پنڈت کشمیری سماج کا ایک حصہ، کوئی فرد بشر اِن کی بازآبادکاری کے خلاف نہیں: گیلانی

Jul 22, 2017 01:20 PM IST | Updated on: Jul 22, 2017 01:20 PM IST

سری نگر۔  بزرگ علیحدگی پسند رہنما اور حریت کانفرنس (گ) چیئرمین سید علی گیلانی نے کہا ہے کہ پنڈت ہمارے سماج کا ایک حصہ ہیں اور کشمیر میں کوئی بھی فردِ بشر اِن کی واپسی اور باز آبادکاری کا مخالف نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہزاروں پنڈتوں نے وادی میں نا مساعد حالات کے دوران میں ہجرت نہیں کی ہے اور وہ آج بھی یہاں امن وسکون کے ساتھ مقیم ہیں اور مسلمان ہمسائیے ان کے دُکھ سکھ اور غمی خوشی میں برابر کے شریک ہوتے ہیں اور جب کسی کی موت واقع ہوتی ہے تو اُس کی آخری رسومات میں بھی شامل ہوجاتے ہیں۔ حریت کے ایک ترجمان نے کہا کہ مسٹر گیلانی نے ان باتوں کا اظہار اپنی رہائش گاہ پر کشمیری پنڈتوں سے تبادلہ خیال کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے کہا ’پنڈتوں کے ایک وفد نے مسٹر گیلانی کے ساتھ ان کی رہائش گاہ واقع حیدرپورہ پر ملاقات کی اور ان کی خیروعافیت پوچھنے کے علاوہ پنڈتوں کی وادی واپسی کے حوالے سے تبادلہ خیالات کیا‘۔ حریت چیئرمین نے وفد کو بتایا کہ ہمارا پہلے دن سے یہ اسٹینڈ رہا ہے کہ تمام مہاجر پنڈتوں کو واپس آکر اپنے مسلمان بھائیوں کے ساتھ اُسی طرح سے رہنا بسنا چاہیے، جس طرح وہ صدیوں سے رہتے آئے ہیں۔ کسی پنڈت بھائی نے اپنی پشتینی زمین وجائیداد اور مکان کو بیچا ہے تو حکومت اس کی باز آبادکاری میں بھرپور مدد کرے اور اس کو نئے سرے سے بسانے میں اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرے۔ مسلمان ہمسائیے بھی اس سلسلے میں اپنے پنڈت بھائیوں کو ہر ممکن تعاون فراہم کریں اور وہ انہیں کسی قسم کی پریشانی لاحق نہ ہونے دیں۔ مسٹر گیلانی نے البتہ کہا کہ ہم پنڈت بھائیوں کو سماج سے الگ تھلگ کرانے اور کشمیریوں کو مذہب کے نام پر تقسیم کرانے کے روادار نہیں ہیں، لہٰذا ہم ان کے لیے الگ کالونیاں تعمیر کرانے پر اعتراض اٹھاتے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جموں کشمیر میں جو تحریک جاری ہے، وہ کوئی ہندو مسلم مناقشہ نہیں ہے اور اُس کا فرقہ واریت کے ساتھ کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ کشمیری قوم حقِ خودارادیت کے حصول کے لیے جدوجہد کررہی ہے اور ہم اس حق کا مطالبہ صرف مسلمانوں کے لیے نہیں کرتے ہیں۔

پنڈت کشمیری سماج کا ایک حصہ، کوئی فرد بشر اِن کی بازآبادکاری کے خلاف نہیں: گیلانی

علاحدگی پسند رہنما اور حریت کانفرنس (گ) چیئرمین سید علی گیلانی: فائل فوٹو

ہمارا ماننا ہے کہ جموں کشمیر کے جو بھی پشتینی باشندے ہیں، چاہے وہ ہندو ہوں، مسلمان ہوں، سکھ ہوں، بودھ ہوں یا عیسائی ہوں، اُن سے کشمیر کے حتمی فیصلے میں رائے لینی چاہیے اور ان کی رائے کا احترام کیا جانا چاہیے۔ حریت ترجمان کے مطابق پنڈت لیڈر نے اس موقعے پر مسٹر گیلانی کے ساتھ حرف بحرف اتفاق کیا اور کہا کہ کوئی بھی ذی فہم اور با شعور پنڈت بھی انہیں سماج سے الگ تھلگ کرنے کا حامی نہیں ہوسکتا ہے اور وہ صدیوں سے جاری اس بھائی چارے اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو کوئی زک نہیں پہنچانا چاہتے، جو کشمیر کا خاصا ہے اور جس کے لیے یہ ریاست مشہور ہے۔ پنڈت لیڈر نے بھی اس بات کی تصدیق کی کہ ہزاروں پنڈتوں نے کوئی ہجرت نہیں کی ہے اور انہیں آج بھی کوئی پریشانی لاحق نہیں ہے۔ انہوں نے اپنے علاقے کے بارے میں اعدادوشمار کی روشنی میں بتایا کہ آج بھی نُنر گاندربل میں 5، منیگام میں 3، لار میں 6، تولہ مولہ میں 4، واکورہ گاندربل میں 4، اگلر میں 6، اجس میں 3، واہی بگ میں 12اور زیون میں 18پنڈت گھرانے سکونت پذیر ہیں اور یہ کُل تعداد ساڑھے تین ہزار کو بھی تجاوز کرتی ہے۔ مسلمان ہمسائیوں کے ساتھ ان کے برادرانہ تعلقات میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی ہے اور وہاں کے ہر سُکھ دُکھ میں شریک ہوجاتے ہیں اور تہواروں کے موقوں پر بھی ایک دوسرے کے پاس جاتے ہیں۔

مسٹر گیلانی نے اس موقعے پر کہا کہ تنازعہ کشمیر کا حل طلب ہونا ایک ناسور بن گیا ہے اور اس کی وجہ سے جہاں ریاست کے مسلمان مصائب اور مشکلات کے شکار ہورہے ہیں، وہاں پنڈت بھائیوں کو بھی سخت ترین دن دیکھنے پڑے ہیں۔ ہمیں جتنا افسوس اور دُکھ مسلمانوں کی حالتِ زار پر ہے، اُتنا ہی دُکھ ہمیں پنڈتوں کو درپیش مشکلات پر بھی ہے۔ وہ نہ صرف انسانی رشتے کے ہمارے بھائی ہیں، بلکہ وہ ہمارے ہم قوم بھی ہیں اور بحیثیت مسلمان یہ ہماری دینی ذمہ داری ہے کہ ہم ان کے ساتھ نیک سلوک روا رکھیں اور انہیں کسی قسم کی تکلیف پہنچنے نہ دیں۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز