سلطان احمد کے انتقال پر وزیر اعظم مودی، گورنر اور ممتا بنرجی سمیت سرکردہ شخصیات کا اظہار تعزیت

Sep 04, 2017 07:19 PM IST | Updated on: Sep 04, 2017 07:19 PM IST

کلکتہ: ممبر پارلیمنٹ و ترنمول کانگریس کے سینئر رہنما سلطان احمد کے انتقال پر وزیر اعظم نریندر مودی ،مغربی بنگا ل کے گورنر کیسری ناتھ ترپاٹھی اور وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی سمیت ریاست کی اہم سیاسی و سماجی شخصیتوں نے ظہار تعزیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ سلطان احمد کا انتقال سیاسی و سماجی اور ملی سطح پر عظیم نقصان ہے ۔ سلطان احمد کے انتقال پر وزیراعظم نریندر مودی نے سماجی ویب سائٹ ٹوئیٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’لوک سبھا کے ممبر پارلیمنٹ و سابق مرکزی وزیر سلطان احمد کا اچانک انتقال ہوگیا ہے۔میں اس دکھ کے لمحے میں ان کے اہل خانہ اور حامیوں سے تعزیت کرتا ہوں۔

راج بھون سے جاری بیان کے مطابق گورنر کیسری ناتھ ترپاٹھی نے ممبر پارلیمنٹ سلطان احمد کے انتقال پر دکھ کا اظہار کیا ہے ۔جب کہ وزیراعلیٰ ممتا بنرجی نے ٹوئیٹ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ایک طویل عرصے سے ہماری ساتھی رہے سلطان احمد کا اچانک انتقال ہوگیا ہے ۔میرے لیے ایک بڑا صدمہ ہے میں ان کے اہل خانہ سے تعزیت کرتی ہوں ۔

سلطان احمد کے انتقال پر وزیر اعظم مودی، گورنر اور ممتا بنرجی سمیت سرکردہ شخصیات کا اظہار تعزیت

سلطان احمد: فائل فوٹو

پرائیوٹ نرسنگ ہوم ویل ویو کی جانب سے جاری ریلیز میں کہا گیا ہے کہ سلطان احمد کا 11.30بجے صبح انتقال ہوگیا ہے ۔انہیں اسپتال میں مردہ حالت میں ہی لایا گیا تھا ۔خیال رہے کہ انہیں دل کا دورہ پڑنے کے بعد اسپتال لے جایا گیا تھا۔ان کے پسماندگان میں اہلیہ اور دوبیٹے ہیں ۔ان کے چھوٹے بھائی اقبال احمد ممبر اسمبلی اور کلکتہ میونسپل کارپوریشن میں ڈپٹی مےئر ہیں ۔

آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے صدر نوید حامد نے سلطان احمد کے اچانک انتقال پر رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سلطان احمد نہ صرف مغربی بنگال کے اہم ملی و سیاسی رہنما تھے بلکہ ان کا شمار پورے ہندوستانی مسلمانوں کے ایک اہم لیڈر کے طور پر ہوتا تھا اور مسلمانوں کے مسائل کو حل کرنے کی ہر ممکن کوشش کرتے تھے۔ان کے انتقال سے جو خلا پیدا ہوا ہے اسے عنقریب پر کرنا مشکل ہے۔

صدر مشاورت نوید حامد نے کہامرحوم سے تقریباً تیس برسوں سے ان کے ہمیشہ دوستانہ تعلقات رہے۔مرحوم سلطان احمد آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے بہت قدیم رکن تھے اور مشاورت کو تقویت دینے کے لیے ہمیشہ کوشاں رہے ، وہ ہمیشہ مشاورت کی میٹنگوں میں شریک ہو کر مشاورت کے کاموں میں ذاتی دلچسپی لیا کرتے تھے۔ ان کا انتقال مشاورت کے لیے ایک عظیم سانحہ ہے۔مرحوم سلطان احمد ملت کے کاموں میں بھی ہمیشہ پیش پیش رہتے تھے اور مرحوم سلطان احمد صاحب کی کوششوں سے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ پچھلے دس برسوں میں کولکاتہ میں دو کامیاب ترین اجلاس منعقد کرنے میں کامیاب ہوا تھا۔

انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹیو اسٹڈیز کے چیرمین اور معروف اسلامی اسکالر ڈاکٹر منظور عالم نے سلطان احمد کے انتقال پر تعزیتی بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ سلطان احمد سیاسی رہنما ہونے کے ساتھ دل درمند رکھنے والے قائد تھے ،سیاست کے ساتھ ملی امور اور مسلمانوں کے مسائل میں ان کی گہری دلچسپی تھی ،انہوں نے ہمیشہ سیاست کے ذریعہ ملک اور ملت کی خدمت کی اور ترجیحی طور پر مسلمانوں کے حقوق کی جنگ لڑی۔

انہوں نے کہاکہ میرے اور مرحوم سلطان احمد کے درمیان30 تیس سالوں سے دوستانہ تعلقات تھے ،مختلف مواقع پر اور مختلف تقریبات میں ہم لوگوں کی ملاقات ہوتی رہی ،ملت کے مختلف مسائل پر ہم لوگوں نے ایک ساتھ بیٹھ کر بات چیت کی اور ہمیشہ انہیں فکرمند پایا ،انہیں مسلمانوں کے مسائل کے تئیں بے چین دیکھا اور ہمیشہ انہوں نے اپنی سطح پر مسلمانوں کے مسائل حل کرنے اور پارلیمنٹ سے لیکر ہر مقام تک ان کی آواز بلند کی، آل انڈیا مسلم پرسنل لاء4 بورڈ کے دواجلاس کی انہوں نے کولکاتا میں میزبانی بھی کی۔

منظور عالم نے کہاکہ ایم پی سلطان احمدکے انتقال سے مجھے ذاتی طور پر بہت صدمہ پہونچاہے اور یہ سیاست کے ساتھ ملت اسلامیہ ہند کیلئے بھی ایک بہت بڑا خلا ہے ،بڑی مشکل سے ایسے لوگ پیدا ہوتے ہیں جو سیاست کے میدان میں ہوتے بھی ملی ہمدردی کے جذبہ سے سرشار ہوتے ہیں ، حزن وملال کی اس گھڑی میں ہم مرحوم سلطان احمد کے اہل خانہ کے ساتھ ہیں اور دعاء4 گو ہیں کہ اللہ ان کی مغفرت فرمائے ،اہل خانہ کو صبر جمیل عطاء فرمائے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز