Live Results Assembly Elections 2018

نوٹوں کی منسوخی دنیا کا سب سے بڑا اور جامع فیصلہ: وزیر اعظم مودی

نئی دہلی۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے نوٹوں کی منسوخی کو دنیا کا سب سے بڑا اور جامع فیصلہ بتاتے ہوئے آج کہا کہ ایمانداروں کو اس وقت تک بااختیار نہیں بنایا جاسکتا جب تک کہ بے ایمانوں کے تئیں سختی نہیں برتی جائے گی۔

Feb 08, 2017 08:33 PM IST | Updated on: Feb 08, 2017 08:35 PM IST

نئی دہلی۔  وزیر اعظم نریندر مودی نے نوٹوں کی منسوخی کو دنیا کا سب سے بڑا اور جامع فیصلہ بتاتے ہوئے آج کہا کہ ایمانداروں کو اس وقت تک بااختیار نہیں بنایا جاسکتا جب تک کہ بے ایمانوں کے تئیں سختی نہیں برتی جائے گی۔ مسٹر مودی نے صدر جمہوریہ کے خطاب پر راجیہ سبھا میں شکریہ تحریک پر ہوئی بحث کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ نوٹوں کی منسوخی کا مقصد نہ صرف کالے دھن پر لگام لگانا تھا بلکہ دہشت گردی کی فنڈنگ اور جعلی نوٹوں کے چلن کو روکنا تھا اور اس میں کامیابی ملی ہے ۔ نوٹوں کی منسوخی کو دنیا کا سب سے بڑا اور وسیع فیصلہ بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دنیا بھر کے ماہرین اقتصادیات کے پاس اس طرح کے فیصلے کے حساب کتاب کا کوئی پیمانہ نہیں ہے کیونکہ اب تک ایسا فیصلہ کہیں نہیں ہوا۔

وزیر اعظم نے کہا کہ نوٹوں کی منسوخی کے بعد بینکوں میں جعلی نوٹ آنے کا تو سوال ہی نہیں تھا۔ ہو سکتا ہے دور دراز کے بینکوں میں کچھ نوٹ آئے ہوں لیکن ریزرو بینک تک وہ نوٹ نہیں پہنچ سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نوٹوں کی منسوخی کے بعد 30 سے 40 دنوں میں تقریبا 700 ماؤنواز باغیوں نے ہتھیار ڈالے ہیں اور یہ عمل جاری ہے۔  مودی نے پاکستان کا نام لئے بغیر کہا کہ ایک دشمن ملک میں جعلی نوٹوں کا کاروبار کرنے والے ایک شخص نے ہندوستان میں نوٹوں کی منسوخی کے بعد خود کشی کر لی ہے۔ نوٹوں کی منسوخی کے بعد دہشت گردوں کے پاس دو ہزار روپے کے نئے نوٹ پائے جانے کے بارے میں انہوں نے کہا کہ جموں کشمیر میں بینکوں میں لوٹ کے واقعات پیش آئے تھے اور یہی روپے مارے گئے دہشت گردوں کے پاس سے برآمد ہوئے تھے۔

نوٹوں کی منسوخی دنیا کا سب سے بڑا اور جامع فیصلہ: وزیر اعظم مودی

انہوں نے کہا کہ 500 اور ایک ہزار روپے کے پرانے نوٹوں کا چلن بند کئے جانے کے بعد بینکوں کے پاس اتنی زیادہ رقم آئی ہے کہ اب ان کی عام لوگوں کو قرض دینے کی صلاحیت بڑھ گئی ہے۔ نوٹوں کی منسوخی سے غیر منظم شعبہ کے کارکنوں کو تنخواہ کی ضمانت مل گئی ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ملک کے عوام کی طاقت کیا ہوتی ہے نوٹوں کی منسوخی نے یہ ثابت کر دیا ہے۔ عام طور پر عوام حکومت کے فیصلے کی حمایت نہیں کرتے ہیں لیکن نوٹوں کی منسوخی کے فیصلے میں اس کے برعکس ہوا ہے۔ عوام کا مزاج ایک طرف رہا اور لیڈروں کا ایک طرف۔ لیڈر اس میں عوام سے کٹے ہوئے نظر آئے لیکن حکومت اور عوام ساتھ ساتھ تھے۔

انہوں نے کہا کہ نوٹوں کی منسوخی ماہرین سماجیات کے لئے مطالعہ کا موضوع ہے اور وہ ضرور اس پر مطالعہ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ملک اپنی اندرونی برائیوں سے باہر نکلنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اپنی برائیوں سے نکلنے کے راستے تلاش کر رہا ہے ۔ سوا سو کروڑ ہم وطنوں میں بھلے ہی بہت سے لوگ تعلیم یافتہ نہ ہوں لیکن وہ تکلیف برداشت کرکے بھی برائیوں سے باہر نکلنا چاہتے ہیں۔

Loading...

Loading...

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز