راہل گاندھی نے یوپی اے کے اقتدار میں ہوئی آبروریزی پر کیوں نہیں نکالا تھا کینڈل مارچ : جاوڑیکر

بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے جموں و کشمیر کانگریس کے صدر غلام احمد میر کے کٹھو عہ عصمت دری معاملے پردیئے گئے بیان کے پس منظر میں کانگریس صدر راہل گاندھی سے ان کو عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے۔

Apr 15, 2018 09:06 PM IST | Updated on: Apr 15, 2018 09:06 PM IST

نئی دہلی : بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے جموں و کشمیر کانگریس کے صدر غلام احمد میر کے کٹھو عہ عصمت دری معاملے پردیئے گئے بیان کے پس منظر میں کانگریس صدر راہل گاندھی سے ان کو عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے۔ مسٹر جاوڈیکر نے مسٹر راہل گاندھی کی طرف سے کٹھو عہ معاملے پر دارالحکومت میں آدھی رات کو کینڈل مارچ نکالنے پر بھی طنز کستے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے نربھیا عصمت دری میں کینڈل مارچ کیوں نہیں نکالا تھا اور سکھ فسادات میں خواتین کے ساتھ ظلم و زیادتی کی مخالفت میں وہ کیوں خاموش ہیں؟

مرکزی وزیر تعلیم اور بی جے پی کے سینئر لیڈر پرکاش جاوڈیکر نے یہاں ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ مسٹراحمد میر نے اس معاملے میں مقامی عوام کے حوالے سے کہا ہے کہ اس عصمت دری کا مجرم باہری ہے اور اس کی تحقیقات سیاست آمیز ہے اور اس معاملے کو رفع دفع کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ بی جے پی لیڈر نے دعوی کیا کہ مسٹر احمد میر مقامی عوام کے حوالے سے اپنی بات کہہ رہے ہیں۔

راہل گاندھی نے یوپی اے کے اقتدار میں ہوئی آبروریزی پر کیوں نہیں نکالا تھا کینڈل مارچ : جاوڑیکر

پرکاش جاوڑیکر ۔ فائل فوٹو

انہوں نے کہا کہ ریاست میں بی جے پی کے دو وزراء نے مقامی لوگوں کے جذبات کے تقاضے پرہی ایک ریلی میں شرکت کی تھی جس کے بعد کانگریس اور میڈیا کے ہنگامے کی وجہ سے پارٹی نے اپنے دونوں وزراء سے استعفی لے لیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ مسٹر احمد میر نے بھی اسی مقامی جذبے کے سہارے اپنی بات کہی ہے تو مسٹر گاندھی ان پر کارروائی کیوں نہیں کرتے اور انہیں عہدے سے کیوں نہیں ہٹاتے؟۔

مسٹر جاوڈیکر نے کہا کہ مسٹر راہل گاندھی نے کٹھو عہ معاملے میں تو کینڈل مارچ نکال دیا لیکن نربھیا کے معاملے میں بھی جب سارا ملک اسی طرح سراپا احتجاج بنا ہوا تھا، تو وہ کہاں گئے تھے؟ سکھوں کے خلاف 1984 کے فسادات کے دوران خواتین پر ظلم و زیادتی کے وقت وہ کہاں تھے؟ ۔ بی جے پی لیڈر نے کہا کہ کٹھوعہ کیس کے ملزمان کی پیشی کو مبینہ طور پر روکنے والے بی ایس سلاتھيا 2014 کے لوک سبھا انتخابات میں راجیہ سبھا میں حزب اختلاف کے رہنما غلام نبی آزاد کے انتخابی ایجنٹ تھے۔ کٹھوعہ معاملہ انتہائی حساس ہے اور اس میں اس طرح کی کارروائی قابل مذمت ہے۔ مسٹر آزاد کو مسٹر سلاتھيا کے اس کام کے لئے ملک سے معافی مانگنی چاہئے۔

Loading...

Loading...

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز