کشمیر پولیس کا انکشاف ، کشمیری نوجوانوں کو انتہاپسندی کی طرف دھکیلنے کیلئے پاکستان سوشل میڈیا کررہا ہے استعمال

کشمیر کے انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی پی) منیر احمد خان نے کہا کہ پاکستان نے سوشل میڈیا پر ایک مہم شروع کر رکھی ہے جس کا مقصد کشمیری نوجوانوں کو عسکریت پسندی کی طرف مائل کرنا ہے۔

Nov 16, 2017 03:49 PM IST | Updated on: Nov 16, 2017 03:49 PM IST

سری نگر: کشمیر کے انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی پی) منیر احمد خان نے کہا کہ پاکستان نے سوشل میڈیا پر ایک مہم شروع کر رکھی ہے جس کا مقصد کشمیری نوجوانوں کو عسکریت پسندی کی طرف مائل کرنا ہے۔انہوں نے جنگجوؤں کی صفوں میں شمولیت اختیار کرنے والے نوجوانوں کو ’گمراہ نوجوان‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہیں قومی دھارے میں شامل کرنے کی سیکورٹی فورسز کی کوشش مخلصانہ ہے۔

انہوں نے فٹ بالر سے جنگجو بننے والے ماجد ارشاد خان سمیت تمام کشمیری جنگجوؤں سے اپیل کی کہ وہ خودسپردگی اختیار کریں۔ آئی جی پی منیر خان نے جمعرات کو یہاں سینئر فوجی اور سی آر پی ایف عہدیداروں کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ’ جنگجوؤں کی صفوں میں شمولیت اختیار کرنے والے بیشتر نوجوان اسکول ڈراپ آوٹس ہوتے ہیں۔

کشمیر پولیس کا انکشاف ، کشمیری نوجوانوں کو انتہاپسندی کی طرف دھکیلنے کیلئے پاکستان سوشل میڈیا کررہا ہے استعمال

پاکستان کی طرف سے سوشل میڈیا پر ایک مہم شروع کی گئی ہے جس کا مقصد کشمیری نوجوانوں کو عسکریت پسندی کی طرف مائل کرنا ہے۔ میں بار بار کہتا آیا ہوں اور اس بار دہرانا چاہتا ہوں کہ 15 سے 25 سال تک کی جو عمر ہوتی ہے، اس میں ناسمجھی بہت ہوتی ہے۔ اچھے برے میں فرق کرنے کی تمیز بہت کم ہوتی ہے۔ اسی کا غلط استعمال کرکے بچوں کو اس راستے پر لایاجاتا ہے‘۔انہوں نے جنگجوؤں کی صفوں میں شمولیت اختیار کرنے والے نوجوانوں کو ’گمراہ نوجوان‘ قرار دیتے ہوئے کہا ’جن نوجوانوں نے جنگجوؤں کی صفوں میں شمولیت اختیار کی ہے، ہماری طرف سے انہیں واپس لانے اور ان کی بازآبادکاری یقینی بنانے کے لئے جو مدد درکار ہوگی، ہم وہ فراہم کریں گے۔ یہ ہماری مخلص کوشش ہے کہ یہ گمراہ نوجوان واپس آکر قومی دھارے میں شامل ہو‘۔

یہ پوچھے جانے پر کہ گذشتہ چار مہینوں کے دوران کتنے نوجوانوں نے جنگجوؤں کی صفوں میں شمولیت اختیار کی ہے، مسٹر منیر خان نے کہا ’اس میں کسی شک کی گنجایش نہیں کہ نوجوانوں نے جنگجوؤں کی صفوں میں شمولیت اختیار کی ہے۔ میرے پاس اس وقت ایسے نوجوانوں کے اعداد وشمار موجود نہیں ہیں۔گذشتہ چار مہینوں کے دوران زیادہ سے زیادہ 16 سے 17 نوجوانوں نے جنگجوؤں کی صفوں میں شمولیت اختیار کی ہے‘۔

Loading...

Loading...

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز