حزب اقتدار، اپوزیشن کے بھاری ہنگامے کی وجہ سے کاروائی 12.30 بجے تک ملتوی

Aug 03, 2017 01:52 PM IST | Updated on: Aug 03, 2017 01:52 PM IST

نئی دہلی۔  کیرالہ میں سیاسی قتل کے معاملے پر اپوزیشن اور حزب اقتدار کے ارکان کے درمیان لوک سبھا میں آج تیکھی نوک جھونک ہوئی، جس نے بھاری ہنگامے کی شکل اختیار کرلی اور ایوان کی کارروائی 12 بجکر 30 منٹ تک کے لئے ملتوی کرنی پڑی۔ ایوان کی میز پر ضروری دستاویزات ركھوانے کے بعد اسپیکر سمترا مہاجن نے جیسے ہی وقفہ صفر شروع کرنے کا حکم دیا، ویسے ہی مارکسی کمیونسٹ پارٹی (سی پی ایم) کے ارکان نے کیرالہ میں مبینہ سیاسی قتل کے معاملے پر ایوان میں کل حزب اقتدار کے ارکان کی طرف سے ریاست کے وزیراعلی پنارائي وجين اور پارٹی کے سب سےاعلی عہدیدار کے خلاف لگائے گئے الزامات پر اپنی بات رکھنے کی اجازت مانگی، جس کے لئے محترمہ مہاجن نے حامی بھر دی۔ سی پی ایم کے پی كروناكر ن نے کہا کہ مسٹر وجين اور ان کی پارٹی کے اعلی عہدیدار کے خلاف حزب اقتدار کے ارکان کی جانب سے کل لگائے گئے الزام بے بنیاد اور 'غیر منصفانہ' ہیں۔ اس کے ساتھ ہی حزب اقتدار کے ارکان نے بھی زور زور سے ہنگامہ کرنا شروع کر دیا۔

سی پی ایم رکن ایوان میں اپنی بات رکھنے کے اختیارکاحزب اقتدار کے ارکان کی طرف سے خلاف ورزی کئے جانے کے معاملے پر اسپیکر سے شکایت کی۔ اس ترتیب میں سی پی ایم رکن ایم بي راجیش اور پي كے شریمتی ٹیچر جہاں آسن کے قریب آ گئیں، وہیں محمد سلیم اور دیگر رکن اپنی نشستوں سے کھڑے ہو کر زور زور سے بولنے لگے۔ کانگریس کے ملکا ارجن کھڑگے اور آل انڈیا مجلس اتحاد مسلمین کے اسد الدین اویسی بھی سی پی ایم ارکان کی حمایت میں اپنی سیٹ پر کھڑے ہو گئے اور کچھ بولتے نظر آئے، اگرچہ ان کی آواز ہنگامے میں دب کر رہ گئی۔ اسپیکر نے اراکین کو پرسکون رہنے اور ایوان کی کاروائی چلنے دینے کی اپیل کی، لیکن دونوں جانب سے ہنگامہ فرو ہوتا نہ دیکھ انہوں نے ایوان کی کارروائی ساڑھے بارہ بجے تک کے لئے ملتوی کر دی۔ غور طلب ہے کہ کل حزب اقتدار کے ارکان نے ایوان میں کیرالہ میں سیاسی قتل کئے جانے کا مسئلہ زور شور سے اٹھایا تھا اور اس کے لئے ریاست کے وزیر اعلی اور سی پی ایم کے سینئر عہدیدار کو ذمہ دار ٹھہرایا تھا۔

حزب اقتدار، اپوزیشن کے بھاری ہنگامے کی وجہ سے کاروائی 12.30 بجے تک ملتوی

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز