جموں و کشمیر : سوپور میں چوٹی کاٹنے کے شک میں نوجوان کو زندہ جلانے کی کوشش ، کیس درج

Oct 20, 2017 02:49 PM IST | Updated on: Oct 20, 2017 03:03 PM IST

سری نگر: شمالی ضلع بارہمولہ کے ایپل ٹاون سوپور میں جمعہ کی صبح لوگوں کے ایک ہجوم نے یہ سمجھ کر ایک ذہنی طور پر معذور شخص کو شدید زدوکوب کے بعد آگ کے شعلوں کی نذر کرنے کی کوشش کی، کہ وہ خواتین کے بال کاٹنے والا ہے۔ تاہم ریاستی پولیس نے مذکورہ شخص کو ہجوم کے ہاتھوں مزید نقصان پہنچائے جانے سے بچالیا۔ پولیس سربراہ ڈاکٹر شیش پال وید نے کہا کہ واقعہ میں ملوث افراد کو بخشا نہیں جائے گا۔ انہوں نے اپنے ایک ٹویٹ میں کہا ’سخت کاروائی کی ہدایت جاری ہوچکی ہے۔ قصورواروں کو بخشا نہیں جائے گا‘۔

پولیس نے متاثرہ شخص کی شناخت وسیم احمد تانترے ولد غلام نبی تانترے ساکنہ شاکوارہ حال نوپورہ سوپور کے بطور کردی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ متاثرہ شخص ذہنی طور پر معذور ہے۔ تاہم مقامی لوگوں کی مانیں تو وسیم تانترے نے شراب پی رکھی تھی۔ ادھر سری نگر کے ڈل جھیل علاقہ میں لوگوں نے درگاہ حضرت بل میں فجر نماز کی ادائیگی کے لئے آنے والے ایک نمازی کو ’بال کاٹنے والا‘ سمجھ کر نہ صرف شدید طور پر زدوکوب کیا بلکہ پانی میں ڈبوکر ہلاک کرنے کی بھی کوشش کی ہے۔ دونوں واقعات کی ویڈیوز سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر نمودار ہوگئی ہیں۔ وادی میں گذشتہ 45 دنوں کے دوران نامعلوم افراد کے ہاتھوں خواتین کی جبری بال تراشی کے کم از کم 110 واقعات سامنے آئے ہیں۔

جموں و کشمیر : سوپور میں چوٹی کاٹنے کے شک میں نوجوان کو زندہ جلانے کی کوشش ، کیس درج

ان واقعات کی وجہ سے وادی بھر میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔ مضبوط انٹیلی جنس نیٹورک کے لئے مشہور جموں وکشمیر پولیس جہاں ان واقعات میں ملوث افراد کا تاحال پتہ لگانے میں ناکام ثابت ہوئی ہے، وہیں گذشتہ ڈیڑھ ماہ کے دوران لوگوں کی جانب سے محض شک و شبہ کی بناء پر درجنوں افراد بشمول سیکورٹی فورس اہلکاروں کی شدید پٹائی کے واقعات سامنے آئے۔ سوپور کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس پی) ہرمیت سنگھ مہتا نے نامہ نگاروں کو واقعہ کے حوالے سے بتایا ’ہمیں ایک اطلاع ملی کہ مازبگ اور فروٹ منڈی کے بیچ میں جو علاقہ ہے، وہاں کچھ لوگ جمع ہوئے ہیں اور وہ بال کاٹنے والے ایک شخص کی پٹائی کررہے ہیں۔ یہ پانچ سے آٹھ سو لوگوں پر مشتمل مجمع تھا۔ ایس ایچ او فروٹ منڈی ایک پولیس پارٹی کے ہمراہ وہاں پہنچے ۔

اس کے بعد ایس ایچ او سوپور ، ایس ڈی پی او اور پولیس کی نفری وہاں پہنچی۔ ہم نے وہاں پر ہجوم کو منتشر کیا اور ہمیں معلوم ہوا کہ وہ (لوگ) پکڑے گئے نوجوان کو جلانے اور اس کے اوپر ٹریکٹر چلانے کی کوشش کررہے تھے۔ پولیس کی بروقت کاروائی کی بدولت مذکورہ نوجوان کو بچایا گیا اور اسپتال منتقل کردیا گیا‘۔ انہوں نے کہا ’اس نوجوان کے بارے میں ہمیں معلوم ہوا ہے کہ یہ بنیادی طور پر شاکوارہ بارہمولہ کا رہنے والا ہے اور نوپورہ سوپور میں بھی رہتا تھا۔ ہمیں یہ بھی معلوم ہوا کہ متاثرہ نوجوان ذہنی طور پر معذور ہے اور اِدھر اُدھر پھرتا رہتا ہے‘۔ ایس پی نے کہا کہ قصورواروں کی شناخت کرلی گئی ہے۔

انہوں نے کہا ’ہم نے واقعہ کی نسبت ایف آئی آر درج کرلی ہے۔ سوشل میڈیا کی ویب سائٹس پر کچھ ویڈیوز نمودار ہوئی ہیں جن میں آگ اور لوگوں کو مذکورہ نوجوان کی پٹائی کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔ ہم نے قصورواروں کی شناخت کرلی ہے اور انہیں جلد از جلد گرفتار کیا جائے گا۔ متاثرہ نوجوان نہ شرابی ہے اور نہ اس نے شراب پی رکھی تھی‘۔ ہرمیت سنگھ نے لوگوں سے اپیل کہ وہ قانون کو اپنے ہاتھ میں نہ لیں۔ انہوں نے کہا ’ہم لوگوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ قانون کو اپنے ہاتھ میں نہ لیں۔ اگر لوگوں نے قانون اپنے ہاتھ میں لیا تو ہم سخت سے سخت کاروائی کریں گے۔ کسی کو کوئی شکایت ہے تو وہ تھانے میں آکر اپنی شکایت درج کرائے‘۔

سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) بارہمولہ امتیاز حسین کا سوپور کے واقعہ کے حوالے سے کہنا ہے ’اگر پولیس وسیم کو نہ بچاتی تو (لوگوں) نے اسے زندہ جلا دیا ہوتا۔ وہ شدید طور پر زخمی ہوگئے ہیں اور اسے علاج ومعالجہ کے لئے اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے‘۔ امتیاز حسین کے مطابق وادی میں کوئی بال کاٹنے والا نہیں ہے ۔ بقول ان کے یہ ایک ذہنی صحت کا مسئلہ ہے۔ ایس ایس پی کا کہنا ہے ’کشمیر میں کوئی بال کاٹنے والے نہیں ہیں جن کی آپ کو تلاش ہے۔ یہ ذہنی صحت کا ایک مسئلہ ہے‘۔ ریاستی پولیس نے اپنے آفیشل ٹویٹر اکاؤنٹ پر ایک ٹویٹ میں کہا ’سوپور میں ذہنی طور پر معذور ایک شخص کی بال کاٹنے والا سمجھ کر بے رحمانہ طور پر پٹائی کی گئی۔ پولیس نے مذکورہ شخص کو بچالیا ہے۔ ملزموں کی نشاندہی ہوچکی ہے۔ ان کے خلاف آیف آئی آر درج کرلی گئی ہے‘۔

پولیس ترجمان کا کہنا ہے کہ لوگوں کے ہجوم نے نہ صرف ذہنی طور پر معذور وسیم تانترے کو زندہ جلانے بلکہ اسے ٹریکٹر سے کچلنے کی بھی کوشش کی تھی۔ ترجمان نے تفصیلات فراہم کرتے ہوئے کہا ’پولیس کو اطلاع ملی کہ ہجوم نے فروٹ منڈی علاقہ میں ایک مبینہ بال کاٹنے والے کو پکڑ لیا ہے۔ پولیس کی ایک پارٹی فوری طور پر موقع پر پہنچی اور دیکھا کہ لوگوں کا ہجوم ایک شخص کی بے رحمانہ طریقے سے پٹائی کررہے تھے۔ ہجوم میں شامل شرپسندوں نے تھوڑی گھاس جلا رکھی تھی اور وہ مذکورہ شخص کو اس کے شعلوں کی نذر کرنے کی کوششیں کررہے تھے۔ کچھ شرپسند ذہنی طور پر معذور شخص کو ٹریکٹر سے کچلنے کی بھی کوشش کررہے تھے‘۔

ترجمان نے کہا کہ پولیس نے مذکورہ کو بچالیا اور بعد ازاں کی شناخت وسیم احمد تانترے ولد غلام نبی ساکنہ شاکوارہ حال نوپورہ سوپور کے بطور کی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وسیم احمد کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ وہ ذہنی طور پر معذور ہے۔ ترجمان نے مزید کہا ’متاثرہ شخص کو فوری طور پر سب ضلع اسپتال سوپور اور بعدازاں تشویشناک حالت میں سری نگر منتقل کیا گیا۔ ایف آئی آر درج کی جاچکی ہے اور ملزمان کی شناخت کا عمل بھی مکمل کیا جاچکا ہے‘۔ قابل ذکر ہے کہ وادی خواتین کے بال کاٹنے کا پہلا واقعہ 4 ستمبر کی شام کو ضلع اننت ناگ کے ککرناگ میں پیش آیا۔ تب سے لیکر اب تک وادی میں خواتین کی پراسرار طور پر بال کاٹنے کا سلسلہ تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہا ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز