دو كنبوں کا ملن ہے کانگریس اور سماج وادی پارٹی کا اتحاد: بجنور میں ایک ریلی سے مودی کا خطاب

Feb 10, 2017 05:39 PM IST | Updated on: Feb 10, 2017 05:39 PM IST

بجنور۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے سماجوادی پارٹی (ایس پی) اور کانگریس کے اتحاد پر زوردار حملہ کرتے ہوئے آج کہا کہ یہ سیاسی نہیں بلکہ ملک اور ریاست کو لوٹنے والے دو كنبوں کا اتحاد ہے۔ مسٹر مودی نے آج یہاں ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دونوں پارٹیاں سیاسی پارٹی کے بجائے کنبے ہیں۔ جس میں ایک دہلی کا ہے اور ایک سیفئی کا۔ ایک نے ملک لوٹا ہے اور دوسرے نے ریاست۔ اب دونوں مل کر اتر پردیش کو لوٹنا چاہتے ہیں۔ دونوں سوچتے ہیں کہ ریاست کے مالک وہی ہیں۔ اس لیے ریاست کو لوٹنے کے لئے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوئے ہیں۔ وزیر اعظم نے طنز کیا کہ '27 سال-یوپی بے حال 'کا نعرہ لگانے والے چاروں طرف' کمل ' دیکھ کر گھبرا گئے اور ایس پی سے' آ گلے لگ جا 'کی طرز پر مل گئے۔ انہوں نے کہا، "میں نے سوچا تھا کہ اکھلیش پڑھا لکھا نوجوان ہے۔ سیکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔ امید تھی کہ سیاست میں اچھا کام کریں گے، لیکن انہوں نے اس لیڈر سے ہاتھ ملا لیا جس سے کانگریس کے سینئر لیڈر 10 فٹ کی دوری بنا کر رہنا پسند کرتے ہیں"۔ کانگریس نائب صدر راہل گاندھی کا نام لئے بغیر انہوں نے چٹکی لی کہ کمپیوٹر پر گوگل میں جائیں تو کانگریس کے ایک رہنما کی بچکانا حرکتوں پر اتنے لطیفے مل جائیں گے جتنے شاید کسی لیڈر پر ہوں۔ راہل گاندھی سے گلے لگنے کے بعد اب تو اکھلیش یادو کی سمجھداری پر بھی شک ہونے لگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ کنبے ریاست کا بھلا نہیں کر سکتے کیونکہ ان میں سوچ ہی نہیں ہے۔ ملائم سنگھ یادو کا نام لئے بغیر انہوں نے طنز کیا کہ ایک کنبے کے سربراہ نے عصمت دری کے واقعات پر کہہ دیا تھا کہ لڑکوں سے غلطیاں ہوتی رہتی ہیں کیا ایسے لوگ بہن- بیٹیوں کی حفاظت کر سکتے ہیں۔

دو كنبوں کا ملن ہے کانگریس اور سماج وادی پارٹی کا اتحاد: بجنور میں ایک ریلی سے مودی کا خطاب

فائل فوٹو

مسٹر مودی نے کہا کہ ایک کنبے نے اپنی ذات کا بھی نہیں صرف اپنے خاندان کا بھلا کیا ہے۔اسی وجہ سے اس کنبے کے گاؤں سیفئی کے لوگ وزیر اعلی، ایم پی، ایم ایل اے، وزیر اور دیگر بڑے عہدوں پر بیٹھے مل جائیں گے۔ اس کنبے کو نہ تو دوسرے گاؤں سے مطلب ہے اور نہ ہی عام آدمی کے خاندان سے۔ انہوں نے گاندھی نہرو خاندان کا نام لئے بغیر کہا، 'دوسرا کنبہ ایسا ہے جسے فیکٹری میں آلو بننے کا خواب آتا ہے۔ جب انہیں یہ ہی نہیں معلوم ہے  کہ کسان خون پسینہ بہا کر آلو پیدا کرتے ہیں۔ وہ کسانوں کا کیا بھلا کریں گے۔ ' وزیر اعظم نے وزیر اعلی اکھلیش یادو سے سوال کیا کہ جسے یہ نہیں معلوم ہے کہ آلو فیکٹری میں نہیں پیدا ہوتا اس سے کس طرح ہاتھ ملا لیا۔ انہوں نے کہا کہ عام طور پر گنے کا بیمہ نہیں ہوتا لیکن اکھلیش یادو حکومت نے گنے کا بھی انشورنس کروا دیا۔ انہوں نے کہا کہ اکھلیش یادو کے دور میں بدعنوان لوگوں کو بچا لیا گیا۔ نوئیڈا کے ایک بدعنوان انجینئر کو بچانے کے لئے ریاستی حکومت سپریم کورٹ چلی گئی لیکن عدالت نے حکومت کو نہ صرف پھٹکار لگائی بلکہ مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی)سے جانچ کرانے کا حکم بھی دے دیا۔ مایاوتی حکومت نے تو اس کا پرموشن کر دیا لیکن اکھلیش یادو حکومت نے اسے مزید ترقی دے کر اس کے اسٹیٹس میں مزید اضافہ کر دیا۔

مسٹر مودی نے کہا کہ اترپردیش کو بچانے کے لئے دونوں كنبوں کو سبق سکھاناہو گا۔ انہوں نے کہا کہ مرکز میں ان کی حکومت آئی تو گنا کسانوں کا 22 ہزار کروڑ روپیہ بقایہ تھا۔ مرکز کے خزانے سے 99 فیصد سے زیادہ ادا کر دیا گیا لیکن چھ ایسی چینی ملیں ہیں جس نے کسانوں کوادائیگی نہیں کی۔ ریاست میں بی جے پی کی حکومت آئے گی تو پوچھا جائے گا کہ ان ملوں سے وزیر اعلی اکھلیش یادو کا کیا رشتہ تھا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ اکھلیش یادو حکومت نے بی جے پی کے معصوم کارکنوں پر بیجا مقدمے قائم کردئے گئے ہیں۔ بی جے پی کی حکومت بنی تو ان معاملات کی تحقیقات کراکر کچا چٹھا کھولا جائے گا۔ اس موقع پر انہوں نے سنت روی داس کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ آج روی داس جينتي ہے۔ کاشی سنت روی داس کی جائے پیدائش ہے۔ انہیں وہیں سے ممبر پارلیمنٹ بن کر ملک کی خدمت کا موقع ملا ہے۔سنت کے نظریات پر چل کر ان کی حکومت سب کا ساتھ، سب کا وکاس کر رہی ہے۔ سنت روی داس نے کہا تھا، "من چنگا تو كٹھوتي میں گنگا." مسٹر مودی نے کہا کہ حکومت غریب، ایماندار اور شریف آدمیوں کی حفاظت کے لئے ہوتی ہے۔ لیکن ریاستی حکومت نے ایمانداروں کی حفاظت کے بجائے بدعنوانوں کو تحفظ فراہم کیا۔ نوجوانوں اور کسانوں کی قسمت کوغیر محفوظ بنا دیا۔ جو حکومت نوجوانوں اور مظلوم کا بھلا نہ کر سکے اس حکومت کو ایک لمحہ بھی اقتدار میں بنے رہنے کا حق نہیں ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز