مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے مذاکرات واحد راستہ : پی ڈی پی

May 31, 2017 09:29 PM IST | Updated on: May 31, 2017 09:29 PM IST

سری نگر: جموں وکشمیر کی برسراقتدار جماعت پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) نے مسئلہ کشمیر کے حل کو اپنی پارٹی ایجنڈا کی اساس قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ پی ڈی پی کے بانی مفتی محمد سعید کے نظریہ کی بنیاد ہے ۔ پارٹی کے نائب صدر محمد سرتاج مدنی نے یہاں جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ مفتی محمد سعید کے خیالات اور ایجنڈا کی سرحد کے آر پار پذیرائی ہوئی تھی ، مرحوم کا پختہ یقین تھا کہ نہ تو جنگ اور نہ کوئی ایسی دوسری حکمت عملی مذکرات اور مفاہمت کا نعم البدل ثابت ہو سکتی ہے ۔

مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ اور مرکزی حکومت کے دیگر اہم عہدیداروں کی طرف سے جاری کئے گئے حالیہ بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے مدنی نے کہا کہ غیر یقینی اور نامساعد حالات میں جی رہے عوام کے دکھ درد کو محسوس کرنے والے ہی اس حقیقت کو سمجھ سکتے ہیں کہ اس دیرینہ مسئلہ کا حل مزید تاخیر کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے کہا کہ راجناتھ سنگھ کا یہ بیا ن انتہائی اہمیت کا حامل ہے جس میں انہوں نے مسئلہ کشمیر کا جلد از جلد حل تلاش کرنے کی بات کی تھی ۔

مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے مذاکرات واحد راستہ : پی ڈی پی

مدنی نے کہا کہ پی ڈی پی ،جس نے بی جے پی کے ساتھ اس مخلصانہ امید پر گٹھ جوڑ کیا تھا کہ ریاست کو سیاسی استحکام مل سکے ،کی خواہش ہے کہ جلد از جلد ایسا ہو جائے۔ انہوں نے کہا کہ تاریخ گواہ ہے کہ ریاست کے سیاسی افق پر پی ڈی پی کا معرض الوجود میں آنا جہاں ایک طرف لوگوں کو ان کے گوناگوں مسائل کی داد رسی کی تمنا تھی وہیں حریت کانفرنس اور پاکستان سمیت تمام متعلقین کے ساتھ بات چیت اور افہام و تفہیم کی راہ ہموار کرنے کی جانب ایک قدم تھا۔ پارٹی نے ایک نیا نعرہ’’گولی نہیں بولی‘‘ دیا تو مخالفین نے اس کا تمسخر اڑانا شروع کر دیا ، لیکن پارٹی کو اطمینان تھا کہ مفتی محمد سعید کا نظریہ عوامی کسوٹی پر پورا اترے گا۔ حالات بدلے ، مایوسی کے اندھیروں سے امید کی شعاعیں نظر آنے لگیں ، ہیلنگ ٹچ پالیسی اور داخلی و خارجی سطح پر بات چیت کے آئیڈیا کی ہر طرف سے پذیرائی ہونے لگی۔

ہندوستان اور پاکستان کے درمیان 2002سے 2005کے درمیان مفاہمت اور باہمی اعتماد کا ایک دور چلا تو مقامی سطح پر بھی عام آدمی کو راحت کی سانس نصیب ہونے لگی لیکن بد قسمتی سے یہ سارا عمل منقطع کر دیا گیا ۔ مدنی نے کہا کہ اب جب کہ ایک بار پھر بحرانی کیفیت پید اہو گئی ہے تو مسئلہ کے حل کے لئے آوازیں بلند ہونا ایک قدرتی امر ہے جس کا ہر کوئی خیر مقدم ہی کرے گا۔ لیکن اس کے لئے طریقہ کار اور مقصد کا واضح ہونا لازم ہے ،جیسا کہ پی ڈی پی نے ماضی میں کیا تھا ، دائمی حل کے لئے تمام متعلقین میں اتفاق رائے پیدا کیا جائے ۔

پی ڈی پی کا بی جے پی کے ساتھ اتحادامن اور بات چیت کے واضح ایجنڈہ پر مبنی ہے ،جس پرآغاز میں طے پائے گئے معاہدہ پر دونوں جماعتوں نے اتفاق کیا ہے اور پارٹی اس پر تمام تر رکاوٹوں اور اڑچنوں سے قطع نظر پورے خلوص سے عمل پیرا رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ ایمانداری کا تقاضہ یہی ہے کہ لوگوں کی بے بسی اور مسائل کا ازالہ ہو، ان کی جائز خواہشات کو پورا کیا جائے اور یہ لوگوں کا اعتماد حاصل کرنے نیز تمام متعلقین کو امن عمل میں ملوث کئے بنا ممکن نہیں ہو سکتا۔ مدنی نے کہا کہ جب سے پی ڈی پی بی جے پی کا اتحاد ہوا ہے ، پارٹی اٹل بہار ی واجپئی کے انسانیت، جمہوریت اور کشمیریت کے فارمولہ کو بنیاد بنا کر ایک نئی شروعات کرنے کی خواہاں ہے ۔

ایجنڈہ آف الائنس اسی اعتماد اور جذبہ کا مظہر ہے ، اس کی عمل آور ی میں ہونے والی تاخیر مہلک ہو گی کیوں کہ خطہ تشدد کی لپیٹ میں ہے اور عام کشمیری اس سے بری طرح متاثر ہو رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مفتی محمد سعید لگاتار اس بات کے لے کوشاں رہے کہ لوگوں کو بے عزتی ، جارحیت اور تشدد کا سامنا نہ کرنا پڑے، ان کی ہیلنگ ٹچ پالیسی نے راحت دی، مرحوم کی پالیسی اور نظریات کو واجپئی نے سراہا اور عام لوگوں، سیاسی جماعتوں نیز دہلی و اسلام آبادمیں باہمی اعتماد کی بحالی پر توجہ مرکوز کی گئی۔کون نہیں جانتا کہ واجپئی کی پالیسی پر عمل کرنے سے سرحدیں نرم ہو گئیں، لوگ امن و سکون میں رہنے لگے۔

پی ڈی پی کے قیام کا بنیادی ایجنڈا ہی لوگوں کو باوقار اور پر اعتماد زندگی فراہم کرنا رہا ہے۔ ہمیں اپنے اس نظریہ پر پورا اعتماد ہے کہ ہم مفاہمتی، ریلیف اور بات چیت کی پالیسی پر عمل پیرا رہیں گے۔ مدنی نے کہا کہ جنہیں آنے والی نسلوں، بیواؤں، یتیموں اور لوگوں کی حقیقی خواہشات کی فکر ہے ، وہ یقینی طور پر مفتی محمد سعید کے نظریہ کو آگے بڑھانے کے لئے متحد ہوں گے، اور یہ تبھی ممکن ہو سکتا ہے کہ جب لوگوں کی تکالیف کو مد نظر رکھتے ہوئے تمام متعلقین کو بامعنی عمل میں ملوث کرنے کیلئے مل جل کر کوشش کی جائے۔

مدنی نے کہا کہ خطہ ، بالخصوص وادی کشمیر کے لوگ مخاصمت کی سیاست اور اشتعال انگیزیوں سے تنگ آگئے ہیں، کچھ تخریبی عناصر ہوتے ہیں جو حالات کو بد سے بد تر ہوتے دیکھنا چاہتے ہیں، نتیجہ کے طور پر جنت بے نظیر تشدد کے ایک لامتناہی بھنور میں پھنس کر رہ جائے گی۔ توقع کی جانی چاہئے کہ ایسا نہیں ہوگا اور لوگوں کو ان کی مشکلات سے چھٹکارہ مل جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ وقت آگیا ہے کہ انسانی اقدار کے قدردان اپنی طاقت اور اثر رسوخ کو استعمال کر کے موجودہ حالات کو مثبت سمت دیں تاکہ ہر سطح پر اعتماد بحال ہو اور مسئلہ کے دائمی حل کے لئے راہ ہموار ہو سکے ۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز