اسمبلی انتخابات 2017 : سبھی پارٹیوں نے کیا اپنی اپنی جیت کا دعوی ، پڑھئے ، کس نے کیا کہا ؟

Jan 04, 2017 07:31 PM IST | Updated on: Jan 04, 2017 07:34 PM IST

نئی دہلی:اترپردیش سمیت پانچ ریاستوں میں اسمبلی انتخابات کا اعلان ہونے کے ساتھ ہی ساتھ تمام سیاسی پارٹیاں حرکت میں آگئی ہیں ۔ سبھی پارٹیوں نے الیکشن کمیشن کے اعلان کا خیر مقدم کیا ہے ۔ ساتھ ہی ساتھ سبھی پارٹیوں نے اپنی اپنی جیت کے دعوی بھی کرنے شروع کردئے ہیں۔

بھارتیہ جنتا پارٹی نے پانچ ریاستوں کے اسمبلی انتخابات کے اعلان کا خیر مقدم کرتے ہوئے اعتماد کا اظہار کیا ہے کہ وہ ان تمام ریاستوں میں مکمل اکثریت سے حکومت بنائے گی۔ بی جے پی کے قومی ترجمان شاہنواز حسین نے ٹویٹ کر کے کہاکہ بی جے پی اترپردیش، پنجاب، گوا، منی پور اور اتراکھنڈ میں حکومت بنائے گي۔ ان پانچوں ریاستوں میں اسمبلی انتخابات ہونے جا رہے ہیں۔

اسمبلی انتخابات 2017 : سبھی پارٹیوں نے کیا اپنی اپنی جیت کا دعوی ، پڑھئے ، کس نے کیا کہا ؟

بی جے پی کے 'سب کا ساتھ-سب کا وکاس ایجنڈے کی وکالت کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ" اتر پردیش کے عوام کو طویل عرصے سے ترقی اور گڈ گورنینس سے محروم رکھا گیا۔ اب وہ اترپردیش میں 'سب کا ساتھ، سب کا وکاس چاہتے ہيں۔ انتخابات میں امیدواروں کے کالے دھن کے استعمال پر روک لگانے کے کمیشن کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے بی جے پی کے لیڈر نے کہاکہ ' بیس ہزار روپے سے زیادہ چندہ چیک سے لینے سے متعلق کمیشن کے فیصلے سے الیکشن میں کالے دھن کے استعمال پر روک لگے گی"۔

کانگریس کا دعوی ، پنجاب میں 70 سے زیادہ سیٹیں ملنے کا یقین

ادھر پنجاب کانگریس کے صدر کیپٹن امرندر سنگھ نے الیکشن کمیشن کی طرف سے ریاست میں ایک مرحلے میں اسمبلی انتخابات کرانے کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے آج دعوی کیا کہ ان کی پارٹی 70 سے زیادہ سیٹوں پر فتح حاصل کرے گی۔ کیپٹن سنگھ نے یہاں انتخابات کے اعلان پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شرومنی اکالی دل اور عام آدمی پارٹی (آپ) سے کانگریس کا کوئی مقابلہ نہیں ہے اور بادل حکومت کی بدعنوانی اور بدانتظامی کے سلسلے میں لوگوں میں غصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اکالی دل حکومت نے ریاست میں کاروبار، صنعت اور زراعت کو مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے جس کی وجہ سے بے روزگاری سنگین مسئلہ بن گئی ہے۔آپ لیڈر اروند کیجریوال ریاست کے باہر کے ہونے کی وجہ سے انتخابات میں یقینی شکست سے بچ نہیں سکتے۔ انہوں نے کہا کہ دہلی میں آپ حکومت کی ناکامی کی وجہ سے پنجاب میں لوگوں کا اس پارٹی پر کوئی بھروسہ نہیں رہ گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بدعنوانی، ٹکٹوں کی فروخت وغیرہ سنگین الزامات کے سبب آپ کی ریاست میں کوئی بنیاد نہیں بچی ہے۔ یہاں تک کہ مسٹر کیجریوال پنجاب میں الیکشن لڑنے سے ڈرتے ہیں۔ انہوں نے مسٹر کیجریوال پر مسٹر بادل کے ساتھ ساز باز کرنے اور کئی سیٹوں پر جان بوجھ کر کمزور امیدوار کو کھڑا کرکے ان کی مدد کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ اس سے پتہ چلتا ہے کہ آپ پنجاب میں ختم ہو چکی ہے۔

مایاوتی نے اعلان کا خیر مقدم کیا ، تاہم کہا: الیکشن کمیشن کے لئے اترپردیش میں غیر جانبدارانہ انتخابات کرانا ایک چیلنج

ادھر اترپردیش میں فروری اور مارچ میں سات مرحلوں میں ہونے والے اسمبلی انتخابات میں سماج وادی پارٹی کی حکومت کے ذریعے سرکاری مشینری کے بیجا استعمال کا اندیشہ ظاہر کرتے ہوئے بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کی صدر مایاوتی نے کہا کہ ریاست میں الیکشن کمیشن کے لئے غیر جانبدارانہ نتخابات کرانا ایک چیلنج ثابت ہوگا۔ اترپردیش میں الیکشن کمیشن کے ذریعے سات مرحلوں میں اسمبلی انتخابات کرانے کا خیر مقدم کرتے ہوئے مایاوتی نے کہا کہ بی ایس پی اترپردیش، اتراکھنڈ اور پنجاب میں اپنے بل پر الیکشن لڑے گی اور کسی بھی پارٹی کے ساتھ اتحاد یا سمجھوتہ نہیں کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ سماج وادی پارٹی کی حکومت کے دوران جرائم عروج پر ہیں۔ ریاست میں ہر طرف افراتفری کا ماحول ہے اور جنگل راج قائم ہے۔ الیکشن کمیشن کے سامنے ریاست میں آزادانہ ، غیر منصفانہ اور پر امن انتخابات کرانا ایک چیلنج ثابت ہوگا۔ مایاوتی نے کہا کہ بی ایس پی ڈسپلن کی پابند ایک سیاسی پارٹی ہے اور انتخابات کے دوران انتخابی ضابطہ عمل پر عملدر آمد کو یقین بنانے کی وہ اپنی سطح پر کوشش کرے گی۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز