جی ایس ٹی کے دائرہ میں آنے کے بعد بھی پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں نہیں ہوں گی کم

اشیا اور خدمات ٹیکس (جی ایس ٹی)کونسل کے رکن اور بہار کے وزیر خزانہ سشیل مودی نے آج اشارہ دیا کہ پیٹرول اور ڈیزل کو مستقبل میں نئے ٹیکس نظام کے دائرے میں لانے کے باوجود ان کی قیمتوں میں راحت کی کوئی امید نہیں ہے۔

Dec 14, 2017 08:31 PM IST | Updated on: Dec 14, 2017 08:31 PM IST

نئی دہلی : اشیا اور خدمات ٹیکس (جی ایس ٹی)کونسل کے رکن اور بہار کے وزیر خزانہ سشیل مودی نے آج اشارہ دیا کہ پیٹرول اور ڈیزل کو مستقبل میں نئے ٹیکس نظام کے دائرے میں لانے کے باوجود ان کی قیمتوں میں راحت کی کوئی امید نہیں ہے۔ مسٹر مودی نے آج یہاں صنعت کی تنظیم فکی کی 90ویں سالانہ عام میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے کہا،’’دنیا کے جس بھی ملک میں پیٹرولیم مصنوعات جی ایس ٹی میں شامل کئے گئے ہیں وہاں انہیں سب سے اونچی سلیب میں تو رکھا ہی گیا ہے،ساتھ ہی اضافی سرچارج لگانے کا حق بھی محفوظ رکھا گیا ہے۔‘‘انہوں نے کہا کہ جی ایس ٹی کونسل نے پیٹرولیم مصنوعات کو جی ایس ٹی میں شامل کرنے کےلئے پہلے سے آئینی ٹیکس نظام میں کافی اچھا کام کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ کل محصولات میں پیٹرولیم مصنوعات کی حصہ داری 40فیصد ہے۔

واضح رہے کہ ملک میں جی ایس ٹی نافذ ہونے کے باوجود شراب،بجلی اور پیٹرولیم مصنوعات وغیرہ کو ابھی اس سے باہر رکھا گیا ہے۔ان پر اب بھی پرانے نظام کے تحت ہی ٹیکس لگتا ہے۔انڈین آئل کے مطابق قومی دارالحکومت دہلی میں آج پیٹرول کی خردہ قیمت 69.07روپے لیٹر ہے جس میں 34.16روپے یعنی 49.46فیصد ٹیکس(ویٹ اور مصنوعات ٹیکس)ہے۔ڈیزل کی خردہ قیمت 58.33روپے لیٹر ہے جس میں 23.95روپے یعنی 41.06فیصد ٹیکس ہے۔

جی ایس ٹی کے دائرہ میں آنے کے بعد بھی پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں نہیں ہوں گی کم

جی ایس ٹی میں ٹیکس کی سب سے اونچی سطح ابھی 28فیصد ہے اور’ صحت کو نقصان پہنچانے والی چیزوں اور لگزری مصنوعات ‘پر 25فیصد تک کے سرچارج کا التزام ہے۔ مسٹر مودی نے بعد میں اس سلسلے میں پوچھے جانے پر کہا کہ ابھی بہت جلدی پیٹرولیم مصنوعات کو جی ایس ٹی میں شامل کرنے کا منصوبہ نہیں ہے۔اکتوبر اور نومبر میں جی ایس ٹی سے موصول محصول میں کمی آئی ہے۔پہلے کونسل محصولات تحفظ میں استحکام آنے کا انتظار کرے گی اور اس کے بعد قسم کے فیصلے وقت آنے پر کئے جائیں گے۔

Loading...

Loading...

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز