تیسرے مرحلے کیلئے ووٹنگ کل ، پڑھئے یوپی کی سیاسی بساط پر اب تک کیسا رہا ہے مسلمانوں کا دبدبہ

Feb 18, 2017 09:21 PM IST | Updated on: Feb 18, 2017 09:21 PM IST

لکھنو : یوپی کی سیاست میں مسلمانوں کی حصہ داری ہمیشہ سے اہم رہی ہے۔ تقریبا 18 فیصد ووٹ ہونے کی وجہ سے یوپی کی سیاسی بساط پر مسلمانوں کی دعویداری ہمیشہ سے ہی مضبوط رہی، لیکن 2012 میں پہلی مرتبہ انہیں اپنی آبادی کے حساب سے نمائندگی ملی۔

سال 2012 میں سبھی جماعتوں سے مجموعی طور پر 64 مسلم امیدوار کامیاب ہوئے اور اسمبلی پہنچے۔ اس طرح پہلی مرتبہ مسلمانوں کی نمائندگی اسمبلی میں 17.12 فیصد رہی ۔ اس مرتبہ بھی بی جے پی کو چھوڑ کر بی ایس پی، ایس پی کانگریس اور دیگر جماعتوں نے مسلم امیدواروں پر داؤ کھیلا ہے۔

تیسرے مرحلے کیلئے ووٹنگ کل ، پڑھئے یوپی کی سیاسی بساط پر اب تک کیسا رہا ہے مسلمانوں کا دبدبہ

جہاں مایاوتی نے 2007 کے برہمن اور دلت کارڈ کے بعد اس مرتبہ دلت اور مسلم فارمولہ کو آزماتے ہوئے تقریبا 100 مسلم امیدواروں کو میدان میں اتارا ہے ، تو وہیں حکمران ایس پی اور اس کی اتحادی کانگریس نے بھی تقریبا 75 مسلم امیدوار میدان میں کھڑے کئے ہیں۔ یہ پہلی مرتبہ ہے جب مایاوتی نے اتنی بڑی تعداد میں مسلم امیدوار کو ٹکٹ دیا ہے۔ پچھلی مرتبہ انہوں نے 87 مسلم امیدوار میدان میں اتارے تھے۔

ایمرجنسی کے بعد مسلسل بڑھی مسلمانوں کی نمائندگی

آزادی کے بعد ہوئے چھ انتخابات کو چھوڑ دیا جائے ، تو ایمرجنسی کے بعد مسلمانوں کی نمائندگی میں مسلسل اضافہ ہوا ۔ 1974 میں مسلمانوں کی اسمبلی میں نمائندگی ساڑھے پانچ فیصد سے اچانک بڑھ کر 11.5 فیصد ہو گئی ۔

تاہم 1991 میں بی جے پی کی طرف سے رام مندر اور بابری مسجد تنازع کی وجہ سے مسلمانوں کی نمائندگی میں کچھ کمی دیکھنے کو ملی، لیکن 2002 سے ایک مرتبہ پھر ان کا فیصد بڑھ گیا۔ 2012 کے اترپردیش انتخابات میں اپنی آبادی کے برابر ہی نمائندے اسمبلی میں پہنچ کر تمام سیاسی جماعتوں کو چونکا دیا۔

یہی وجہ ہے کہ اس مرتبہ بھی بی جے پی کو چھوڑ کر تمام سیاسی پارٹیاں مسلم امیدواروں کو ٹکٹ کی دوڑ میں نظر آئیں ۔ پہلے اور دوسرے مرحلہ کی ووٹنگ ہو چکی ہے ، جہاں مسلمانوں کی طاقت اچھی ہے۔ تیسرے مرحلے کی ووٹنگ کل ہے ، جس کی تمام تیاریاں کر لی گئی ہیں۔ مگر اب یہ 11 مارچ کو ہی پتہ چلے گا کہ اس مرتبہ کتنے مسلم رکن اسمبلی اسمبلی پہنچتے ہیں۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز