غیرمسلموں کے شعائراور مذہبی تہواروں میں شرکت مسلمانوں کے لئے جائز نہیں : مولانا محمد رحمانی مدنی

Oct 20, 2017 07:34 PM IST | Updated on: Oct 20, 2017 07:34 PM IST

نئی دہلی: مسلمانوں میں بدعات وخرافات اور شرکیات کا جوبھی رواج ہے اسے مسلمانوں کی اکثریت اسلام کا حصہ سمجھ کر انجام دیتی ہے ،اس میں علماء کی بہت بڑی کوتاہی ہے کہ وہ عوام کو صحیح راستہ نہیں دکھاتے اور ان کے سامنے اسلام کی صحیح تصویر پیش نہیں کرتے، لیکن اب تو معاملات یہاں تک پہنچنے لگے ہیں کہ مسلمانوں نے مختلف دنیاوی مقاصد کی خاطر غیرمسلموں کے تہواروں کو بھی منانا شروع کردیا ہے اور یہ صرف ان کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے کی حد تک نہیں رہا بلکہ اب ہماری نئی نسلیں ان کے طور طریقوں میں بھی شریک ہونے لگی ہیں۔ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم جو بھی کام انجام دیں اسے شریعت اسلامیہ کی تعلیمات کی روشنی میں انجام دیں ورنہ ہماری نئی نسل ان لوگوں کی پیروکار ہوجائے گی جو ہروقت اسلام اور مسلمانوں کی جڑیں کھودنے میں لگے رہتے ہیں اور اسلام کو نقصان پہنچانے کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے ۔آخر کون سے اسباب ہیں یا کس قانون اور طاقت نے ہم کو مجبور کیا ہے کہ ہم اس طرح کی خرافات اور غلط چیزوں کو اختیار کریں؟

ان خیالات کا اظہار ابوالکلام آزاد اسلامک اویکننگ سنٹر، نئی دہلی کے صدر جناب مولانا محمد رحمانی سنابلی مدنی نے سنٹر کی جامع مسجد ابوبکر صدیق، جوگابائی میں خطبہ جمعہ کے دوران کیا۔مولانا غیر اقوام کے تہواروں میں شرکت سے متعلق اسلامی نظریہ پیش کررہے تھے۔خطیب محترم نے سورۂ مائدہ کی آیت کریمہ کی روشنی میں فرمایا کہ ہمیں اسلام اور مسلمانوں کا مذاق اڑانے والوں، اہل کتاب اورکفار کو اپنا دوست نہیں بنانا چاہئے بلکہ اسلامی تعلیمات کو ہرجگہ مقدم رکھنا چاہئے کیونکہ شیطان ہمارے اوپر غیر اسلامی رسم ورواج کو اختیار کراکرغلبہ حاصل کرنا چاہتا ہے جبکہ شیطان اور اس کا پورا لشکر سخت گھاٹے اور خسارے میں ہے۔ انسان دنیا میں اگر کچھ اچھا کام مقدم کرتا ہے تو اسے اسکا ثواب تو ملتا ہی ہے ساتھ ہی اس پر عمل پیرا ہونے والے افراد کے ثواب کا ایک حصہ بھی اسے ملتا ہے۔اسی طرح برائی کو انجام دینے اور اس کی طرف بلانے والے پر وبال اور گناہ کا پورا بوجھ ڈال دیا جاتا ہے اور اسے انجام دینے والے افرادکا گناہ بھی ایجاد کرنے والے کے کندھے پر لاد دیا جاتا ہے۔

غیرمسلموں کے شعائراور مذہبی تہواروں میں شرکت مسلمانوں کے لئے جائز نہیں : مولانا محمد رحمانی مدنی

مولانا محمد رحمانی مدنی: فائل فوٹو۔

مولانا موصوف نے ابوداؤد کی صحیح حدیث پیش کرکے فرمایا کہ جو جس قوم سے مشابہت اختیار کرتا ہے وہ انہیں میں سے ہوجاتا ہے۔اللہ رب العالمین اس قوم کی حالت اس وقت تک نہیں بدلتا جو قوم بذات خود اپنی حالت کو تبدیل کرنے کی ذمہ داری نہ اٹھا لے۔اس وجہ سے ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اپنے آپ کو بدلیں اور غیر اقوام کی مشابہت اختیار کرنے سے پرہیز کریں تاکہ ہم کامیاب ہوسکیں۔مولانا نے بوقت ضرورت بعض اعمال میں غیر مسلموں کی شراکت اور ان کے ساتھ چلنے سے متعلق چند شرائط کا تذکرہ بھی کیا کہ ان شرائط کے بغیر غیرمسلموں کی شراکت درست نہیں۔

وہ کام غیر مسلموں کی تقلید میں نہ کیا جائے اور نہ ہی وہ ان کا شعار ہو۔

وہ کام ان کی شریعت کا حصہ نہ ہو۔

ہماری شریعت میں اگر اس کام سے متعلق رہنمائی موجود ہے تو اسے شریعت کے تحت اختیار کیا جائے غیروں کے لحاظ سے نہیں۔

وہ کام شریعت اسلامیہ کی مخالفت تک لے جانے والانہ ہو۔

غیروں کی عیدوں اور تہواروں میں ان کی پیروی بالکل نہ کی جائے۔

ضرورت بھرہی موافقت اور شراکت ہو ضرورت سے زیادہ قطعا نہ ہو۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز