر لیڈر اور سابق مرکزی وزیر داخلہ و خزانہ پی چدمبرم نے وادئ کشمیر کے موجودہ حالات کو انتہائی گھمبیر قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’ہم کشمیر کو کھونے کے دہانے پر ہیں‘۔ انہوں نے کہا ہے کہ کشمیر میں ہتھیار اٹھانے والوں اور اسے(کشمیر کو) پاکستان کے ساتھ ملانے کا مطالبہ کرنے والوں کی تعداد محض سینکڑوں میں ہے ، جبکہ کشمیری عوام کی غالب اکثریت آزادی کا مطالبہ کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جہاں ریاست میں پی ڈی پی اور بی جے پی کی موجودہ مخلوط سرکار بے بس نظر آرہی ہے، وہیں مسلح افواج نے اختلاف رائے اور گڑبڑی پر قابو پانے کے لئے طاقت کے استعمال کی پالیسی اختیار کررکھی ہے۔

پی چدمبرم نے ان باتوں کا اظہار انگریزی روزنامہ انڈین ایکسپریس میں چھپنے والے اپنے سنڈے کالم میں کیا ہے۔ انہوں نے کشمیر کے موجودہ حالات میں سدھار لانے کے لئے ریاست میں گورنر راج نافذ کرانے، تمام متعلقین بشمول علیحدگی پسندوں کے ساتھ مذاکرات شروع کرنے کا اعلان کئے جانے، مذاکرات کے لئے مذاکرات کاروں کی تقرری عمل میں لانے ، فوج و دیگر سیکورٹی فورسز کی تعداد کم کرنے اور پاکستان کے ساتھ ملنے والی سرحدوں پر چوکسی سخت کرنے کی 5 نکاتی تجاویز پیش کی ہیں۔ سابق مرکزی وزیر داخلہ و خزانہ نے کہا ہے کہ ہندوستان کشمیر کو کھونے کے دہانے پر ہے۔ انہوں نے کہا ہے نوشتہ دیوار بالکل واضح ہے۔ کشمیری عوام کی بیگانگی تقریباً مکمل ہوچکی ہے۔ ہم کشمیر کو کھونے کے دہانے پر ہیں۔ ہم طاقت کے استعمال کی پالیسی، وزراء کے سخت بیانات، فوجی سربراہ کی سنگین تنبیہات ، مزید فوجیوں کی تعیناتی یا احتجاجیوں کو ہلاک کرنے سے جاری صورتحال پر قابو نہیں پاسکتے ہیں۔

پی چدمبرم نے وادی کے موجودہ حالات کو بتایا انتہائی سنگین ، کہا : ہم کشمیر کو کھونے کے دہانے پر ہیں

پی ٹی آئی

انہوں نے کشمیر کے موجودہ حالات کو انتہائی گھمبیر قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے ’جموں وکشمیر نے اچھا دور اور برا دور بھی دیکھا ہے، لیکن موجودہ دور اب تک کا بدترین دور نظر آرہا ہے‘۔ پی چدمبرم نے کہا ہے کہ کشمیر میں پی ڈی پی کو ایک دھوکے باز جبکہ بی جے پی کو ایک غاصب کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا ہے ’جموں وکشمیر میں سال 2014 ء میں منعقدہ اسمبلی انتخابات کے بعد دو غیرامکانی اتحادیوں پی ڈی پی اور بی جے پی نے مخلوط سرکار تشکیل دی۔ یہ ایک بہت بڑی اشتعال انگیزی بنی ہوئی ہے۔

پی ڈی پی کو دھوکے باز جبکہ بی جے پی کو ایک غاصب کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔ جہاں یہ مخالف سمتوں والی سرکار بے بس نظر آرہی ہے، وہیں مسلح افواج نے اختلاف رائے اور گڑبڑی پر قابو پانے کے لئے طاقت کے استعمال کی پالیسی اختیار کررکھی ہے‘۔ انہوں نے معروف حزب المجاہدین کمانڈر برہان مظفر وانی کی ہلاکت کے بعد پیدا شدہ صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے ’کشمیر میں جولائی 2016 ء سے لیکر 20 جنوری 2017 ء تک تشدد کے واقعات میں 75 جانیں ضائع ہوئی ہیں۔ 12 ہزار لوگ زخمی ہوگئے ہیں۔ ایک ہزار شہری چھرے والی بندوقوں کے استعمال سے اپنی ایک آنکھ کی بینائی کھو چکے ہیں‘۔ پی چدمبرم نے حالیہ پارلیمانی ضمنی انتخابات میں کم ترین شرح رائے دہی کو کشمیری عوام کا ریاستی و مرکزی سرکاروں پر عدم اعتماد کا اظہار قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے ’جب میں یہ (کالم) تحریر کررہا ہوں، جموں وکشمیر میں صورتحال مزید خراب ہوگئی ہے۔

سری نگر اور اننت ناگ کی پارلیمانی نشستوں پر ضمنی انتخابات ہونے والے تھے۔ تین اضلاع پر مشتمل سری نگر کی پارلیمانی نشست پر 9 اپریل کو پولنگ ہوئی۔ ووٹ ڈالنے کی شرح 7 اعشاریہ 14 ریکارڈ کی گئی جو کہ گذشتہ 28 برسوں میں سب سے کم ہے۔ پولنگ کے دوران بڑے پیمانے پر سنگبازی ہوئی۔ فورسز کی فائرنگ میں آٹھ لوگ مارے گئے۔ 38 پولنگ اسٹیشنوں پر 13 اپریل کو ری پولنگ ہوئی اور 20 پولنگ اسٹیشنوں پر کوئی ووٹر ووٹ ڈالنے کے لئے نہیں آیا۔ ری پولنگ میں رائے دہی کی شرح 2 اعشاریہ 02 ریکارڈ کی گئی۔ اس دوران اننت ناگ کی پارلیمانی نشست پر ہونے والی پولنگ 25 مئی تک موخر کردی گئی۔ ووٹ نہ ڈالنا اصل میں ریاستی اور مرکزی سرکاروں کے خلاف عدم اعتماد کا ووٹ ہے‘۔

سابق مرکزی وزیر نے کہا ہے کہ 1947 ء میں جموں وکشمیر کا بھارت کے ساتھ الحاق ایک بڑے سودے کے تحت ہوا اور دفعہ 370 کی 1950 ء میں بھارتی آئین میں شمولیت نے اسے متجسم کیا۔ انہوں نے کہا ہے کہ ریاست اور مرکز میں ہر ایک سرکار نے کشمیر سے ابھرنے والے چیلنج کا جواب مزید تنبیہات، مزید فوجیوں اور مزید قوانین سے دیا ہے۔ پی چدمبرم نے کہا ہے ’میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ کشمیر ایک ایسا موضوع ہے جس پر وزرائے اعظموں کی رٹ نہیں چلتی ہے‘۔

انہوں نے کہا ہے ’میرا ماننا ہے کہ مسٹر اٹل بہاری واجپائی نے حقیقی طور پر مسئلے کے حل کے لئے پہل کی۔ انہوں نے انسانیت کی بات کی ، لیکن آپریشن پاراکرم اُن کی قیادت والی حکومت کا ہی میراث تھی۔ ڈاکٹر من موہن سنگھ کو تاریخ کا شدید احساس تھا۔ انہوں نے نئے خیالات جیسے راؤنڈ ٹیبل کانفرنسوں، اف سپا میں ترمیم اور مذاکرات کاروں کی تعیناتی کو جگہ دی، لیکن بالآخر اسٹیبلشمنٹ کے نظریے کے سامنے سرینڈر کیا‘۔ پی چدمبرم نے موجودہ وزیر اعظم نریندر مودی کی بات کرتے ہوئے کہا ہے’مسٹر نریندر مودی نے مسٹر نواز شریف کو ئی حکومت کی حلف برداری کی تقریب میں بلاکر سب کو حیران کردیا، لیکن انہوں نے بھی فوراً اسٹیبلشمنٹ کے نظریے کو گلے لگایا‘۔

انہوں نے کہا ہے کہ ریاستی اور مرکزی سرکار کی جانب سے اختیار کی گئی پالیسیوں نے میری اس دلیل کو صحیح ثابت کردیا ہے کہ ’ہم کشمیر کو کھو رہے ہیں‘۔ انہوں نے کہا ہے ’کشمیر سے باہر کچھ لوگوں نے میری حمایت کی۔ بہتوں نے مجھ پر تنقید کی۔ مرکزی سرکار کا ایک وزیر مجھے ملک مخالف قرار دینے کے قریب پہنچا۔ میں نے اپنے خیالات نہیں بدلے ہیں۔ بلکہ حالیہ واقعات نے میرے خیالات کو مضبوطی بخشی ہے اور اب میں انہیں (اپنے خیالات) کو طاقت کے ساتھ بیان کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں‘۔

کشمیر پر بیانات کے لئے مشہور پی چدمبرم نے وادی کے موجودہ حالات میں سدھار لانے کے لئے 5 نکاتی تجاویز پیش کرتے ہوئے کہا ہے ’ملک مخالف قرار دیے جانے کے خطرے پر میں پانچ اقدامات اٹھائے جانے کا مطالبہ کررہا ہوں‘۔ اپنے سب سے پہلے نکتے میں چدمبرم نے ریاست میں گورنر راج نافذ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے ’پی ڈی پی بی جے پی حکومت سے مستعفی ہوجانے کے لئے کہا جائے۔ ریاست کی باگ ڈور گورنر کے ہاتھ میں دے دی جائے۔ مسٹر این این ووہرا نے بحیثیت گورنر بہت اچھا کام کیا ہے، لیکن یہ وقت نئے گورنر کی تعیناتی کا ہے‘۔ انہوں نے اپنے دوسرے نکتے میں تمام متعلقین کے ساتھ مذکرات شروع کرنے کی بات کرتے ہوئے کہا ہے ’اس کا اعلان کیا جائے کہ مرکزی سرکار تمام متعلقین کے ساتھ مذاکرات شروع کرے گی۔

مذاکرات کا آغاز سیول سوسائٹی گروپوں اور طلباء لیڈروں سے کیا جائے۔ بالآخر علیحدگی پسندوں کے ساتھ بھی بات چیت شروع کی جائے‘۔ پی چدمبرم نے اپنے تیسرے نکتے میں بات چیت کے لئے راہیں ہموار کرنے کے لئے مذاکرات کاروں کی تعیناتی کی تجویز پیش کی ہے۔ انہوں نے اپنے چوتھے نکتے میں فوج اور دیگر سیکورٹی فورسز کی تعداد میں کمی لانے کی بات کرتے ہوئے کہا ہے ’فوج اور پیرا ملٹری فورسز کی موجودگی میں کمی لائی جائے اور وادی میں لاء اینڈ آڈر کی برقراری کی ذمہ داری ریاستی پولیس کو سونپ دی جائے‘۔

پی چدمبرم نے اپنے پانچویں نکتے میں پاکستان کے ساتھ لگنے والی سرحد پر چوکسی بڑھانے کی بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے ساتھ لگنے والی سرحد کو تمام ذرائع سے حفاظت فراہم کی جائے۔ سرحد پر دراندازوں کے خلاف باز رکھنے والی کاروائی کی جائے، لیکن وادی میں انسداد دہشت گردی کی کاروائیوں کو ہولڈ پر رکھا جائے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز