کشمیر کی انشاء مشتاق لون، پیلیٹ گن نے چھین لی ایک تیز گیند باز کی آنکھیں

Jul 08, 2017 12:37 PM IST | Updated on: Jul 08, 2017 01:54 PM IST

سری نگر۔ ایک فاسٹ بالر اور کشمیر کی رہنے والی 15 سال کی انشاء مشتاق لون اپنی آنکھیں کھو چکی ہیں۔ اس کی آنکھیں روئی سے ڈھکی ہیں اور باقی چہرہ پیلیٹ کے نشانوں سے داغدار ہے۔ انشاء، کشمیر میں پیلیٹ کی وجہ سے ہونے والے نقصان کی ایک خوفناک مثال بن چکی ہیں۔ ویسے تو انشاء جیسے سینکڑوں لوگ ہیں جو گزشتہ سال 8 جولائی کو حزب المجاہدین کے کمانڈر برہان وانی کی موت کے بعد وادی میں ہوئے تشدد میں سیکورٹی فورسز کے ساتھ تصادم میں پیلیٹ سے زخمی ہو گئے تھے۔ لیکن، انشاء کی تکلیف کے سامنے دوسروں کی پیلیٹ انجری تھوڑی کم ہو جاتی ہے۔ انشاء کی ایکس رے امیج ظاہر کرتی ہے کہ اس کی آنکھوں، ناک، جبڑے اور حلق میں اندر کھوپڑی میں پیلیٹس دھنسے ہیں۔

انشاء کی چھ سرجری کی گئی لیکن اس کی آنکھیں نہ بچ سکیں۔ اس کی وجہ سے انشاء اب اپنا پسندیدہ کھیل کرکٹ نہیں کھیل سکتی ہے۔ برہان کی پہلی برسی پر انشاء نے نیوز 18 سے بات کرتے ہوئے اپنی کہانیاں، تکلیفیں، امیدیں ظاہر کیں۔

کشمیر کی انشاء مشتاق لون، پیلیٹ گن نے چھین لی ایک تیز گیند باز کی آنکھیں

کرکٹ کی دیوانی

انشاء نے کرکٹ کے تئیں اپنی چاہت پر بات چیت کی۔ وہ ایک بہترین بالر ہونے کا دعوی کرتے ہوئے مسکراتی ہیں، لیکن اچانک خاموش ہو جاتی ہیں۔ انشاء نے کہا، 'میں اب نہیں کھیل سکتی۔ میں نہیں کر سکتی، آپ کو پتہ ہے۔ تاہم، پھر بھی انشاء کرکٹ کمنٹری سن کر اپنے پسندیدہ کھیل سے منسلک رہتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ اس وقت بہت مایوسی ہوئی تھی جب چیمپئنز ٹرافی میں پاکستان کے ساتھ میچ میں بھارت کے وکٹ گر گئے تھے۔

گاؤں میں ہوئی زخمی

انشاء بتاتی ہیں کہ جب وہ زخمی ہوئی تو وہ جنوبی کشمیر کے شوپیاں ضلع میں اپنے گاؤں سیداو میں تھی۔ انشاء کے گھر سے تھوڑی دوری پر ہی برہان کی پیدائش ہوئی تھی اور اس سے تھوڑے فاصلے پر اسے فوج نے مارا تھا۔ واقعہ 11 جولائی 2016 کا ہے۔ تب اس علاقے میں احتجاج اور تشدد بھڑک اٹھا تھا۔

insha-1

انشاء نے بتایا، 'میری ماں، آنٹی اور میری كجن بھی ساتھ ہی تھیں۔ میں پڑھ رہی تھی اور آپس میں ایسے ہی بات بھی کر رہے تھے۔ میں نے باہر شور کم ہونے کا انتظار کیا۔ کافی بعد میں کھڑکی کھولی۔ ' انشاء نے پوچھا پولیس نے اس پر نشانہ کیوں لگایا۔ اتنے سب کے باوجود بھی انشاء کے اندر ایک امید ہے۔ اس کے خاندان کا کہنا ہے کہ وہ انشاء کی آنکھوں کے لئے اپنا گھر بھی فروخت کر دے گا۔ انشاء اب اکیلے باہر نہیں نکل سکتی۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز