جادھو کی پھانسی پر بضد پاکستان: 1999 میں ہندوستان نے جو کیا تھا اب پاکستان بھی وہی کرے گا

May 13, 2017 04:25 PM IST | Updated on: May 13, 2017 04:25 PM IST

نئی دہلی۔ پاکستان کی طرف سے كلبھوشن جادھو کو پھانسی کی سزا دیے جانے کے معاملے میں 14 مئی کو بین الاقوامی کورٹ میں سماعت ہونی ہے۔ پاکستان جادھو کو 'جاسوسی' کے الزام میں موت کی سزا پر بضد ہے۔ پاکستان نے حکمت عملی بنا لی ہے کہ کس طرح بین الاقوامی سطح پر اپنے قدم کو ٹھیک ٹھہرایا جائے؟ ادھر، پاکستانی میڈیا میں یہ بھی خبر چل رہی ہے کہ اس معاملے میں بین الاقوامی انصاف عدالت کا حتمی فیصلہ ماننے کے لئے پاکستان پابند نہیں ہے۔ پاکستان بچاو کے لئے ہندوستان کے 1999 والے قدم کو حکمت عملی کے طور پر استعمال کر سکتا ہے۔

پاکستان کے اٹارنی جنرل نے کیا کہا؟

جادھو کی پھانسی پر بضد پاکستان: 1999 میں ہندوستان نے جو کیا تھا اب پاکستان بھی وہی کرے گا

ڈان اخبار نے پاکستان کے اٹارنی جنرل اشتر اوصاف کے حوالے سے بتایا، 'ہم نے اپنی سفارشات وزیر اعظم کے دفتر اور دفتر خارجہ کو بھیج دی ہیں۔' سفارشات میں حکمت عملی کا خاکہ پیش کیا گیا ہے کہ ہیگ میں واقع بین الاقوامی انصاف عدالت میں پاکستان کس طرح اپنے کیس کو رکھ سکتا ہے۔ اوصاف نے کہا کہ تمام اقدامات اور اختیارات کو خفیہ رکھنا ضروری ہے تاکہ دوسری طرف ہماری حکمت عملی کا پتہ نہ لگ سکے۔

محکمہ خارجہ اور قانونی شعبہ کے حکام کے ساتھ دو دن سے میراتھن میٹنگیں کر رہے اوصاف کے ذریعہ آئی سی جے میں پاکستان کی نمائندگی کئے جانے کی توقع ہے۔ لیکن انہوں نے اس معاملے میں بیرون ملک سے کسی کی خدمت لئے جانے کے امکان سے بھی انکار نہیں کیا۔ انہوں نے مانا کہ وقت کم ہے کیونکہ سماعت 15 مئی سے شروع ہوگی۔ اوصاف نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے مضبوط طریقے سے جواب دیا جائے گا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز