بدایوں میں نریندر مودی نے لی اکھلیش پر چٹکی، کہا یوپی میں 'کام نہیں، کارنامے' بول رہے ہیں

Feb 11, 2017 05:19 PM IST | Updated on: Feb 11, 2017 05:20 PM IST

بدایوں۔  وزیر اعظم نریندر مودی نے اتر پردیش کی سماج وادی پارٹی (ایس پی) حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے طنز کیا ہے کہ 'اکھلیش بابو، کام نہیں کارنامے بول رہے ہیں۔' مسٹر مودی نے آج یہاں ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بدایوں کے ایک ایس پی ممبر اسمبلی اور وزیر مملکت نے وزیر اعلی کے چچا زاد بھائی اور مقامی رہنما پر ہی بدعنوانی کا الزام لگا دیا۔ سماج وادی پارٹی کا ممبر اسمبلی اگر اپنی پارٹی کے رہنما پر بدعنوانی کا الزام لگا رہا ہے تو تصور کیجئے کہ حالت کیا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ اقتدار میں آنے سے پہلے اکھلیش یادو کہا کرتے تھے کہ مایاوتی حکومت میں جن افسران پر کرپشن کے الزامات ہیں ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ انکوائری کراکے انہیں جیلوں میں بھی ڈالا جا سکتا ہے لیکن حکومت آنے پر کچھ دن ادھر ادھر کیا اور بعد میں انہیں ہی بڑے-بڑے عہدوں پر بٹھا دیا۔ یہ غریب کے پیسے لوٹتے ہیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ مایاوتی اور ملائم سنگھ یادو ایک دوسرے کے سخت مخالف ہیں۔ ایک- دوسرے سے بات کرنا بھی پسند نہیں کرتے لیکن جب میں نے بدعنوانی اور کالے دھن کی لڑائی شروع کی تو وہ مل کر میرے ہی خلاف بیان دینے لگے۔ انہیں پتہ ہے کہ اس لڑائی کی زد میں وہ بھی آ سکتے ہیں۔ غریبوں کو جنہوں نے لوٹا ہے اسے سزا تو بھگتنا ہی پڑے گا۔

انہوں نے کہا، "اکھلیش یادو نے اپنے سیاسی مفاد کے لئے جوانوں کے مستقبل پر علی گڑھ کا تالا لگا دیا۔" نوجوانوں کو گمراہ کرنے کے لئے نعرے تو خوب دیے لیکن ان کے لئے کوئی کام نہیں کیا۔ مسٹر مودی نے کہا کہ ریاست میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت بننے پر اونتی بائی کے نام پر سیکورٹی فورس میں خواتین کی تین بٹالین تشکیل دی جائیں گی ۔ریاست میں خواتین کے تحفظ کی صورتحال خراب ہے ۔ یہ بات ذہن میں رکھتے ہوئے خواتین بٹالین بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ انتخابات جیتنے کے لئے دو کنبے جمع ہوئے ہیں۔ اپنی ناکامیوں کو چھپانے کیلئے وہ الگ الگ باتیں کرتے ہیں۔ ریاست میں انتخابات ہور ہے ہیں، تو قاعدے سے پرانی حکومت کو اپنے کام کا حساب دینا چاہئے لیکن وزیر اعلی جہاں جاتے ہیں وہاں صرف یہی کہتے ہیں، "مودی ایسا، مودی ویسا۔ پہلے اپنے کام کا حساب دو پھر مودی کی بات کرو۔ عوام مودی کا حساب 2019 میں مانگیں گی۔ میں عوام کو پائی پائی کا حساب دوں گا۔ " انہوں نے کہا کہ آج 11 فروری ہے، عوام نے قانون ساز کونسل کی نشستوں پر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو جتا کر 11 مارچ کا اشارہ دے دیا ہے ۔ آغاز ہو گیا ہے۔ اب یہی جاری رہے گا۔ انہوں نے مضحکہ اڑاتے ہوئے کہا کہ قانون ساز کونسل کی نشستوں پر بی جے پی ہار جاتی تو اپوزیشن یہی کہتی کہ مودی کا پتہ صاف ہو گیا۔ انہوں نے طنز کیا کہ کرسی کے لئے گلے ملنے والوں کا عوام نے پتہ ہی صاف کر دیا۔

بدایوں میں نریندر مودی نے لی اکھلیش پر چٹکی، کہا یوپی میں 'کام نہیں، کارنامے' بول رہے ہیں

مسٹر مودی نے کہا کہ بدایوں وی آئی پی علاقہ ہے۔ یہ مایاوتی اور ملائم کا علاقہ رہا ہے۔ ایس پی سرپرست کے خاندان کا آج بھی یہاں دبدبہ ہے۔ مخصوص علاقے ہونے کے باوجود یہ ضلع ملک کے 100 پچھڑے اضلاع میں شامل ہے۔ یہاں ترقی کو ترجیح ہی نہیں دی گئی۔ بدایوں کے 500 دیہات میں بجلی نہیں تھی۔ مرکزی حکومت نے بجلی لگوا دی ہے۔ سال 2014 میں بدایوں سے بی جے پی کا رہنما نہیں جیتنے کے باوجود ترقی میں اس علاقے کو آگے رکھا گیا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ اتر پردیش میں ایماندار لوگوں کو پریشان کیا جا رہا ہے۔ روپے لے کر روزگار دئے جارہے ہیں۔ بی جے پی کی حکومت بنی تو جانچ کراکے دودھ کا دودھ، پانی کا پانی الگ کر دیا جائے گا۔ غنڈوں، مافیائوں پر سختی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اقربا پرستی ختم ہونے کا وقت آ گیا ہے۔ بی جے پی حکومت بنتے ہی بدعنوانوں کی جگہ جیل میں ہوگی۔ وہ بدعنوانی سے کسی بھی حال میں سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ نوٹوں کی منسوخی کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ ملک کے مفاد میں کیا گیا تھا۔ اس سے ملک کی معیشت مضبوط ہوئی ہے۔ اپنی پوری تقریر کے دوران مسٹر مودی نے بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کی صدر مایاوتی کا کو ئی خاص ذکر نہیں کیا۔ وہ ایس پی کانگریس اتحاد کے ساتھ ہی وزیر اعلی اکھلیش یادو پر زیادہ حملہ آور رہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز