ہندوستان کے نزدیک آنے کے لیے پاکستان دہشت گردی کو خیرآباد کہے : نریندر مودی

نئی دہلی۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے پڑوسي ممالک پاکستان اور چین کو دو ٹوک الفاظ میں پیغام دے کر کہا کہ اچھے تعلقات کے لیے انہیں ایک دوسرے کے مفادات اور حساسیت کا احترام کرنا چاہیے۔

Jan 17, 2017 11:33 PM IST | Updated on: Jan 17, 2017 11:33 PM IST

نئی دہلی۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے پڑوسي ممالک پاکستان اور چین کو دو ٹوک الفاظ میں پیغام دے کر کہا کہ اچھے تعلقات کے لیے انہیں ایک دوسرے کے مفادات اور حساسیت کا احترام کرنا چاہیے۔ مسٹر مودی نے یہاں دوسری رائے سینا بات چیت کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کو صاف پیغام بھی دیا کہ اگر وہ ہندوستان کے قریب آنا چاہتا ہے تو اسے دہشت گردی سے دور ہٹنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان نے ہمیشہ سے مکالمے اور بات چیت کا موقف اختیارکیا ہے لیکن ہمارے پڑوسی ملک کے لوگ جو دہشت گردی اور تشدد کی حمایت کرتے ہیں، وہ آج الگ تھلگ ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا پختہ یقین ہے کہ دنیا بھر میں اس بات پر بحث ہونے لگی ہے کہ دہشت گردی کو مذہب سے الگ کیا جانا چاہیے اور اچھے اور برے دہشت گردی کے مصنوعی فرق کو مسترد کیا جانا چاہیے۔  وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ پڑوسی ممالک کے ساتھ گہرے رواسم رکھنے کے ان کے نظریے کا ہی نتیجہ تھا کہ انہوں نے اپنی حلف برداری تقریب میں پاکستان سمیت تمام سارک ممالک کے سربراہان کو مدعو کیا تھا۔

 مودی نے ا پنے خطاب میں قوی امید ظاہر کی کہ واشنگٹن کے اقتدار میں نئي تبدیلی کے تحت امریکہ جیسے ممالک کے ساتھ تعلقات مزید بہتر ہوں گے ۔ انہوں نے کہا کہ "نامزد امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ساتھ ہماری بات چیت میں ہم نے دو طرفہ اسٹراٹیجک تعلقات کو مسلسل قائم و دائم رکھنے پر اتفاق رائے کیا ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ اسی طرح روس اور جاپان جیسے ممالک کے ساتھ ثمر آور شراکت داری بڑھنے کی امید ہے۔ چین کے سلسلے میں بھی وزیر اعظم نے کہا کہ وہ ہندوستان اور چین کی ترقی کو دونوں ممالک اور پوری دنیا کے لیے ایک بے مثال موقع کے طور پر دیکھتے ہیں۔ یہ ہونے کے باوجود دو بڑی سپر پاور کے درمیان اختلافات کا ہونا غیر فطری نہیں ہے۔ جوہری سپلائر گروپ (این ایس جی) میں ہندوستان کی رکنیت اور مسعود اظہر کو بین الاقوامی دہشت گرد قرار کئے جانے کے بارے میں ہندوستان کی کوششوں پر چین کے ویٹو کا ذکر کئے بغیر مسٹر مودي نے کہا کہ ہمارے تعلقات میں علاقے کے امن اور ترقی کیلئے دونوں ممالک کو ایک دوسرے کی اہم خدشات اور مفادات کے احترام اور حساسیت دکھانی چاہیے۔

ہندوستان کے نزدیک آنے کے لیے پاکستان دہشت گردی کو خیرآباد کہے : نریندر مودی

گیٹی امیجیز

چین پاکستان اقتصادی کوریڈور (سي پي اي سي) کو لے کر بھی مسٹر مودی نے ہندوستان کے حق کو واضح کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم امن، ترقی اےر خوشحالی کیلئے علاقائی کنیکٹوٹی کی ضرورت سمجھتے ہیں اور اس کی تعریف بھی کرتے ہیں۔ تاہم یہ بھی اتنا اہم ہے کہ کنیکٹوٹی دیگر ممالک کی خود مختاری کو نظر انداز یا خلاف ورزی نہ کرے۔جن ممالک سے علاقائی کنیکٹوٹی کوریڈور گزرنے والے ہیں، ان کی خود مختاری کا احترام کر کے ہی تنازعات اور اختلافات سے بچتے ہوئے ان کوریڈورز کے وعدوں کو پورا کیا جا سکتا ہے۔ مودی نے کہا کہ ایشیا میں بہت تیزی سے حالات بدل رہے ہیں۔ ایشیا میں بڑی اور متحرک میدان میں ترقی اور خوشحالی آ رہی ہے لیکن عزائم کا ابھرنا اور مسابقت بڑھنے سے کشیدگی کے کئی نقاط نظر لگے ہیں۔ فوجی طاقت، وسائل اور دولت میں تیزی سے اضافہ نے سلامتی کو لے کر خطرے بڑھا دیے ہیں۔ اس لئے علاقے میں سیکورٹی کا ڈھانچہ کھلا، شفاف، متوازن اور کثیر رخی ہونا چاہیے۔ اس سیکورٹی ڈھانچے سے بین الاقوامی التزامات کے تحت بات چیت اور مستحکم رویے اور خودمختاری کے احترام کو فروغ ملنا چاہیے۔ مسٹر مودی نے امریکہ، جاپان اور روس کے ساتھ تعلقات پر بھی تبصرہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ڈھائی سال کے دوران ہندوستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات بہت ہی کامیاب اور قابل قدر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈھائی بر سوں میں ہم نے روس، جاپان اور دیگر اہم عالمی طاقتوں کے ساتھ تعلقات کو رفتار دی دی ہے۔

اس موقع پر اظہار تشکر کرتے ہوئے وزیرمملکت برائے امور خارجہ ایم جے اکبر نے کہا کہ ہندوستان امن کا طلب گار ہے، لیکن یہ امن قبرستان کے سکون کی مانند نہ ہو۔ رائے سینا بات چیت میں نیپال کے وزیر خارجہ پرکاش شرن مہت ، افغانستان کے سابق صدر حامد کرزئی، کینیڈا کے سابق وزیر اعظم اسٹیفن ہارپر، سری لنکا کے علاقائی ترقی کے وزیر شرد پھونسیكا کے علاوہ فرانس، جاپان، امریکہ کے نمائندے شامل ہوئے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز