ایک بار خدمت کا موقع دیں، تبدیلی لا کر دکھائیں گے، آپ کے خواب کا اترپردیش بنائیں گے: مودی

Feb 05, 2017 08:04 PM IST | Updated on: Feb 05, 2017 08:06 PM IST

علی گڑھ ۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے بدعنوان لوگوں کو کسی بھی حالت میں نہ بخشنے کا عزم دہراتے ہوئے آج کہا کہ ہر سال بدعنوان چوہے 40 ہزار کروڑ روپے كتر دیتے تھے۔

مودی نے آج یہاں وجے شنکھ ناد ریلی سے خطاب کرتے ہوئے سماج وادی پارٹی (ایس پی) کو بھی خوب للکارا اور کہا کہ اکھلیش یادو کسی کو بھی پکڑ لیں، کسی سے بھی اتحاد کر لیں لیکن بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی چل رہی آندھی میں وہ ٹک نہیں پائیں گے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ بدعنوانی کا عالم یہاں تک پہنچ گیا تھا کہ بیٹی پیدا نہیں ہوئی لیکن بیوہ پنشن لے لی جاتی تھی۔ بدعنوان اور بے ایمانوں پر روک لگانے کی ان کی مہم رکے گی نہیں۔ بدعنوانی کا یہ عالم تھا کہ 40 ہزار کروڑ روپے خاموشی سے کھا لئے جاتے تھے۔ اس کو بچایا گیا ہے اور اب اس رقم کو غریبوں کے مفادات میں لگایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’مودی کو سبھی گالیاں دے رہے ہیں کیونکہ میں اب سب کا اسکرو ٹائٹ کر رہا ہوں۔ بے ایمانوں کو سرپرستی دینے والوں کو 70 سال کے گناہوں کا حساب دینا پڑ رہا ہے۔ اس لئے سب متحد ہوکر مجھے روکنا چاہتے ہیں، لیکن اترپردیش کے عوام انصاف اور تبدیلی چاہتے ہیں اور عوام نے جب ذہن بنا لیا تو تبدیلی ہوکر رہے گی۔‘‘ مسٹر مودی نے کہا، ’’میں نوجوانوں، چھوٹے کاروباریوں کی لڑائی لڑ رہا ہوں۔ اس لڑائی کا آغاز میں نے دہلی میں حکومت بنتے ہی کر دیا تھا۔ میں نے بےا یمانوں کے راستے کو روکا تو وہ مجھ پر غصہ ہیں۔ کانگریس ایس پی انتخابات جیتنے کے لئے جمع نہیں ہوئے ہیں بلکہ انہیں یہ ڈر ستا رہا ہے کہ کہیں بی جے پی کی راجیہ سبھا میں بھی اکثریت نہ ہو جائے۔ راجیہ سبھا میں اگر اکثریت ہوگئی تو مودی ایسے قانون بنائے گا کہ لوٹنا بند ہو جائے گا۔‘‘ انہوں نے کہا کہ نوٹوں کی منسوخی کی وجہ سے بڑی تعداد میں رکھی نوٹوں کی گڈيوں کو باہر نکالنا پڑا۔ بے ایمانوں کو گڈی نکالنا کتنا اچھا لگ سکتا ہے۔ غریب اور ایماندار لوگوں کی ترقی کے لئے گڈيوں کو نکلوانا پڑا اور اب وہی پیسہ غریبوں کو آگے بڑھانے میں مددگار ثابت ہو رہا ہے۔ نوٹوں کی منسوخی کے دوران تمام تکلیف سہنے کے باوجود ملک کے تقریبا ً125 کروڑ عوام نے تعاون دیا۔

ایک بار خدمت کا موقع دیں، تبدیلی لا کر دکھائیں گے، آپ کے خواب کا اترپردیش بنائیں گے: مودی

وزیر اعظم نے کہا کہ گزشتہ چند برسوں سے اتر پردیش میں ایسی حکومتیں آئیں جنہوں نے نوجوانوں سے روزگار چھین لیا، غریبوں کو اور غریب بنا دیا۔ ملک بھر میں مشہور علی گڑھ کے تالے یہیں کے فیکٹریوں میں لگ گئے۔ فیکٹری بند ہوئیں تو روزگار بھی بند ہوا۔ لکھنؤ میں بیٹھی حکومتوں نے بجلی نہیں دی۔ انہوں نے کہا کہ اب وقت بدل گیا ہے۔ ترقی کا وقت ہے۔ ترقی کے مفہوم اپنے طریقے سے بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 'وی' کا مطلب برقی یا بجلی، 'کا' سے قانون اور 'س' کا مطلب سڑک، انہی تین چیزوں پر ترقی کی خوبصورت عمارت بنائی جا سکتی ہے اور یہ تینوں ہی اتر پردیش سے ندارد ہیں۔ اپنی حکومت کی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے مسٹر مودی نے کہا کہ انہوں نے نوجوانوں کے لئے 'کرنسی کی منصوبہ بندی' بنائی جس کے تحت بغیر کسی ضمانت کے روزگار کے لئے 50 ہزار روپے قرض دینے کا بندوبست ہے۔ اس منصوبہ کے تحت لاكھوں نوجوانوں کو کروڑوں روپے دیے جا چکے ہیں، لیکن فکر کا موضوع یہ ہے کہ اتر پردیش حکومت کو اس سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ اس وجہ سے بھی یہاں کے نوجوان پچھڑتےجا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملازمتوں سے بدعنوانی ختم کرنے کے لئے تیسری اور چوتھی قسم کی بھرتی میں انٹرویو بند کیا۔اسی طرح کی اپیل اترپردیش حکومت سے بھی کی گئی لیکن یہاں کی حکومت خود میں ہی مست ہے۔ اس ریاست میں سرکاری ملازمتوں کی بھرتی میں کرپشن عروج پر ہے۔ بی جے پی حکومت بننے پر نوجوانوں کو انصاف دلانے کے لئے قانونی عمل اختیار کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ اترپردیش میں قانون و انتظام کی حالت اتنی خراب ہے کہ سورج ڈھلنے کے بعد بہن بیٹیوں کا باہر نکلنا مشکل ہو جاتا ہے۔ اس ریاست میں ایک دن میں 7650 واردات ہو رہی ہیں۔ان میں 24 عصمت دری، 21 عصمت دری کی کوشش، 23 قتل ، 35 اغوا، 19 فسادات اور 136 چورياں شامل ہیں۔ یہ ریاست بھیانک پانچ گناہوں میں ملک میں اول نمبر پرہے۔اترپردیش سے یہ برادور ختم ہونا چاہئے۔مٹھی بھر لوگ سیاستدانوں کی سرپرستی کی وجہ سے جرم کر رہے ہیں۔ بی جے پی کی حکومت بنی تو یا تو یہ جیل میں ہوں گےیا خطے سے باہر۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کو ہر حال میں جرم سے بچانا ہے۔ تبدیلی لاکر غنڈوں کو ٹھیک کیا جا سکتا ہے۔ گنا کسانوں کے بقائے کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے ریاستی حکومت سے پوچھا کہ ادائیگی میں لاپروائی کیوں کی گئی۔ ریاست میں بی جے پی کی حکومت بنی تو 14 دن میں ہر حال میں گنا کسانوں کی ادائیگی کی جائےگی۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ان کی حکومت بننے کے وقت بجلی کے بحران سے سب سے زیادہ متاثر گاؤں اترپردیش میں تھے۔ مہم چلوا كر زیادہ تر گاؤں میں بجلی کا انتظام کروا دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اکھلیش یادو حکومت کسانوں کو لے کر سنجیدہ نہیں ہے کیونکہ یہاں کسانوں کی مصنوعات کو صرف تین فیصد خریدا جاتا ہے باقی کو بچولیوں سے لٹنے کے لئے چھوڑ دیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہریانہ میں کسانوں کی مصنوعات کا 70 فیصد، مدھیہ پردیش میں 65 فیصد، چھتیس گڑھ میں 70 فیصد حکومتیں خریدتی ہیں، اسی لیے وہاں کے کسان مسلسل امیر ہوتے جا رہے ہیں۔ یہاں تو کسانوں سے صرف ووٹ مانگا جاتا ہے۔ مسٹر مودی نے کہا کہ ان کی حکومت نے گنا کسانوں کی مدد کے لئے 25 کروڑ لیٹر ایتھینال بنوایا اس سے کسانوں کا بھلا ہوا۔ باہر سے تیل مگانا کم ہوا۔ روپے کی بچت ہوئی اور کسان بھی مالا مال ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ یوریا کے لئے کسانوں کو لاٹھیاں کھانی پڑتی تھیں۔ لمبی لائن لگتی تھی لیکن یوریا کی نيمكوٹنگ کرکے اس کی کالابازاری روکی گئی۔ نيمكوٹنگ کی وجہ سے یوریا کی کیمیائی فیکٹریوں میں کھپت ختم ہوئی۔ نتیجہ نکلا کہ کسانوں پر نہ تو اب لاٹھیاں برس رہی ہیں اور نہ ہی انہیں لائن لگانی پڑ رہی ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ ایک بار سروس کا موقع دیجئے۔ اتر پردیش میں تبدیلی لا کر دکھائیں گے۔ آپ کے خواب کا اتر پردیش بنائیں گے۔ ریلی میں آئی بھیڑ سے بے حد خوش مودی نے بار بار کہا کہ دہلی اور لکھنؤ میں یکساں نظریہ والی حکومت رہنے پر ترقی جم کر ہوتی ہے کیونکہ دہلی سے ملنے والی مدد لکھنؤ میں بیٹھی حکومت عوام تک براہ راست پہنچاتی ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز