یوگی کیلئے لوک سبھا کے ضمنی انتخابات کسی بڑے امتحان سے کم نہیں، مایا وتی ہوسکتی ہیں مشترکہ اپوزیشن امیدوار

Sep 10, 2017 05:17 PM IST | Updated on: Sep 10, 2017 06:10 PM IST

لکھنؤ: اترپردیش کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کے لئے گورکھپور اور پھول پور لوک سبھا سیٹ کے ضمنی انتخاب کا نتیجہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے حق میں کرنا کسی بڑے ٹیسٹ سے کم نہیں ہوگا۔ مسٹر یوگی کی طرح ڈپٹی وزیر اعلی کیشو پرشاد موریہ بھی قانون ساز کونسل کے رکن منتخب ہو چکے ہیں۔مسٹر یوگی گورکھپور اور مسٹر موریہ پھول پور لوک سبھا سے ممبرپارلیمنٹ ہیں۔ مانا جارہا ہے کہ اسی ہفتے دونوں ہی لیڈران لوک سبھا کی رکنیت سے استعفی دے سکتے ہیں۔

استعفی کے بعد دونوں نشستوں پر ضمنی انتخابات ہو ں گے۔ ضمنی انتخابات کے نتائج بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے حق میں آنے پر ہی سمجھا جائے گا کہ مسٹر یوگی اپنے پہلے سیاسی ٹیسٹ میں کتنا کامیاب ہوں گے۔ عام طور پر بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) ضمنی انتخابات سے خود کو الگ رکھتی ہے، لیکن سیاسی حلقوں میں لگائی جا رہی قیاس آرائیوں کے مطابق بی ایس پی صدر محترمہ مایاوتی پھول پور سے اپوزیشن کی مشترکہ امیدوار ہو سکتی ہیں۔

یوگی کیلئے لوک سبھا کے ضمنی انتخابات کسی بڑے امتحان سے کم نہیں، مایا وتی ہوسکتی ہیں مشترکہ اپوزیشن امیدوار

وزیر اعظم نریندر مودی اور یوپی کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ: فائل فوٹو

سیاسی مبصر راجندر سنگھ کے مطابق محترمہ مایاوتی اپوزیشن کی مشترکہ امیدوار کی حیثیت سے ضمنی انتخابات لڑتی ہیں تو بی جے پی کے لیے پھول پور سیٹ جیتنا تقریبا ناممکن ہوگا۔ بی جے پی دونوں سیٹوں کو دوبارہ جیتنا چاہے گی اس کے لیے وہ ہر ممکن کوشش کرے گی، کیونکہ اس کا اثر 2019 میں ہونے والے لوک سبھا انتخابات میں پڑ سکتا ہے۔ دونوں میں سے ایک بھی سیٹ بی جے پی کی جھولی سے گئی تو اس کی اہمیت پر بٹہ لگ سکتا ہے۔

یوگی آدتیہ ناتھ کے ریاستی قانون سازکونسل کی رکنیت حاصل کرنے کے بعد اب سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ آیا گورکھپور کا اگلا ممبرپارلیمنٹ گورکشا پیٹھ سے ہی ہوگا۔ لوک سبھا کے گزشتہ 9انتخابات میں گورکھپور کا ممبر پارلیمنٹ گورکشا مندر سے ہی منتخب کیا گیا ہے۔1970 میں پہلی بار گورکشا پیٹھا دیشور اور یوگی آدتیہ ناتھ کے گرو مہنتھ اویدناتھ آزاد امیدوار کے طور پر گورکھپور کے ممبر پارلیمنٹ منتخب کئے گئے تھے۔

مہنتھ اوید ناتھ 1989 میں ہندو مہاسبھا سے اور 1991 اور1996 میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے امیدوار کے طورپر انتخاب جیت کر گورکھپور کی لوک سبھا میں نمائندگی کی۔ سال 1996 کے بعد 1998، 1999، 2004، 2009 اور 2014 میں یوگی گورکھپور لوک سبھا سے مسلسل کامیاب ہوتے رہے۔ گزشتہ 19 مارچ کو وزیر اعلی کا حلف لینے کے بعدہی طے ہوگیا تھا کہ مسٹر یوگی لوک سبھا سے استعفی دیں گے۔

نومرتبہ ممبرپارلیمنٹ کا تعلق مندر سے رہنے کی وجہ سے لوگوں کو یہ سوچنا پڑتا ہے کہ یوگی آدتیہ ناتھ اپنے عزیزشاگرد کو انتخابی میدان میں اتاریں گے اور لوک سبھا کاامیدوار بنا سکتے ہیں تاکہ لوک سبھا کی رکنیت مندر میں ہی رہے۔ حالانکہ ، مسٹر یوگی کا کہنا ہے کہ جو بھی پارٹی کا فیصلہ کرے گی وہ اسے تسلیم کریں گے۔پارٹی کے ایک لیڈر کا کہنا ہے کہ گورکھپور کے امیدوار کو منتخب کرنے میں مسٹر یوگی کا کردارکافی اہم ہوگا۔

دوسری طرف، جو لوگ پارٹی میں مسٹر یوگی کو پسند نہیں کرتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ بی جے پی یوگی پر کنٹرول رکھنے کے لئے ان کے کسی حریف کو بھی ٹکٹ دے سکتی ہے۔ اس طرح کے لوگ دعوی کرتے ہیں کہ گورکھپور کے ہی باشندہ شیوپرتاپ شکلا کواسی وجہ سے مرکز میں وزیر بنایا گیا ہے۔ اگرچہ وزیر اعلی کے مزاج سے واقف لوگوں کا دعوی ہے کہ پارٹی شاید ہی ایسا کرے ، کیونکہ یوگی اپنے دھن پر قائم رہنے والوں میں سے ہیں اور انہیں ناراض کر کےگورکھپور سیٹ کے لئے امیدوارکا انتخاب شاید ہی کیا جائے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز