وزیر اعظم مودی نے جمہوریت کو ایک خاندان کے لئے ’وقف‘ کردینے پر کانگریس کو لتاڑا

Feb 07, 2017 01:13 PM IST | Updated on: Feb 07, 2017 03:25 PM IST

نئی دہلی۔  وزیر اعظم نریندر مودی نے آج ملک کی جمہوریت کو ایک سیاسی خاندان کو وقف کردینے پر کانگریس کو لتاڑتے ہوئے کہا کہ جن لوگوں نے 1970کی دہائی میں جمہوریت کو تباہ کرنے کی کوشش کی تھی، وہ عوام کی طاقت کو نہیں سمجھ پائے تھے۔ صدر کے خطبے پر شکریہ کی تحریک پر ہونے والی بحث کا جواب دیتے ہوئے  مودی نے آج لوک سبھا میں کہا کہ یہ عوامی طاقت کا ہی نتیجہ ہے کہ آج ایک غریب ماں کا بیٹا ملک کا وزیر اعظم ہے۔ شکریہ کی تحریک پر بحث کل رات مکمل ہوئی تھی۔ مسٹر مودی نے ’جمہوریت‘ اور سیاسی خاندان کے حوالے سے جو باتیں کہیں اس کا سرا  کانگریس کے لیڈر ایم ملک ارجن کھڑگے کے کل کے اس بیان سے ملتا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ کانگریس کی وجہ سے اس ملک میں جمہوریت زندہ ہے اور جمہوریت ہی کی وجہ سے مودی وزیر اعظم بن پائے ہیں۔

 مودی نے کہا ’’کانگریس کی طرف سے ہم برسوں سے بس یہی سن رہے ہیں کہ ’صرف ایک خاندان‘ نے ملک کو آزادی دلائی ہے ۔ انہوں نے کہا ’’ کیا ہم بھگت سنگھ اور چندر شیکھر کی خدمات کے بارے میں کبھی سنتے ہیں ‘‘۔ کانگریس فلور لیڈر مسٹر کھڑگے کے اس بیان کا مضحکہ اڑاتے ہوئے کہ ’’جمہوریت کی بقا کانگریس کی وجہ سے ہے ‘‘ انہوں نے اپنے مخصوص انداز میں کہا ’’واہ کیا شعر ہے‘‘۔ ’’یہ واقعی آپکی پارٹی کا بڑا احسان ہے کہ جمہوریت کو زندہ رکھا گیا‘‘۔  انہوں نے طنز کیا اور 1975 کی ایمرجنسی کے واقعہ کو یاد کرتے ہوئے کہا ’’ یہ کانگریس پارٹی ہے جس نے جمہوریت کو ایک کنبہ کے مفادات کے تحفظ کے لئے ’’وقف ‘‘ کردیا۔ وزیر اعظم نے جب بحث کا جواب دینا شروع کیا تو اپوزیشن نے ہنگامہ کردیا۔ ترنمول کانگریس کے ممبران کلیان بنرجی کی قیادت میں ایوان کے درمیان آگئے اور سرکار مخالف نعرے لگانے لگے ۔ بعدازاں اسپیکر سمترا مہاجن نے مسٹر بنرجی کو بولنے کی اجازت دی تب انہوں نے کہا کہ انکی پارٹی بی جے پی لیڈر کے کل کلکتہ کے جلسہ میں دیئے گئے اس بیان سے برہم ہے کہ ’’ترنمول‘‘ کے تمام لیڈروں کو سی بی آئی گرفتار کرکے بھونیشور لے جائے گی۔

وزیر اعظم مودی نے جمہوریت کو ایک خاندان کے لئے ’وقف‘ کردینے پر کانگریس کو لتاڑا

ایک مرحلے پر  بنرجی نے وزیر اعظم کو ٹوکنے کی کوشش کی اس پر  مودی نے مذاقاً کہا ’’ کلیان بنرجی آپ کا بھی کلیان ہوگا‘‘۔ نوٹ بندی کے سرکار کے فیصلہ کا دفاع کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا ’’ میں نے بدعنوانی سے لڑنے اور غریبوں کی مدد کرنے کے لئے جو عزم کیا ہے اس سے میں پیچھے نہیں ہٹوں گا‘‘۔’’ میں یہ بات واضح کردینا چاہتا ہوں کہ وہ چاہے جو بھی ہو ‘‘۔ میں اس راستہ کو نہیں چھوڑوں گا۔ وزیر اعظم نے اپوزیشن پارٹیوں پر طنز کرتے ہوئے کہا ’’آپ کو الیکشن کی فکر ہوگی مگر مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ انتخابی لڑائی کا نتیجہ کیا ہوگا‘‘۔ اپنی حکومت کی ڈجیٹل ادائیگی کو آگے بڑھانے کے اقدام کے بارے میں کہا نقدی کا استعمال بدعنوانی کا پہلا مرحلہ ہوتا ہے۔ اس کے بعد سونا اور دیگر چیزوں کا نمبر آتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن پارٹیوں نے پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس کو چلنے نہیں دیا کیونکہ ہر کوئی یہ سمجھ رہا تھا کہ بینکوں اور اے ٹی ایم کے سامنے لمبی لمبی قطاروں سے ملک میں بہت بڑے مسئلے پیدا ہوجائیں گے۔

وزیراعظم نے اپنی تقریر کا آغاز کانگریس کے نائب صدرراہل گاندھی پر طنز کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ جنہوں نے کہا تھا کہ اگر وہ نوٹ بندی پر بولیں گے تو’’ زلزلہ آجائے گا‘‘۔مسٹر مودی نے کل رات اتراکھنڈ اور شمالی ہندستان میں آئے زلزلہ کے حوالے سے کہا ’’ میں سوچ رہا تھا کہ یہ زلزلہ کیوں آیا‘‘۔ وزیراعظم نے کہا کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جب لوگ گھوٹالوں کو قومی خدمت کا نام دیتے ہیں تو’’ نہ صرف ماں بلکہ دھرتی ماں‘‘ بھی پریشان ہوجاتی ہے اور تب زلزلے آتے ہیں ۔ حکمراں پارٹی کے ممبران نے ڈیسک تھپتھپا کر اپنی خوشی کا اظہار کیا۔  مودی نے اس بات پر بھی تعجب ظاہر کیا کہ 1988 میں جب بینامی سودوں کے متعلق قانون بنایا گیا تھا تو راجیو گاندھی حکومت نے اسے نوٹیفائی کیوں نہیں کیا۔

انہوں نے کہا 1998 میں راجیو گاندھی کو پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں اکثریت حاصل تھی اور کانگریس کا پنجاب سے پارلیمنٹ ہر جگہ قبضہ تھا، مگر حکومت نے قانون پر عمل کیوں نہ کرایا۔ یہ جاننا بھی دلچسپ ہے کہ ان لوگوں نے سوچا کہ قانون کے بجائے اس کے نفاذ کو روکنا زیادہ فائدہ مند ہوگا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز