خواجہ سراؤں کو شادی، شریک حیات منتخب کرنے اور گودلینے کا حق فراہم کئے جانے کی سفارش

پارلیمنٹ کی ایک مستقل کمیٹی نے خواجہ سراؤں (تیسری جنس )کو عام انسان کی طرح تسلیم کرنے کی سفارش کرتے ہوئے انہیں شادی، شریک حیات منتخب کرنے اور بچے گود لینے کا حق فراہم کرنے کی سفارش کی ہے۔

Jul 23, 2017 04:53 PM IST | Updated on: Jul 23, 2017 05:08 PM IST

نئی دہلی: پارلیمنٹ کی ایک مستقل کمیٹی نے خواجہ سراؤں (تیسری جنس )کو عام انسان کی طرح تسلیم کرنے کی سفارش کرتے ہوئے انہیں شادی، شریک حیات منتخب کرنے اور بچے گود لینے کا حق فراہم کرنے کی سفارش کی ہے۔ سماجی انصاف و تفویض کی وزارت سے منسلک ایک پارلیمانی کمیٹی کی گزشتہ ہفتے پارلیمنٹ میں پیش ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خواجہ سراؤں پر تعزیرات ہند کی دفعہ 377 کے تحت ہمیشہ مجرم ہونے کا خطرہ بنا رہتا ہے۔ اس کے اثرات کو ختم کرنے کے لئے خواجہ سراؤں کو مشریک حیات منتخب کرنے اور شادی کرنے جیسے حقوق کو تسلیم کیا جانا چاہئے۔کمیٹی نے تیسری جنس (حقوق کے تحفظ)سے متعلق بل 2016 پر غور کرتے ہوئے یہ سفارشات کی ہیں۔

کمیٹی کی سفارشات میں کہا گیا ہے کہ خواجہ سراؤں کی شادی، شریک حیات منتخب کرنے، طلاق اور گود لینے جیسے حقوق کو ان کے پرسنل لاء اور دیگر قوانین کی طرف سے تسلیم کیا جانا چاہئے۔ رپورٹ میں ان کے خاندانی، ذاتی اور سماجی مسائل پر وسیع انداز میں غور کیا گیا ہے۔ کمیٹی نے کہا کہ خواجہ سراؤں کو وسیع طور پر امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو خاندان سے شروع ہوتا ہے اور معاشرے کے ہرشعبے میں نظرآتا ہے۔

خواجہ سراؤں کو شادی، شریک حیات منتخب کرنے اور گودلینے کا حق فراہم کئے جانے کی سفارش

علامتی تصویر

کمیٹی کے مطابق سپریم کورٹ نے ایک حکم میں مرکزی اور ریاستی حکومتوں سے خواجہ سراؤں کو سماجی اورتعلیمی سہولیات پسماندہ شہریوں کی طرح ملنی چاہیے۔ تعلیمی اداروں میں داخلہ اور سرکاری ملازمتوں میں ریزرویشن دینے کوبھی کہا ہے۔ حکومتوں کو اس سلسلے میں قدم اٹھاتے ہوئے قانون بنانا چاہیے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خواجہ سراؤں کو صحت سے متعلق مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے اس لئے ان کے لئے مختلف مشاورتی مراکز کھولے جانے چاہئے۔ ان کے لئے علیحدہ عوامی بیت الخلا بنائے جانے چاہئے۔ تشدد کے صدمے سے نکالنے کے لئے ریپ اینڈ كرائسس انٹروینشن سینٹرکی طرز پر ان کے لئے مشاورتی مراکز بنائے جانے چاہئے۔ اس کے علاوہ ہوائی اڈوں، سرکاری اور پرائیویٹ دفاتر اور احاطے اور عوامی مقامات پر خواجہ سراؤں کے لئے سیکورٹی سے متعلق تحقیقات کے لئے الگ سے کمرے بنائے جانے چاہئے اور ان میں خواجہ سراؤں کو ہی مقرر کیا جانا چاہئے۔

کمیٹی نے کہا کہ ان کی مردم شماری علیحدہ کی جانی چاہئے۔ ایک اندازے کے مطابق ملک میں خواجہ سراؤں کی تعداد تقریبا 20 لاکھ ہے جبکہ سال 2011 کی مردم شماری میں تقریبا ساڑھے چار لاکھ لوگوں نے اپنے آپ کو 'تیسرے جنس' کے طور درج کرایا ہے۔ رپورٹ تیار کرنے والی کمیٹی میں 31 رکن تھے جن میں سے 21 لوک سبھا اور 10 راجیہ سبھا سے تھے۔ کمیٹی نے رپورٹ تیار کرنے سے قبل کئی سماجی تنظیموں اور ماہرین کے ساتھ بھی تبادلہ خیال کیا۔

Loading...

Loading...

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز