میانمار میں روہنگیا مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کی کہانی پڑھیں خود ان کی زبانی

Sep 05, 2017 02:38 PM IST | Updated on: Sep 05, 2017 02:38 PM IST

نئی دہلی۔ ہندوستان کے وزیر اعظم نریندر مودی میانمار کے دو روزہ دورے پر ہیں۔ اس دورہ سے میانمار اور ہندوستان سے زیادہ امیدیں روہنگیا مسلمانوں کی ایک بڑی آبادی کو ہے۔ یہ لوگ میانمار میں ڈھائے جانے والے مظالم کے بعد ہندوستان میں پناہ لے کر رہ رہے ہیں۔

وزیراعظم نریندر مودی کے دورے سے مل رہی معلومات کا بے صبری سے انتظار کر رہے ان لوگوں کی آنکھوں میں خوف سمایا ہوا ہے۔ دہلی کے مدن پور کھادر واقع جے جے کالونی میں بڑی تعداد میں میانمار سے آئے روہنگیا مسلمان اس خوفناک مظالم کو یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ میانمار میں انہیں غلام کہہ کر پکارا جاتا ہے۔ ان سے کہا جاتا ہے کہ تم بنگلہ دیشی ہو، بنگلہ دیش جاو۔ ہندوستان جاو۔ میانمار سے باہر نکل جاو ورنہ مار دئیے جاو گے۔

میانمار میں روہنگیا مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کی کہانی پڑھیں خود ان کی زبانی

شاکر بتاتے ہیں کہ وہاں پر بودھ روہنگیا مسلمانوں سے کہتے ہیں کہ تم بنگلہ دیش کے ہو۔ تمھارے آبا واجداد 600 سال پہلے بنگلہ دیش سے غلام بنا کر یہاں (میانمار) لائے گئے تھے۔ تم بھی غلام ہو۔ روہنگیا مسلمانوں کی حالت بہت خراب ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے ساتھ ہی میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کو جو شناختی کارڈ دیئے گئے ہیں وہ عارضی ہیں۔ ان میں لکھا ہے کہ وہ یہاں مہمان ہیں، یہاں کے شہری نہیں ہیں۔ روہنگیا مسلمانوں کو وہاں کوئی سرکاری نوکری نہیں دیتا۔

دلی کی مدن پور کھادر جے جے کالونی میں رہ رہے میانمار سے آئے پناہ گزیں روہنگیا مسلمان دلی کی مدن پور کھادر جے جے کالونی میں رہ رہے میانمار سے آئے پناہ گزیں روہنگیا مسلمان

روہنگیا مسلمانوں پر ہوئے ایسے ایسے ظلم

پناہ گزین انورا بیگم بتاتی ہیں کہ برما میں بودھوں نے روہنگیا مسلمانوں پر بہت زیادتی کی۔ یہاں تک کہ اب بھی روہنگیا کو برما میں رہنا مشکل ہو رہا ہے۔ برما میں روہنگیا مسلمانوں کی تقریبا 40 لاکھ کی آبادی تھی۔ قتل عام میں تقریبا ایک لاکھ لوگوں کو مار دیا گیا۔ مسلم بچوں کو اسکول نہیں جانے دیا جاتا ہے۔ حاملہ خواتین کا ہسپتالوں میں علاج نہیں ہوتا۔ زچگی کے دوران انہیں مرنے کے لئے چھوڑ دیا جاتا ہے۔ اسپتالوں میں جہاں بودھوں کے لئے کوئی فیس نہیں ہے وہاں ان سے فیس لی جاتی ہے۔ پولیس اہلکار مسلمانوں کو کبھی بھی جیل میں ڈال دیتے ہیں۔

مسلم وہاں کچھ نہیں بول سکتا۔ کوئی حق نہیں ہے۔ بچے اگر گھروں میں پڑھتے ہیں تو حکومت گھروں میں بھی پابندی لگا دیتی ہے۔ وہاں رہنا بہت مشکل ہے۔

جے جے کالونی میں تین سو سے زائد روہنگیا پناہ گزیں کنبے رہ رہے ہیں جے جے کالونی میں تین سو سے زائد روہنگیا پناہ گزیں کنبے رہ رہے ہیں

انسان کی طرح جینا چاہتے ہیں ہم

برما سے آکر مدن پور كھادر کی جھگیوں میں رہ رہے محمد سليم اللہ کہتے ہیں کہ وہ انسانی زندگی جینا چاہتے ہیں۔ جانوروں کی طرح انہیں برما سے نکال دیا گیا۔ ظلم کئے۔ یہاں بھی وہ جھگیوں میں رہ رہے ہیں۔ نہ تعلیم ہے نہ روزگار نہ اپنا پن۔ بس زندگی کاٹ رہے ہیں۔ ان کے پاس کوئی انسانی حقوق نہیں ہیں۔

ایسے آئے ہندوستان

روہنگیا مسلمانوں نے بتایا کہ جب مار کاٹ زیادہ ہونے لگی تو وہ برما سے سرحد تک آئے۔ وہاں سے ایک ندی میں کشتی چلا کر بنگلہ دیش پہنچے۔ پھر بنگلہ دیش سے بس لے کر بھارت کے بارڈر آئے اور یہاں سے ٹرین لے کر دہلی پہنچے۔ اس دوران کئی بار چیکنگ ہوئی۔

برما میں روہنگیا مسلمانوں کی تقریبا 40 لاکھ کی آبادی تھی۔ قتل عام میں تقریبا ایک لاکھ لوگوں کو مار دیا گیا۔ رائٹرز۔ برما میں روہنگیا مسلمانوں کی تقریبا 40 لاکھ کی آبادی تھی۔ قتل عام میں تقریبا ایک لاکھ لوگوں کو مار دیا گیا۔

برما میں ہو امن تو جائیں گے ملک

روہنگیا مسلم پناہ گزین کہتے ہیں کہ انہیں بھارت میں بھی نہیں رہنا۔ وہ اپنے ملک برما میں رہنا چاہتے ہیں۔ لیکن جب امن ہو جائے گا، انہیں ووٹ کا حق ملے گا۔ دیگر حقوق ملیں گے تب۔

قریب نصف درجن ریاستوں میں ہیں پناہ گزین

دہلی میں تقریباً 800 پناہ گزینوں سمیت جموں، حیدرآباد، پنجاب، یوپی، مغربی بنگال، راجستھان میں ورما سے آئے پناہ گزین رہ رہے ہیں۔ اقوام متحدہ ہائی کمیشن کی رپورٹ کے مطابق ابھی تک قریب 15 ہزار روہنگیا مسلم پناہ گزین بھارت میں رہ رہے ہیں۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز